fbpx

ایسا عمل جو جنت میں داخل کر دے

سیدنا) معاذ (بن جبل رضی اللہ عنہ) سے روایت ہے کہ میں نے کہا: یا رسول اللہ! مجھے ایسا عمل بتائیں جو مجھے جنت میں داخل کر دے اور (جہنم کی) آگ سے دُور کردے۔ آپ (ﷺ) نے فرمایا: یقینا تُو نے بڑی (اہم) بات کے بارے میں پوچھا ہے اورجس پر اللہ تعالیٰ اسے آسان فرمائے تو اُس کے لئے (بہت) آسان ہے۔ اللہ کی عبادت کر اور اُس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ کر، نماز قائم کر اور زکوٰۃ ادا کر، رمضان کے روزے رکھ اور (اللہ کے) گھر کا حج کر۔

پھر آپ (ﷺ) نے فرمایا: کیا میں تجھے خیر کے دروازے نہ بتادوں؟ روزہ ڈھال ہے، گناہوں کو صدقہ اس طرح ختم کردیتا ہے جس طرح پانی آگ کو بجھا دیتا ہے، اورآدمی کا آدھی رات کو( نفل)نماز پڑھنا۔ پھر آپ نے (یہ آیات) تلاوت فرمائیں: ’’اُن کے پہلو بستروں سے الگ رہتے ہیں، وہ اپنے رب کو خوف و اُمید کے ساتھ پکارتے ہیں اور ہم نے اُنہیں جو رِزق دیااُس میں سے خرچ کرتے ہیں۔ کوئی شخص نہیں جانتا کہ اُن کے لئے کونسی (نعمتیں) چھپا کر رکھی گئی ہیں جن میں اُن کی آنکھوں کی ٹھنڈک ہے۔ یہ بدلہ ہے اُس کا جو یہ اعمال کرتے تھے۔‘‘ (سورۃ السجدۃ: ۱۶،۱۷)

پھر آپ (ﷺ) نے فرمایا: کیا میں تجھے تمام اُمور کا سر ستون اورکوہان کی چوٹی نہ بتا دوں؟
میں نے کہا: جی ہاں یا رسول اللہ! ضرور بتائیں۔
آپ (ﷺ) نے فرمایا: امور (دین) کا سر اسلام ہے، اس کا ستون نماز ہے اوراس کے کوہان کی چوٹی جہاد ہے۔
پھر آپ (ﷺ) نے فرمایا: کیا میں تجھے ان سب اُمور کی اصل بنیاد نہ بتا دوں؟

میں نے کہا: ضرور بتائیں یا نبی اللہ!
تو آپ نے اپنی زبان (مبارک) پکڑ کر فرمایا: اسے روک لے۔
میں نے پوچھا: ہم جو باتیں کرتے ہیں کیا ان کا بھی مواخذہ ہوگا؟
آپ (ﷺ) نے فرمایا: اے معاذ! تیری ماں تجھے گم پائے (یعنی اللہ تجھ پر رحم کرے) زبانی (فضول) باتیں ہی لوگوں کو(جہنم کی) آگ میں منہ یا نتھنوں کے بل گراتی ہیں۔

اسے احمد (بن حنبل ۵/ ۲۳۱ ح ۲۲۳۶۶) ترمذی (۲۶۱۶ وقال: ھذا حدیث حسن صحیح) اور ابن ماجہ (۳۹۷۳) نے روایت کیا ہے۔
تحقیق الحدیث: حسن ہے۔