fbpx

اس عورت پر اعتبار مت کرنا جو تیرے سامنے یہ حرکت کرے

اناالحق منصور کے لب پر نور تھا میں خدا ہوں فرعون کے لب پر جھوٹ تھا جس میں خوشبو میں کیوں نہ ہو جب اس پر موت آتی ہے تو اس میں بدبو پیدا ہو جاتی ہے دنیا کی جھوٹی تعریفوں سے بزرگوں کی کڑوی باتیں زیادہ مووی ایک دفعہ مولانا جلال الدین رومی کے پاس ایک مریض آیا مولانا نے

پوچھا کیسی گزر رہی ہے مری دولہا مل جائے تو شکر کرتے ہیں نہ ملے تو سفر مولانا نے فرمایا ایسا تو بغداد کے کتے بھی کرتے ہیں آپ کی ہے نہ ملے تو شکر چاندنی رات میں چاند کو کتوں اور ان کے بھونکنے کا کوئی خوف نہیں ہوتا ہے اور چاند اپنی روشنی بکھیر کر اپنا کام کر رہا ہے جب کسی کو تیری فکر نہ رہے تو پھر تو اپنا کام خود کر لیا کر اولیاء اللہ کی قوت بھی منجانب اللہ ہوتی ہے یہ کسی مادی چیز کی محتاج نہیں ہوتیآج ہم بھی نورانی ہوتے ہیں اور وہ انسانی روح اور فرشتوں سے بڑھے ہوئے ہوتے ہیں شعر کی طرح بہادری کا دعوی کرنے سے بہتر ہے کہ تم اپنے نفس پر قابو پا لو

جب چھوڑ کے چلے جاتے ہیں تب پتہ چلتا ہے کہ صرف اللہ ہی کافی ہے وہ بھی کیا آنکھ ہے جس نے بنایا ہو امتحانوں میں رسوائی کے سوا اس کے لئے کچھ بھی نہیں ہےاس عورت پر اعتبار مت کرنا جو تیرے سامنے رونے لگ جائے روتی ہوئی عورت پر غلطی سے بھ بھروسہ مت کرنا یہ اس کا ایک بچایا ہوا چال ہے جو اس میں پھنس گیا اس کے لئے زبردست نقصان ہے تعلیم دینا تو انسانی فیل ہے لیکن طالب کے اعضا کا اثر قبول کرنا اور اس میں قبولیت کی صلاحیت پیدا کرنا صرف اللہ ہی کا کام ہے یاد رکھو کہ تم اپنے نفس کو دودھ چھڑا دو یعنی اپنی نفسانی خواہشات ترک