fbpx

عورت کا حصہ

یہ بات عام سا مسلمان بھی جانتا ہے کہ اسلام نے عورت پر یہ بڑی مہربانی کی ہے کہ اسے وراثت کا حق دار ٹھہرایا ہے ورنہ اسلام سے قبل کے مذاہب اور آج بھی دنیا کے اکثر مذاہب میں عورت کو وراثت سے محروم رکھا گیا ہے لیکن اس کے باوجود اسلام دشمنوں کی طرف سے دانستہ طور پر یہ اعتراض بڑے زور و شور کے ساتھ اٹھایا جاتا ہے

جس سے بعض سادہ لوح مسلمان بھی شک میں مبتلا ہو جاتے ہیں وہ اعتراض یہ ہے کہ اسلام نے وراثت میں مرد کے لیے عورت سے دگنا حصہ دگنا حصہ کیوں مقرر کیا ہے؟ حالانکہ عورت کمزور ہوتی ہے؟ وہ کمانے والے بھی نہیں ہوتی؟ تو پھر بظاہر ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ اس کا حصہ ڈبل ہوتا مگر یہاں تو عورت کے مقابلے میں مرد کو ڈبل حصہ دیا جاتا ہے۔۔ آخر ایسا کیوں ہے ؟اس کا جواب بڑا ہی سادہ ہے بشرطیکہ انسان سمجھنے کے لیے آمادہ ہو ۔۔۔ فی الحال یہ چند حکمتیں دیکھ لیں جس سے واضح ہو جائے گا کہ اسلام نے وراثت کی تقسیم جو بتائی ہے وہ عین عدل و انصاف ہے۔۔پہلی حکمت: اسلام نے عورت کو کمانے کی ذمہ داری نہیں سونپی بلکہ اس کے تمام اخراجات کی ذمہ داری مردوں پر ڈالی ہے چاہے وہ مرد اس کا والد ہو ، بھائی ہو یا شوہر یا بیٹا ہو وغیرہ اور ظاہر ہے کہ ایسی صورت میں کہ جب اس کے تمام اخراجات مرد پورے کریں گے تو اسے اگر وراثت میں مرد کے مقابلے میں کم حصہ دیا گیا تو یہ اس پر کسی طرح بھی ظلم نہیں ہے۔ دوسری حکمت: اسلام نے عورت کو کسی اور پر مال خرچ کرنے کی ذمہ داری بھی نہیں ڈالی۔۔ جبکہ مرد کے ذمہ تو بہت سے اخراجات ہیں ، اپنی بیوی کے اخراجات ، والدین کے اخراجات اور اولاد وغیرہ کے اخراجات۔۔ اس کا تقاضا بھی یہی ہے کہ جس نے دوسروں پر بھی خرچ کرنا ہے اس کا حصہ زیادہ ہو اور جس پر دوسروں پر خرچ کرنے کی ذمہ داری نہیں ہے