حکومت پنجاب متبادل انرجی کے لئے سولر ائزیشن کلچر کو فروغ دینے کے لئے اقدامات کررہی ہے

فیصل آباد(محمد اویس )وزیر توانائی پنجاب ڈاکٹر محمد اختر ملک نے کہا ہے کہ حکومت پنجاب متبادل انرجی کے لئے سولر ائزیشن کلچر کو فروغ دینے کے سلسلے میں ہمہ جہت اقدامات کررہی ہے اس سلسلے میں پنجاب کے 15ہزار سکولوں کو سولر انرجی پرمنتقل کیا جارہا ہے جبکہ صوبہ کی پبلک یونیورسٹیز میں بغیر سرکاری فنڈزکے اپنی مدد آپ کے تحت دو،دو میگا واٹ کے سولر انرجی پلانٹس قائم کرنے کے لئے منصوبہ بندی کی جارہی ہے۔انہوں نے یہ بات زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کے کیس آڈیٹوریم میں شعبہ انرجی سسٹم انجینئرنگ کے زیراہتمام گرین انرجی ٹیکنالوجیز پر منعقدہ بین الاقوامی کانفرنس کے افتتاحی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے کہیں۔وائس چانسلر زرعی یونیورسٹی ڈاکٹر محمد اشرف،ایڈیشنل رجسٹرارپاکستان انجینئرنگ کونسل ڈاکٹر ناصر محمود،چائنیز سائنس دان ڈاکٹر چاؤچینگ،ایم پی اے سعید احمد سعیدی،ممبر سینڈی کیٹ چوہدری اشفاق احمد اوردیگر بھی موجود تھے۔ صوبائی وزیر نے کہا کہ تعلیمی اداروں کو سولر انرجی پر منتقل کرنے سے ہونیوالی بچت تعلیمی سرگرمیوں پر خرچ ہوگی۔انہوں نے کہا کہ ماضی میں حکومتیں ”بجلی بچائیں اپنے لئے قوم کیلئے“ کا نعرہ لگاتی تھیں لیکن ان کی حکومت ”بجلی بنائیں اپنے لئے قوم کیلئے“ کا سلوگن متعارف کروا رہی ہے تاکہ ہر گھر سولر پینلز کے ذریعے اپنی توانائی ضروریات پورے کرنے کو رواج دے سکے۔انہوں نے بتایا کہ پنجاب میں تحریک انصاف کی حکومت عمران خان کی مخلص‘ دیانتدار اور ویژنری قیادت میں 9بڑے ہسپتال اور 6نئی جامعات قائم کر رہی ہے جبکہ 31منی ہائیڈرل پوائنٹس سمیت تونسہ بیراج پر 135میگاواٹ بجلی منصوبے کیلئے ٹینڈرجاری کر دیئے گئے ہیں جس سے عوام کو سستی اور ماحول دوست بجلی مہیا ہوگی۔ انہوں نے بتایا کہ 8ہزار سکولوں کوسولر انرجی پر منتقل کرنے کا عمل دسمبر تک مکمل ہوجائے گا۔انہوں نے انکشاف کیا کہ لاہور سمیت صوبے کی 9میونسپل کارپوریشنزسالڈ ویسٹ سے بجلی پیدا کرنے جا رہے ہیں جس سے ایک طرف کچرے کو زمین میں دبانے سے زیرزمین پانی کی آلودگی کو روکنے میں مدد ملے گی تو دوسری جانب ماحول دوست اور سستی بجلی پیدا ہونے سے توانائی کے مسائل بھی کم ہونگے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ حکومت نے توانائی بحران ختم کرنے کیلئے ماحول دوست اور قابل تجدید منصوبوں کے بجائے ملک میں فرنس آئل اور برآمدی کوئلے سے حاصل ہونیوالی مہنگی بجلی کے منصوبے لگاکر عوام اور حکومت کو اربوں روپے کے گردشی قرضے کے چنگل میں پھنسادیا۔صوبائی وزیر نے کہا کہ جرمنی 80ہزار میگا واٹ بجلی سولر سے پیدا کر رہا ہے لہٰذا ہمیں بھی اپنی چھتوں اور کھلے میدانوں میں سولر پینل نصب کرکے اس موقع سے فائدہ اٹھانا چاہئے۔انہوں نے اہم موضوع پر سیمینار کے انعقاد کو سراہا اور کہا کہ حکومت پنجاب توانائی کے متبادل منصوبوں کے قیام کے لئے نجی شعبے کو ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی۔ وائس چانسلرزرعی یونیورسٹی پروفیسرڈاکٹر محمد اشرف نے کہاکہ توانائی‘ ماحولیات‘ موسمیاتی تبدیلی‘ فوڈ سیکورٹی ایسے معاملات ہیں جن پر ہر بین الاقوامی فومرز پر بات ہوتی ہے اور پاکستان میں گزشتہ دہائیوں کے دواران پیدا ہونیوالے توانائی بحران کی وجہ سے آج ہزاروں سکول‘ کالجز اور جامعات کو سولرائزڈ کیا جا رہا ہے تاکہ سستی اور ماحول دوست بجلی پیدا کرکے توانائی کی ضروریات پوری کی جا سکیں۔ انہوں نے چین کی مثال دیتے ہوئے بتایا کہ وہاں شہروں کے سیوریج فضلہ سے بائیو گیس پلانٹس چلائے جا رہے ہیں لہٰذا وہ سمجھتے ہیں کہ پاکستان میں بھی اس ٹیکنالوجی کو ترجیحی طو رپر اپنانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان میں سولرتوانائی کے مواقع دنیا کے بیشتر ممالک سے زیادہ ہیں کیونکہ یہاں سورج کی روشنی کی شدت فی کس 1600سے 1700مائیکرومول پر میٹرسکوائرموجود ہے جسے بروئے کار لاکر ہزاروں میگاواٹ بجلی پیدا کی جا سکتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ نوبل انعام کے ممکنہ اُمیدوار ڈاکٹر ڈینئل کسیرا نے ایسا مصنوعی پتہ تیار کیا ہے جو ہائیڈروجن اور سن گیس کی تیاری کی بنیاد بنے گا اور وہ توقع رکھتے ہیں کہ اگر اس ہدف کو کامیابی سے حاصل کر لیا گیا تو توانائی کے شعبہ میں نئی جہتیں متعارف ہونگی۔ انہوں نے بتایا کہ ہم زمین کی ذرخیزی کیلئے انتہائی ضروری گوبر کھادسے بائیو گیس پلانٹس چلا کر زمین میں نامیاتی مادوں کی کمی کو بڑھا رہے ہیں لہٰذ ہمیں چین کی طرز پر بائیو گیس چلانے کیلئے سیوریج فضلہ کو بروئے کار لانا چاہئے۔ پاکستان انجینئرنگ کونسل میں ایڈیشنل رجسٹرار ایکریڈی ٹیشن ڈاکٹر ناصر محمود خاں نے کہا کہ ہرچندپاکستان گزشتہ تین دہائیوں کے دوران توانائی کے بحران کا شکار رہا ہے تاہم اس چیلنج کی وجہ سے ہمیں سولر سمیت دوسرے قابل تجدید ذرائع توانائی پر تحقیق کے ساتھ ساتھ مختلف جامعات میں انرجی سٹم انجینئرنگ کے ڈگری پروگرام شروع کرکے باصلاحیت افرادی قوت بھی تیار کر لی ہے جو آنیوالے مہینوں میں ملک سے توانائی بحران کوہمیشہ کیلئے ختم کرنے میں معاون ثابت ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ ان کے ادارہ نے جائیکا سے 300ملین ڈالرمالیت کے پراجیکٹ کے ذریعے سولر توانائی کا منصوبہ تکمیل کو پہنچایا جو قابل تجدید توانائی کے طلبہ اور ریسرچرز کی تحقیق کیلئے ڈیٹا فراہم کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ جامعات میں آؤٹ کم بیسڈ لرننگ چاہتے ہیں تاکہ نئے علم اور تجربے سے سوسائٹی کی مشکلات کم کرنے یا لوگوں کیلئے سہولت پیدا کرنے کا کام لیا جا سکے۔ انہوں نے بتایا کہ واشنگٹن ایکارڈ کا حصہ بننے سے پاکستانی جامعات ے مارکیٹ کا حصہ بننے والے انجینئرز امریکہ‘ کینیڈا اور برطانیہ کے ہم پلہ قرار پائے ہیں یہی وجہ ہے کہ آج پاکستان کو ترقی پذیر ممالک‘ ا فریقہ اور او آئی سی ممالک میں انجینئرزکی تربیت کیلئے مقرر کیا جا رہا ہے۔ چینی سائنس دان نے کہا کہ قابل تجدید توانائی کے شعبہ میں ہائیڈروجن مستقبل قریب میں توانائی کا بڑا ذریعہ بن کر سامنے آئے گا جس سے روایتی ذرائع توانائی پر انحصار کم ہوجائے گا۔ انہوں نے کہا کہ بائیوماس گیسی فی کیشن اور فوٹوالیکٹرولیسز کے ذریعے ہائیڈروجن پیدا کرنے میں مددلی جا رہی ہے جس سے مستقبل میں توانائی کے شعبہ میں نئی ٹیکنالوجی متعارف کروائی جا سکیں گی۔ کانفرنس سے ڈین کلیہ زرعی انجینئرنگ و ٹیکنالوجی ڈاکٹر اللہ بخش نون‘ انجینئر سید محمد علی بخاری نے بھی خطاب کیا۔اس سے قبل صوبائی وزیر توانائی نے زرعی یونیورسٹی کے ڈیپارٹمنٹ آف انرجی سسٹم انجینئرنگ کا بھی دورہ کیا اور سولر انرجی سے چلنے والے کولڈ سٹوریج،ملک چلراورڈیری کی مشینوں کے ماڈلز دیکھے اور ڈیپارٹمنٹ کے احاطہ میں کلین اینڈ گرین پنجاب پروگرام کے تحت پودا بھی لگایا۔بعدازاں صوبائی وزیر نے ایکسپو سنٹر میں نمائش کا دورہ کیا اورزرعی یونیورسٹی کی تیار کردہ اشیاء میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا۔
۔۔۔///۔۔۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.