قندیل بلوچ قتل کیس کا فیصلہ ایک ماہ کے اندر ہونے کی امید!

قندیل بلوچ قتل کیس کے پراسیکیوٹر سلیم بہار کا کہنا ہے کہ کیس ماڈل کورٹ میں ہونے کے باعث ایک مہینے میں فیصلہ ہونے کی امید ہے،ان کا کہنا تھا عدالت نے پراسیکیوشن کے موقف کی تائید کرتے ہوئے قندیل بلوچ کے والد کی اپنے بیٹوں کے ساتھ کمپرومائز کرنے کی درخواست کو مسترد کردیا.
مظفرگڑھ میں باغی ٹی وی سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے قندیل بلوچ قتل کیس میں ڈپٹی پراسیکیوٹر سلیم بہار کا کہنا تھا کہ قندیل بلوچ کے درخواست گزار والد محمد عظیم نے اپنے بیٹوں وسیم اور اسلم شاہین کیساتھ کمپرومائز کے لیے ماڈل کورٹ میں درخواست دائر کی تھی.درخواست گزار کا موقف تھا کہ دفعہ 311 پی پی سی کے حوالے سے ترمیم قندیل بلوچ کے قتل کیس کے بعد کی گئی۔اس لیے کیس میں بیٹوں سے کمپرومائز کی اجازت دی جائے.ڈپٹی پراسیکیوٹر سلیم بہار کے مطابق آج کیس کی سماعت کے دوران پراسیکیوشن نے عدالت میں درخواست کی مخالفت کی.پراسیکیوشن کا موقف تھا کہ قندیل بلوچ قتل کیس میں 311 پی پی سی کی جو دفعہ لگائی گئی وہ ناقابل راضی نامہ ہے.جبکہ کرمنل لاء کی ترمیم 2004ء کے تحت اس طرح کے جرائم کو ناقابل ضمانت قرار دیا گیا ہے.ڈپٹی پراسیکیوٹر کیمطابق عدالت میں موقف اپنایا گیا کہ کرمنل لاء کی ترمیم 2004ء کے تحت اس طرح کے کیسز میں کمپرومائز نہیں ہوسکتا.ڈپٹی پراسیکیوٹر سلیم بہار کا باغی ٹی وی سے خصوصی گفتگو میں کہنا تھا کہ ماڈل عدالت کے جج عمران شفیع نے پراسیکیوشن کے موقف کی تائید کرتے ہوئے قندیل بلوچ کے والد کی اپنے بیٹوں کیساتھ راضی نامے کی درخواست مسترد کردی.قبل ازیں آج قندیل بلوچ کے والد محمد عظیم کی بیٹوں سے کمپرومائز کی درخواست کو ملتان کی ماڈل کورٹ نے خارج کردیا تھا.قندیل بلوچ کو 15 جولائی 2016ء کو ملتان میں اسکے بھائی وسیم نے قتل کیا تھا۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.