fbpx

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو شخص دو ٹھنڈی نمازیں پڑھے گا وہ جنت میں داخل ہو گا

حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ رات اور دن کے وقت فرشتے یکے بعد دیگرے تمہارے پاس آتے رہتے ہیں اور وہ نماز فجر اور نماز عصر میں اکٹھے ہوتے ہیں ، پھر وہ فرشتے ، جنہوں نے تمہارے ہاں رات بسر کی ہوتی ہے ، اوپر چڑھتے ہیں ، ان کا رب ان سے پوچھتا ہے ، حالانکہ وہ ان کے متعلق بہتر جانتا ہے ،

تم نے میرے بندوں کو کس حال (یعنی آخری عمل) پر چھوڑ کر آئے ہو ؟ وہ عرض کرتے ہیں ، جب ہم ان کے پاس سے آئے تو وہ اس وقت نماز پڑھ رہے تھے ، اور جب ان کے پاس گئے تھے تب بھی وہ نماز پڑھ رہے تھے ۔‘‘ المشکوتہ 626 رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جو شخص دو ٹھنڈی نمازیں (فجر و عصر) پڑھے گا وہ جنت میں داخل ہو گا المشکوتہ 625 حضرت عمارہ بن رویبہ ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ جو شخص طلوع آفتاب سے پہلے اور غروب آفتاب سے پہلے یعنی فجر اور نماز عصر پڑھے تو وہ جہنم میں نہیں جائے گا ۔‘‘ رواہ مسلم

حضرت ابوجری جابر بن سلیم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے ایک شخص کو دیکھا کہ لوگ اس کی بات خوب سنتے اور مانتے تھے ۔ وہ جو بھی کہتا اسے قبول کرتے تھے ۔ میں نے پوچھا کہ یہ کون ہے ؟ انہوں نے بتایا کہ یہ اللہ کے رسول ہیں ۔۔۔ ﷺ ۔۔۔ میں بھی حاضر ہو گیا اور کہا عليك السلام يا رسول الله ’’ آپ پر سلامتی ہو اے اللہ کے رسول ! ‘‘ میں نے یہ دو بار کہا ۔ آپ نے فرمایا : یہ لفظ عليك السلام مت کہو ۔ یہ میت کا تحیہ اور سلام ہے ۔ بلکہ یوں کہو : السلام عليك ‘‘ میں نے کہا : ( کیا ) آپ اللہ کے رسول ہیں ؟ آپ نے فرمایا :’’

میں اس اللہ کا بھیجا ہوا ہوں کہ جب تمہیں کوئی دکھ پہنچے اور تم اسے پکارو ، تو وہ اسے تم سے دور کر دے ، اگر تمہیں خشک سالی کا سامنا ہو ، تم اس سے دعا کرو تو وہ تمہاری کھیتیاں اگا دے ۔ جب تم کسی صحرا یا ویران اور بنجر زمین میں ہو اور تمہاری سواری گم ہو جائے اور تم اسے پکارو تو وہ اسے تمہیں واپس لوٹا دے ۔‘‘ میں نے عرض کیا کہ مجھے کوئی وصیت فرمائیں ۔ آپ نے فرمایا :’’ کسی کو گالی نہ دینا ۔‘‘ کہتے ہیں کہ اس کے بعد میں نے کسی کو گالی نہیں دی کسی آزاد کو نہ غلام کو ، اونٹ کو نہ بکری کو ۔ آپ نے فرمایا :’’ کسی نیکی کو حقیر مت جاننا ، اپنے بھائی سے بات

کرو تو کھلے چہرے سے بات کیا کرو بلاشبہ یہ نیکی ہے ، اور اپنی چادر آدھی پنڈلی تک اونچی رکھا کرو ، اور اگر نہ کر سکو تو ٹخنوں تک کر سکتے ہو ۔ ( ٹخنوں سے نیچے ) چادر لٹکانے سے بچنا ۔ بیشک یہ تکبر ہے اور اللہ تعالیٰ تکبر کو پسند نہیں کرتا ۔ اور اگر کوئی شخص تمہیں برا بھلا کہے اور تمہیں تمہاری کسی بات پر جو وہ جانتا ہو عار دلائے تو تم اس کے عیب پر جو اس میں ہو اسے عار مت دلانا ، بلاشبہ اس کا وبال اسی پر ہو گا ۔‘‘ سنن ابی داود 4084