fbpx

انسانی تکبر اور اللہ کی ناراضگی

تکبر ایک بُری روش اور دل کی صفاتِ ذمیمہ میں سے ہے جن کا اثر عملاً ظہور میں آتا رہتا ہے تکبر یہ ہے کہ انسان خود کو دوسروں سے بہتر اور فائق سمجھے اور اسی خیال سے اُس کے دل میں غرور پیدا ہو۔ رسول اللہ صلیؐ نے فرمایا متکبر وہ ہے جو اللہ کے واسطے گردن نہ جھکائے اور دوسرے لوگوں کو حقارت کی نظر سے دیکھے۔ آپؐ دعا فرمایا کرتے تھے:۔’’

اے اللہ میں تکبر سے تیری پناہ چاہتا ہوں‘‘۔جب انسان میں غرور پیدا ہوتا ہے تو وہ دوسروں کو چشمِ حقارت سے دیکھتے ہوئے کسی کو خود سے ملاقات کے لائق بھی نہیں سمجھتا۔ جیسا کہ اکثر حکمران، وزراء، سرکاری حکام اور امراء ہر شخص کو اجازت نہیں دیتے کہ کوئی ان کے درپہ آئے۔ یہاں تک کہ کسی کے سلام کا جواب دینا بھی مناسب نہیں سمجھتے۔
امید ہے کہ بلاول بھارتی ایجنڈے کا حصہ نہیں بنیں گے، شاہ محمود قریشی
تکبر کے مختلف درجات ہیں۔ جن میں پہلا درجہ اللہ سے تکبر کا ہے۔ دوسرا درجہ رسول اللہؐ سے تکبر کا ہے۔ جس طرح کفارِ قریش نے کہا تھا کہ ہم اپنے جیسے ایک بشر کی اطاعت نہیں کریں گے۔اس کا ذکر سورہ یونس کی دوسری آیت میں آیا ہے۔ تیسرا درجہ وہ تکبر ہے جو آدمی اللہ کے بندوں کے ساتھ کرے ایسا شخص بارگاہِ الٰہی میں کس قدر معتوب ہو گا۔

اس کا اندازہ اس حدیث قدسی سے لگایا جاسکتا ہے جس میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:۔ ’’شان اور بزرگی میرا لباس ہے جو ان دونوں صفارت میں میرا مقابلہ کرے گا۔ میں اسے ہلاک کردوں گا۔‘‘پس بندوں سے تکبر کرنا سوائے اللہ بزرگ و برتر کے کسی اور کو شایان نہیں۔ جس نے تکبر کیا گویا اس نے اللہ سے مقابلہ کیا۔ تکبر کا اظہار سب سے پہلے شیطان نے کیا تھا۔ اُس نے آدمؑ کے مقابلے میں اپنے آپ کو بہتر سمجھا۔ ’’اُس نے کہا میں اس سے بہتر ہوں‘ تو نے مجھے آگ سے پیدا کیا ہے اور اسے مٹی سے بنایا ہے۔‘‘(الاعراف 12:7)

جب ایتھنز میں بغاوتوں نے سر اٹھایا ۔۔۔۔
چنانچہ اسی بنا پر شیطان کو مردود قرار دے دیا گیا اور فرمایا :۔ ’’یہاں سے اُتر جا تجھے کوئی حق نہیں پہنچتا کہ تو یہاں تکبر کرے نکل جا بے شک تو ذلیل و خوار لوگوں میں سے ہے‘‘۔(الاعراف 13:7)

