fbpx

”ریحی کے درد اور عصبی درد کا شرطیہ علاج۔“

آرٹیکلز
اس مسئلے کی انتباہی نشانیاں لوگوں میں مختلف ہوسکتی ہیں

کیونکہ ان کا انحصار اس پر ہوتا ہے کہ جسم کے کس حصے میں یہ تکلیف ہورہی ہے تاہم اس کی کچھ عام علامات درج ذیل ہیں:سنسناہٹ، جلن، سن ہونا، درد، مسلز کی کمزوری، ایسا درد جس میں سوئیاں چبھنے کا احساس ہو، ایسا لگے کہ متاثرہ حصہ سو گیا ہو۔یہ علامات لیٹنے یا سو کر اٹھنے کے بعد زیادہ تکلیف دہ ہوسکتی ہیں۔ عصب دبنے کے اس مسئلے کے شکار فرد میں دیگر مسائل کا خطرہ بڑھ سکتا ہے جیسے پٹھوں یا عضلات کی نسیجوں کا درد، عرق النسا اور ہتھیلی میں عصب دبنے سے انگلیوں میں درد ہونا وغیرہ نس دبنے کا مسئلہ جسم میں کسی بھی حصے میں ہوسکتا ہے تاہم زیادہ تر گردن، کمر، کہنیوں اور ہتھیلیوں میں ایسا ہوتا ہے۔مگر اچھی بات یہ ہے کہ گھر میں رہتے ہوئے بھی چند کام کرکے اس درد میں کمی لانا ممکن ہے اور ایسے ہی چند ‘گھریلو ٹوٹکے’ درج ذیل ہیں۔ عام طور پر یہ مسئلہ اس وقت درپیش ہوتا ہے جب ایک عصب کو نقصان پہنچتا ہے اور وہ دماغ کو معمول کے مطابق سگنل بھیجنے سے قاصر ہوجاتا ہے، جس کے نتیجے میں سوئیاں چبھنے اور سن ہونے جیسے احساسات سامنے آتے ہیں۔اس کی متعدد وجوہات ہوسکتی ہیں جیسے مہرہ ہل جانا یا ہڈی ہل جانا بھی اس کی وجہ ہوسکتا ہے، جوڑوں کے امراض بھی ایک ممکنہ وجہ ہے۔کچھ مخصوص عادات اور سرگرمیاں بھی اس کی وجہ بن سکتے ہیں جیسے بیٹھنے، کھڑے ہونے یا چلنے کا ناقص انداز ۔کھیلوں کے دوران انجری یا ایک ہی جگہ چوٹ لگنے سے بھی عصب پر دباﺅ بڑھ سکتا ہے جبکہ موٹاپے کے شکار افراد میں یہ مسئلہ زیادہ ہوتا ہے۔ اعصاب کی بحالی کے نیند لازمی ہے، نیند کے دوران جسم اپنی مرمت کرتا ہے تو اسے زیادہ وقت دینا نس دبنے کی علامات کو زیادہ تیزی سے کمی لانے میں مدد دے سکتا ہے۔بیشتر کیسز میں متاثرہ حصے کو آرام دینے اور اضافی نیند سے نس دبنے کا مسئلہ خود ہی ٹھیک ہوجاتا ہے۔اس مسئلے کے علاج کے دوران یہ خیال رکھنا ضروری ہوتا ہے کہ اعصاب کا بہت زیادہ استعمال نہ کریں کیونکہ اس سے یہ مسئلہ زیادہ بدتر بھی ہوسکتا ہے، متاثر افراد کو ایسی سرگرمیوں سے گریز کرنا چاہیے جو متاثرہ حصے کے عصب کو متاثر کرے، انہیں سونے کے لیے ایسی پوزیشن اپنانی چاہیے جس سے اعصاب پر دباﺅ میں کمی آئے۔ اگر آپ کے بیٹھنے یا کھڑے ہونے کا انداز ٹھیک نہ ہو تو نس دبنے کا امکان بڑھتا ہے یا یہ مسئلہ زیادہ سنگین ہوسکتا ہے، زیادہ دیر تک ناقص انداز میں بیٹھنے یا کھڑے رہنے سے جسم پر غیرضروری تناﺅ بڑھتا ہے جو کہ ریڑھ کی ہڈی اور مسلز کو نقصان پہنچا کر نس دبنے کا باعث بن سکتا ہے۔کشن کا استعمال، ایڈجسٹ ایبل کرسیاں اور بیٹھنے کے دوران گردن کو آرام فراہم کرنا اس دباﺅ میں کمی لاسکتا ہے اور متاثرہ حصے کی بحالی میں بھی مدد مل سکتی ہے۔