fbpx

رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیاری عادات

حضور ﷺ کے کھانے پینے کی عادات مبارکہ کا بیانبَابٌ فِي وَصْفِ أَکْلِہٖ صلى الله عليه وآله وسلم وَشُرْبِہٖ{حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کھانے پینے کی عاداتِ مبارکہ کا بیان}82 / 1۔ عَنْ عَائِشَۃَ رضي اﷲ عنھا قَالَتْ: مَا أَکَلَ آلُ مُحَمَّدٍ صلى الله عليه وآله وسلم أَکْلَتَیْنِ فِي یَوْمٍإِلَّا إِحْدَاہُمَا تَمْرٌ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِيُّ۔1: أخرجہ البخاري في الصحیح،کتاب الرقاق، باب کیف کان عیش النبي صلى الله عليه وآله وسلم وأصحابہ وتخلیھم من الدنیا، 5 / 2371، الرقم: 6090، والحاکم في المستدرک، 4 / 118، الرقم: 7078، وابن الجوزي في الوفاء / 625، الرقم: 1228۔”حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنھا بیان فرماتی ہیں

کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اہل خانہ نے ایک دن میں کبھی دو مرتبہ ایسا کھانا تناول نہیں فرمایا جن میں ایک وقت کھجوریں نہ ہوں۔” اِس حدیث کو امام بخاری نے روایت کیا ہے۔ 83 / 2۔ عَنْ أَنَسٍ رضي الله عنه أَنَّ رَسُوْلَ اﷲِ صلى الله عليه وآله وسلم کَانَ إِذَا أَکَلَ طَعَامًا لَعِقَ أَصَابِعَہُ الثَّـلَاثَ، قَالَ: وَقَالَ: إِذَا سَقَطَتْ لُقْمَۃُ أَحَدِکُمْ فَلْیُمِطْ عَنْہَا الْأَذَی وَلْیَأْکُلْہَا وَلَا یَدَعْہَا لِلشَّیْطَانِ وَأَمَرَنَا أَنْ نَسْلُتَ الْقَصْعَۃَ، قَالَ: فَإِنَّکُمْ لَا تَدْرُونَ فِي أَيِّ طَعَامِکُمُ الْبَرَکَۃُ۔رَوَاہُ مُسْلِمٌ وَالتِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْ دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّحضرت انس رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جس وقت کھانا کھاتے تو اپنی تین انگلیوں کو چاٹتے اور فرماتے: جب تم میں سے کسی کا لقمہ گر جائے

تو وہ اُس سے مٹی دور کر کے کھالے، اور اُس کو شیطان کے لیے نہ چھوڑے، اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں پیالہ صاف کرنے کا حکم دیا اور فرمایا: تم نہیں جانتے کہ تمہارے کھانے کے کس حصے میں برکت ہے۔” اِس حدیث کو امام مسلم، ترمذی، ابو داود اور نسائی نے روایت کیا ہے۔ 84 / 3۔ عَنْ أَبِي جُحَیْفَۃَ رضي الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلى الله عليه وآله وسلم : لَا آکُلُ مُتَّکِئًا۔رَوَاہُ الْبُخَارِيُّ وَالتِّرْمِذِيُّحضرت ابو جحیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں ٹیک لگا کر نہیں کھاتا۔” اِس حدیث کو امام بخاری اور ترمذی نے روایت کیا ہے

۔85 / 4۔ عَنْ أَبِي سَعِیْدٍ رضي الله عنه قَالَ: کَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وآله وسلم إِذَا أَکَلَ أَوْ شَرِبَ قَالَ: اَلْحَمْدُ ِﷲِ الَّذِي أَطْعَمَنَا وَسَقَانَا وَجَعَلَنَا مُسْلِمِیْنَ۔رَوَاہُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْ دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَہ وَالنَّسَائِيُّ۔سرورقہمارے بارےزمرہ جاتمصنفینکتابیںنئی تصانيفحضور ﷺ کے خصائل مبارکہسرورق حضور ﷺ کے خصائل مبارکہ حضور ﷺ کے کھانے پینے کی عادات مبارکہ کا بیانتلاشحضور ﷺ کے خصائل مبارکہحضور ﷺ کے کھانے پینے کی عادات مبارکہ کا بیانبَابٌ فِي وَصْفِ أَکْلِہٖ صلى الله عليه وآله وسلم وَشُرْبِہٖ {حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کھانے پینے کی عاداتِ مبارکہ کا بیان}82 / 1۔ عَنْ عَائِشَۃَ رضي اﷲ عنھا قَالَتْ: مَا أَکَلَ آلُ مُحَمَّدٍ صلى الله عليه وآله وسلم أَکْلَتَیْنِ فِي یَوْمٍ إِلَّا إِحْدَاہُمَا تَمْرٌ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِيُّ۔1: أخرجہ البخاري في الصحیح،کتاب الرقاق،