متکبرین انکار حقیقت کے ساتھ ساتھ اپنی بڑائی کے خیال سے شیخیاں بگھار نے پر ہی اکتفا نہیں کرتے بلکہ اس کے ساتھ ساتھ دوسروں کی تحقیر کرنا بھی ضروری سمجھتے ہیں اور جو نعمت انہیں حاصل ہوتی ہے اُسے اللہ کا فضل سمجھنے اور اس کا شکر گزار ہونے کی بجائے اسے اپنا خاندانی حق اور اپنی ذاتی قابلیت کا ثمرہ خیال کرتے ہوئے اس پر اتراتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ خلقِ خدا ان کے پاؤں پر لوٹے اور ان کی محتاج اور دست نگر ہو اور یہ ان کی مجبوریوں سے فائدہ اُٹھائیں یہی لوگ اپنی خواہشات کے غلام ہیں، حالانکہ قرآن مجید میں ہے،’’جو اپنی خواہشِ نفس کے پیچھے چلا اس کی مثال کُتے کی سی ہے۔‘‘(الاعراف 176:7جزو)

اپنا ذہن کامیابی کی جانب رکھیے
اللہ تعالیٰ ہر غرور کرنے والے اور جابر کے دل پر مہر لگا دیتا ہے نیز فرمایا: مَیں اس سے جو میرا اور تم سب کا رب ہے ہر مغرور و متکبر کے شر سے پناہ مانگتا ہوں جو روز حساب پر ایمان نہیں رکھتا۔‘‘
غرور و تکبر کے بہت سے اسباب ہیں، لیکن بالعموم لوگ ان چیزوں پر تکبر کرتے ہیں۔
*۔۔۔ تکبر کا پہلا سبب علم ہے جب کوئی عالم اپنے علم کی وجہ سے دوسروں کو اپنے سامنے جاہل اور جانوروں کی طرح خیال کرتا ہے تو یہ علم کا تکبر ہے۔ اگر کوئی اس کی تکریم نہ کرے تو حیران رہ جاتا ہے۔ اگر کسی کو ملاقات کا موقع دے دے تو اس پر احسان کرتا ہے اسی لئے رسول اللہ ؐ نے فرمایا:۔ ’’افۃ العلم الخیلاء‘‘ ’’یعنی تکبر علم کی آفت ہے‘‘۔

گوتم بدھ کی تعلیمات کے باعث لاکھوں ہندو بھکشو بن گئے
*۔۔۔تکبر کی دوسری وجہ وہ تکبر ہے جو بعض عابدوں اور زاہدوں میں پایا جاتا ہے۔ ان میں سے بعض آخرت کے معاملے میں خود کو حق تعالیٰ کا مقرب گردانتے ہیں۔ وہ ازروئے تکبر چاہتے ہیں کہ اللہ کے بندے اُن کی خدمت میں لگے رہیں وہ عبادت تو اللہ کی کرتے ہیں اور اس کا احسان دوسروں پر رکھتے ہیں۔ ایسے عابدوں کی عبادت تکبر کے باعث ضائع ہوجاتی ہے۔

*۔۔۔ تکبر کا تیسرا سبب نسب اور خاندان کا تکبر ہے وہ یہ خیال کرتے ہیں کہ دوسرے تمام لوگ ان کے غلام اور محکوم ہیں حضرت ابو ذر غفاریؓ فرماتے ہیں کہ ’میرا ایک شخص سے جھگڑا ہو گیا تو میں نے اُسے حبشن کے بیٹے کہہ کر مخاطب کیا رسول اکرمؐ نے یہ سُن کر مجھ سے فرمایا:۔’’اے شخص مت بھول کہ کسی گوری کے بیٹے کو کالی کے بیٹے پر فضیلت نہیں‘‘۔ یہ ارشاد سُن کر مَیں ڈر گیا فوراً اُس شخص کے پاس جاکر کہا اے شخص اُٹھ اور اپنا پاؤں میرے رخسار پر رکھ تاکہ میرے قول کا بدلہ ہو جائے‘‘۔ حضرت ابو ذر غفاری کا عاجزی کا اظہار اُمت کے لئے دعوتِ فکر ہے۔

