fbpx

بادشاہ اور عجیب خواب

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ کسی ریاست میں ایک بادشاہ اپنی خدمات سے اپنے رعایا کا خاص خیال رکھتا تھا۔ اس بادشاہ کے ساتھ ایک عجیب مسئلہ پیش آیا تھا مسئلہ یہ تھا کہ جب بھی وہ رات کو سوتا تو وہ ایک عجیب و غریب سا خواب ضرور دیکھتا۔ اس نے اپنے خاص وزیر کو بات بتائی کہ اس اس طرح وہ کچھ راتوں سے اس قسم کا خواب دیکھ رہا ہے ۔ وزیر بولا بادشاہ سلامت آپ فکر کیوں کرتے ہیں میں ایک ایسے

خوابوں کی تعبیر کرنے والے شخص کو جانتا ہوں جو منٹوں میں آپ کے خواب کی تعبیر آپ کو بتائے گا۔ بادشاہ اس سے بولا کہ ٹھیک ہے جلد ہی اسے بلاؤ۔ اگلے روز وزیر جب دربار آیا تو اس کے ساتھ ایک درمیانے عمر کا آدمی بھی تھا اس نے بادشاہ کے سامنے جھک کر بادشاہ کو سلام کیا اور پھر بادشاہ کے سامنے کھڑا رہا بادشاہ بولا کہ وزیر کون ہے یہ؟ وزیر بولا بادشاہ سلامت یہ وہی تعبیر نگار ہے جس کے بارے میں کل میں نے آپ کو بتایا تھا۔ بادشاہ بولا کہ خواب ایسا ہے کہ میں اسے درباریوں کے سامنے بیان نہیں کر سکتا لہذا ان کو مہمان خانے میں بٹھا دیں میں کچھ دیر میں آتا ہوں پھر وہاں میں تفصیل سے انہیں اپنا خواب بتاؤں گا۔ وزیر تعبیر کرنے والے شخص کو اپنے ساتھ لے گیا۔ بادشاہ اپنے ضروری مسائل حل کر کے مہمان خانے میں گیا اور تعبیر کرنے والے شخص سے بولا کہ میں روزانہ رات کو ایک عجیب خواب دیکھتا ہوں۔۔ تعبیر نگار بولا جی وہ کونسا؟ بادشاہ بولا کہ میں دیکھتا ہوں کہ ایک ایک کر کے میرے دانت گر رہے ہیں۔ یہ سن کر تعبیر نگار خاموش ہو گیا بادشاہ نے اس سے پوچھا کیا مطلب ہے اس خواب کا تعبیر بتاؤ۔ تعبیر نگار جانتا تھا کہ اگر بادشاہ کو بتا دیا تو سخت سزا ہوگی لہذا وہ ڈرتے ہوئے بولا کہ بادشاہ سلامت اس خواب کی تعبیر یہ ہے کہ آپ کے سارے اہل و عیال آپ کے سامنے ایک ایک کر کے مر جائیں گے اور صرف آپ ہی باقی رہیں گے یہ سننا تھا کہ بادشاہ طیش میں آگیا اور اس تعبیر نگار سے بولا ک

تمہاری ایسی ہمت کہ ایک بادشاہ کے خاندان کے بارے میں ایسا کچھ سوچو۔ اس نے فوراً سے اپنے خادموں کو بلایا اور ان کو حکم دیا کہ اسے ابھی اسی وقت زندان میں قید کر دو۔ تعبیر نگار گڑگڑاتا رہا مگر بادشاہ نے اس کی ایک نہ مانی۔ کچھ دنوں بعد پھر اسی خواب نے بادشاہ کو ستایا تو وزیر نے بادشاہ کو کہا کہ میں ایک اور تعبیر نگار کو جانتا ہوں حکم ہو تو کل اسے خدمت میں پیش کر دوں؟ بادشاہ بولا ٹھیک ہے۔ اب اگلے دن اڈھیر عمر تعبیر نگار آیا اس کو بھی بادشاہ نے مہمان خانے میں بٹھا دیا اور دربار کے کام حل کر کے اس کے پاس گیا اور اس سے کہا کہ میں ایک خواب دیکھتا ہوں جس سے میرے سارے دانت ایک ایک کر کے گر رہے ہیں۔ بوڑھے تعبیر نگار نے کہا بادشاہ سلامت خوش رہے آپ اپنے خاندان میں سب سے لمبی عمر پائیں گے۔ یہ سن کر بادشاہ بہت خوش ہوا اور اسے بے شمار تحائف دے کر رخصت کیا۔ دوستوں اگر غور کیا جائے تو دونوں تعبیر نگاروں نے ایک ہی تعبیر بیان کی مگر بادشاہ نے ایک کے ساتھ برا سلوک کیا اور دوسرے سے خوش ہو کر اسے تحائف پیش کیے۔ فرق صرف دونوں کے بتانے کے انداز میں تھا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہمارے الفاظ بہت معنی رکھتے ہیں لہذا ایسے الفاظ استعمال کریں جس سے ہمیں بھی نقصان نہ ہو اور وہ دوسروں کا بھی سکون غارت نہ کریں