قرنطینہ نہیں بلکہ سیلاب متاثرین کی ایک بستی ہے تفتان میں

بلوچستان حکومت کی جانب سے تفتان میں بنائی گئ قرنطینہ کے مناظردیکھ کرلگتاہے یہ قرنطینہ نہیں بلکہ سیلاب متاثرین کی ایک بستی ہے تفتان میں آبادکی گئ خیمہ بستی میں ہزاروں افرادموجودہیں ایک خیمے میں پانچ سےچھ افراد رہنے پرمجبورہیں، پینے کے لیے بستی کے بیچوں ایک نیلے رنگ کے ڈرم پڑئے ہے، بستی کے لوگ اس ڈرم سے پانی کوک پیپسی اور پانی کی خالی استعمال شدہ خالی بوتلوں میں پانی بھررہے ہیں اور اسی ایک ہی بوتل سے سب منہ لگارکر پانی پی رہے ہیں، عورتیں آپس میں بیٹھ کر بات چیت کررہی ہیں مردحضرات ایک گروپ کی شکل میں بیٹھ کر حالاتءحاضرہ پر تبادلہ خیال کررہے ہیں۔

کھانے پینے کاکوئی انتظام موجودنہیں لوگ کھاناخریدکرکھانے پرمجبورہیں۔ قرنیطہ میں بسترکرائے پردستیاب ہیں پیسہ دیں بسترلیں کوئی ڈاکٹرموجودنہیں کوئی دوا دستیاب نہیں یہ سیلاب متاثرین کی بستی ہے یاقرنطینہ۔

لوگ چوری چھپے قرنطینہ سے فرار ہوکر شہروں میں پہنچ رہے ہیں جن کاکوئی ریکارڈبھی موجودنہیں ان کی وجہ سے دوسرے لوگ بھی متاثر ہوگے جو لوگ قرنطینہ میں موجودہیں اور انہیں جس حال میں رکھاگیاہے اس سے ان سب کے متاثر ہونے کا سنگین خدشہ ہے اب تک جتنے زائرین تفتان قرنطینہ میں رہ کر آئے ہیں ان میں وائرس کی تصدیق ہوگئی ہے۔

تفتان قرنطینہ میں بلوچستان حکومت کی سنگین مجرمانہ غفلت نے پورے ملک کو سنگین خطرات سے لاحق کردیاہے تفتان قرنطینہ کے زائرین خودکش بمباروں کی طرح پورے ملک میں پھیل گئے ہیں اب اللہ خیر کرے۔محبوب ندیم۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.