تریا چلتر ۔۔۔۔ ”اک حسیں شام کو دل میرا کھو گیا“
*۔۔۔ چوتھا، حسن و جمال کا تکبر بالعموم عورتوں میں ہوتا ہے ایسے تکبر کے اظہار کو جناب رسول اللہؐ نے بدگوئی سے تعبیر فرمایا ہے۔
*۔۔۔ تکبر کا پانچواں سبب مال و دولت کا گھمنڈ ہے، جیسا کہ قرآن حکیم میں دو آدمیوں کا واقعہ مذکورہ ہے کہ ان میں سے ایک نے ازراہِ تکبر کہا:’’مَیں تجھ سے مال دولت میں زیادہ ہوں سو تجھ سے زیادہ عزت والا ہوں‘‘۔ (الکھف)
*۔۔۔تکبر کا چھٹا سبب زور اور طاقت کا تکبر ہے جو طاقتور ،کمزوروں اور ضعیفوں پر کرتے ہیں۔

*۔۔۔ساتواں سبب وہ تکبر ہے جو ماتحتوں ، ملازموں، نوکروں، غلاموں ، کنیزوں، مریدوں، دوستوں اور مددگاروں کی کثرت کے باعث ہو۔
ستاروں کی روشنی میں آپ کا آئندہ ہفتہ کیسا گزرے گا؟
اسلام نے بتا دیا ہے کہ ان میں سے کوئی چیز بھی فخرو غرور کا ذریعہ نہیں، بلکہ ’’تم میں سے اللہ کے نزدیک زیادہ عزت والا وہ ہے جو زیادہ پرہیز گار ہے۔‘‘(الحجرات 13:49 جزو)
فرمایا:۔’’زمین میں اکڑ کر نہ چلنا کہ اللہ تعالیٰ کسی فخر جتانے والے خود پسند کو پسند نہیں کرتا‘‘ (لقمان 18:31جزو)
حضرت عبداللہ بن مسعود سے روایت ہے کہ:’’جس شخص کے دل میں ذرہ برابر بھی تکبر ہوگا وہ جنت میں داخل نہ ہوگا‘‘(مشکوٰہ المصابیح)

ایک اور حدیث میں ہے:’’دوزخی بدگو، حرام خور اور متکبر کو کہتے ہیں‘‘(مسلم)
ان احکامات کو ذہن نشین کرنے کے بعدا نسان کو چاہئے کہ اللہ تعالیٰ کو پہچانے کہ عظمت و بزرگی اُسی کو سزا وار ہے اس کے بعد خود کو پہچانے۔ قرآن پاک میں ہے: ’’انسان مارا جائے یہ کیسا ناشکرا ہے اسے اللہ نے کس چیز سے بنایا۔ نطفے سے بنایا پھر اس کا اندازہ مقرر کیا۔ پھر اس کے لئے راستہ آسان کردیا۔ پھر اسے موت دی۔ سو اُسے قبر میں پہنچایا۔ (عبس 17:80 تا 21)

ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے انسان کو اس کی ابتداء اور انتہا دونوں بتا دی ہیں اور یہ کہ آخر کار مرجائے گا نہ سماعت رہے گی نہ بصارت، نہ تخت نہ تاج، نہ جسم نہ جان بلکہ مرنے کے بعد ایسا بدبو دار ہوجائے گا کہ سب اس کو دیکھ کر اپنی ناک بند کرلیں گے اور کیڑوں مکوڑوں کی خوراک بنے گا اور رفتہ رفتہ خاک ہوجائے گا ۔اگر خاک ہی رہتا تو غنیمت تھی مگر ایسا بھی نہ ہوگا بلکہ قیامت کے روز قبر سے اُٹھایا جائے گا۔ جہاں پھٹے ہوئے آسمانوں ، گرتے ہوئے ستاروں کو دیکھے گا۔ فرشتے اس کے ہاتھ میں نامہ اعمال دیں گے۔ تمام عمر جو بُرے کام کئے ان کو دیکھتا ہوگا۔ اس وقت کہے گا کاش میں سُؤر یا کُتا ہوتا تو خاک ہوجاتا کہ وُہ عذاب سے محفوظ ہیں۔ پس جو شخص آخرت میں سُؤر یا کُتے سے بھی بدتر ہونے کی خواہش کرے اُس کا تکبر کرنا کیسا ہے؟