سرحدوں کے محافظ ۔۔۔ حامد المجيد

سرحد کا محافظ صرف سرحد کا نہیں اپنے وطن کی شان بان اور آن کا محافظ ہوتا ہے وطن کے باسیوں کی عزت و آبرو جان مال کا محافظ ہوتا ہے۔۔
حفاظت کے اس عظیم فریضہ کو سر انجام دینے میں اس کی راہ میں کوئی چیز بھی رکاوٹ نہیں بنتی اس کی نگاہیں گاہے بگاہے کی رنگینیوں میں الجھنے کے بجائے اپنی منزل پہ منجمد رہتی ہیں۔۔۔
اس کا حوصلہ کوہ گراں کی طرح مضبوط و توانا ہوتا ہے جسے آگ اگلتا سورج اور سردیوں کی یخ بستہ راتیں بھی کمزور نہیں کرسکتی۔۔۔
سرحدوں کے محافظ ضروری نہیں کہ سرحد پہ معمور ہوں کچھ گمنام محافظ بھی ہوتے ہیں جن کی اپنی کوئی شناخت نہیں ہوتی حب الوطنی ہی ان کی شناخت بنتی ہے اور وطن کی سرحدوں کے طرف بڑھنے والے سبھی ناپاک قدم ان کی نظر میں ہوتے ہیں جنہیں وہ مسل کر رکھ دیتے ہیں ہر اٹھنے والی بری آنکھ کی نظر کو کافور کردیتے ہیں۔۔ ناپاک ارادوں کے بڑے بڑے محلات اپنی عقلمندی سے مسمار کرتے ہیں۔۔۔۔
ہم جو سکھ کی نیند سوتے ہیں چین کی زندگی گزار رہے ہیں وہ صرف اس وجہ سے کہ ہماری سرحدوں کے محافظ ہر لمحہ ہماری حفاظت کے لیے چوکس ہیں۔۔
قابل رشک ہیں وہ مائیں جن کے جواں چراغ اس عظیم راہ میں روشن و تابناک ہیں۔۔
شہادت نامی بیج جس قلب میں بویا جائے وہاں شجاعت و بہادری کا پودا پھوٹتا ہے جس کا پتہ پتہ ڈالی ڈالی صبر و استقامت سے لبریز ہوتا ہے۔۔
اور ہمارے وطن کے ہر محافظ کے سینے میں یہ پودا پوری آب و تاب سے موجود ہے یہی وجہ ہے کہ دنیا کی کوئی فوج بھی ہمارے جوانوں کو زیر نہیں کرسکتی۔۔
ہمارے فوجی جوانوں کا اوڑھنا بچھونا مطلوب شہادت اور رضا خداوندی ہے جو ان کے جذبات کو مضبوط اور توانا بناتا ہے۔۔۔
کوئی بھی فرد تب تک مضبوط و ثابت قدم نہیں ہوسکتا جب تک اس کا اپنے خدا پہ یقین کامل نہیں ہو جاتا اور ہماری سرحدوں کے محافظ اسی لیے سب سے منفرد و اعلیٰ ہیں ان کے دلوں میں یقین کامل کے ایسے چراغ روشن ہیں جن کی کرنوں کے سامنے انہیں بس آخرت کی زندگی دکھائی دیتی ہے یہی وجہ ہے وہ شہادت کو بڑے شوق اور ولولے سے اپنے گلے لگاتے ہیں وہ جانتے ہیں کہ یہاں ہمارے خون کا پہلا قطرہ ابھی زمین پہ نہیں گرنا اور وہاں ہماری کامیابی کا پروانہ پہلے جاری ہوجانا ہے۔۔
ہماری سرحدوں کے محافظ ہمہ تن جذبہ شہادت سے سرشار ہیں اور یہ ایسا جذبہ ہے جو انہیں ہر میدان کا فاتح اور سکندر بناتا ہے۔۔
ہر محب وطن اپنے وطن کا محافظ ہے ضروری نہیں خاکی وردی پہننے والے پہ ہی اپنے وطن کی حفاظت لازم بلکہ خاک سے بنے ہر خاکی پہ لازم ہے کہ وہ اپنے وطن کی حفاظت کرے اور جس طرح سرحدوں کے محافظ اپنے وطن کو بیرونی خطرات سے محفوظ رکھتے ہیں ویسے ہی وہ اپنے وطن کو بیرونی خطرات سے محفوظ رکھے۔۔۔
گنتی کے چند عناصر پسند اور شدت پسند لوگوں کی باتوں میں آنے کے بجائے ہر لمحہ اپنے ان جوانوں کے دست بازو بنے رہیں جو اپنی تمام تر خوشیاں ہماری خوشیوں اور وطن کی سرفرازی پہ قربان کررہے ہیں۔۔۔
جن کی رگوں میں وطن کی محبت خون بن کے گردش کرتی ہے۔۔۔
جن کی سانسوں کو ملک کی ترقی و خوشحالی تازگی دیتی ہے۔۔
جو بغیر کسی لالچ کہ اپنی سب سے قیمتی چیز اپنی جان تک لٹانے کو تیار ہیں۔۔
ہم ہم وقت دست بازو ہیں اپنے ان جوانوں کے جو ہمارے وطن کے چمکتے دمکتے ستارے اور اس پاک مٹی کے گوہر نایاب ہے جس کی زرخیزی میں کئی شہیدوں کا لہو شامل ہے۔۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.