باب کیف کان عیش النبي صلى الله عليه وآله وسلم وأصحابہ وتخلیھم من الدنیا، 5 / 2371، الرقم: 6090، والحاکم في المستدرک، 4 / 118، الرقم: 7078، وابن الجوزي في الوفاء / 625، الرقم: 1228۔”حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنھا بیان فرماتی ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اہل خانہ نے ایک دن میں کبھی دو مرتبہ ایسا کھانا تناول نہیں فرمایا جن میں ایک وقت کھجوریں نہ ہوں۔” اِس حدیث کو امام بخاری نے روایت کیا ہے۔83 / 2۔ عَنْ أَنَسٍ رضي الله عنه أَنَّ رَسُوْلَ اﷲِ صلى الله عليه وآله وسلم کَانَ إِذَا أَکَلَ طَعَامًا لَعِقَ أَصَابِعَہُ الثَّـلَاثَ، قَالَ: وَقَالَ: إِذَا سَقَطَتْ لُقْمَۃُ أَحَدِکُمْ فَلْیُمِطْ عَنْہَا الْأَذَی وَلْیَأْکُلْہَا وَلَا یَدَعْہَا لِلشَّیْطَانِ وَأَمَرَنَا أَنْ نَسْلُتَ الْقَصْعَۃَ، قَالَ: فَإِنَّکُمْ لَا تَدْرُونَ فِي أَيِّ طَعَامِکُمُ الْبَرَکَۃُ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ وَالتِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْ دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ۔2: أخرجہ مسلم في الصحیح،کتاب الأشربہ، باب استحباب لعق الأصابع والقصعۃ وأکل اللقمۃ الساقطۃ بعد مسح ما یصیبہا من أذی وکراہۃ مسح الید قبل لعقہا، 3 / 1607، الرقم: 2034، والترمذي في السنن،کتاب الأطمعۃ، باب ما جاء في اللقمۃ تسقط، 4 / 259، الرقم: 1803، وأبو داود في السنن،کتاب الأطعمۃ، باب في اللقمۃ تسقط، 3 / 365، الرقم: 3845، والنسائي في السنن الکبری، 4 / 176، الرقم: 6765، وأحمد بن حنبل في المسند، 3 / 290، الرقم: 14121۔”حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں

کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جس وقت کھانا کھاتے تو اپنی تین انگلیوں کو چاٹتے اور فرماتے: جب تم میں سے کسی کا لقمہ گر جائے تو وہ اُس سے مٹی دور کر کے کھالے، اور اُس کو شیطان کے لیے نہ چھوڑے، اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں پیالہ صاف کرنے کا حکم دیا اور فرمایا: تم نہیں جانتے کہ تمہارے کھانے کے کس حصے میں برکت ہے۔” اِس حدیث کو امام مسلم، ترمذی، ابو داود اور نسائی نے روایت کیا ہے۔84 / 3۔ عَنْ أَبِي جُحَیْفَۃَ رضي الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلى الله عليه وآله وسلم : لَا آکُلُ مُتَّکِئًا۔ رَوَاہُ الْبُخَارِيُّ وَالتِّرْمِذِيُّ۔3: أخرجہ البخاري في الصحیح،کتاب الأطعمۃ، باب الأکل متکئا، 5 / 2062، الرقم: 5083، والترمذي في الشمائل المحمدیۃ / 124، الرقم: 140، والطحاوي في شرح معاني الآثار، 4 / 274۔”حضرت ابو جحیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں

کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں ٹیک لگا کر نہیں کھاتا۔” اِس حدیث کو امام بخاری اور ترمذی نے روایت کیا ہے۔85 / 4۔ عَنْ أَبِي سَعِیْدٍ رضي الله عنه قَالَ: کَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وآله وسلم إِذَا أَکَلَ أَوْ شَرِبَ قَالَ: اَلْحَمْدُ ِﷲِ الَّذِي أَطْعَمَنَا وَسَقَانَا وَجَعَلَنَا مُسْلِمِیْنَ۔رَوَاہُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْ دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَہ وَالنَّسَائِيُّ۔4: أخرجہ الترمذي في السنن،کتاب الدعوات، باب ما یقول إذا فرغ من الطعام، 5 / 508، الرقم: 3457، وأبو داود في السنن،کتاب الأطعمۃ، باب ما یقول الرجل إذا طعم، 3 / 366، الرقم: 3850، وابن ماجہ في السنن،کتاب الأطعمۃ، باب ما یقال إذا فرغ من الطعام، 2 / 1092، الرقم: 3283، والنسائي في السنن الکبری، 6 / 80، الرقم: 10121، وأحمد بن حنبل في المسند، 3 / 32، الرقم: 11294، وابن أبي شیبۃ في المصنف، 5 / 138، الرقم: 24507۔ ”حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں

کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب کھانا تناول فرماتے یا پانی پیتے تو (اُس کےبعد) یہ دعا فرماتے: {اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِي أَطْعَمَنَا وَسَقَانَا وَجَعَلَنَا مُسْلِمِیْنَ} ”تمام تعریف اﷲ کے لئے جس نے ہمیں کھلایا، پلایا اور مسلمان بنایا۔” اِس حدیث کو امام ترمذی، ابو داود، ابن ماجہ اور نسائی نے روایت کیا ہے۔86 / 5۔ عَنْ أَنَسٍ رضي الله عنه قَالَ: دَخَلْتُ مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وآله وسلم عَلٰی غُـلَامٍ لَہٗ خَیَّاطٍ، فَقَدَّمَ إِلَیْہِ قَصْعَۃً فِیْہَا ثَرِیْدٌ، قَالَ: وَأَقْبَلَ عَلٰی عَمَلِہٖ، قَالَ: فَجَعَلَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وآله وسلم یَتَتَبَّعُ الدُّبَّاءَ، قَالَ: فَجَعَلْتُ أَتَتَبَّعُہٗ فَأَضَعُہٗ بَیْنَ یَدَیْہِ، قَالَ: فَمَا زِلْتُ بَعْدُ أُحِبُّ الدُّبَّاءَ۔ مُتَّفَقٌ عَلَیْہِ۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں حضورنبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ایک خادم کے پاس گیا

جو درزی کا کام کرتا تھا۔ پس اُس نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں ثرید کا ایک پیالہ پیش کیا۔حضرت انس کا بیان ہے کہ پھر وہ اپنے کام میں مشغول ہو گیا، حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضورنبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اُس میں کدو کے ٹکڑے تلاش فرما رہے تھے۔ اُن کا بیان ہے کہ میں بھی تلاش کر کے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے رکھنے لگا اور اُس کے بعد میں نے ہمیشہ کدو کو پسند کیا۔” یہ حدیث متفق علیہ ہے۔حضرت ابو ہریرہص سے روایت ہے کہ ایک دعوت میں ہم حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں بکری کی ران کا (بھنا ہوا) گوشت پیش کیا گیا۔

یہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بہت پسند تھا۔ لہٰذا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اُس میں سے توڑ کر تناول فرمانے لگے۔” یہ حدیث متفق علیہ ہے۔حضرت زَہدم رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ ہم حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے پاس تھے جبکہ ہمارے اور اُس قبیلہ بنی جرم کے درمیان بھائی بندی تھی۔ ہمارے سامنے کھانا لایا گیا جس میں مرغ کا گوشت تھا لوگوں میں ایک سرخ رنگ والا آدمی بھی بیٹھا ہوا تھا لیکن وہ کھانے کے قریب نہ پھٹکا۔ حضرت ابو موسیٰص نے اُس سے فرمایا: آگے بڑھو (اور کھاؤ) کیونکہ میں نے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مرغ کا گوشت تناول فرماتے دیکھا ہے۔