قومی ٹیم میں کم بیک کرنے والے کھلاڑیوں کا سری لنکا کے خلاف بہترین کارکردگی دکھانے کا عزم

0
70

کراچی۔ (اے پی پی) سری لنکا کے خلاف سیریز کے لیے اعلان کردہ 16 رکنی اسکواڈ میں 5 قومی کھلاڑیوں کی واپسی ہوئی ہے۔ افتخار احمد، محمد رضوان، عثمان شنواری، محمد نواز اور عابد علی قومی کرکٹ ٹیم کی سلیکشن کمیٹی کا اعتماد حاصل کرنے میں کا میاب رہے ہیں۔ پاکستان اور سری لنکا کے درمیان 3 میچوں پر مشمل ایک روزہ سیریز 27 ستمبر سے 2 اکتوبر تک کراچی میں جاری رہے گی۔ تقریباً 4 سال بعد قومی ایک روزہ کرکٹ ٹیم میں واپس آنے والے مڈل آرڈر بیٹسمین افتخار احمد پاکستان کی جانب سے ایک ٹیسٹ، ایک ٹی ٹونٹی ا ور 2 ایک روزہ میچز میں شرکت کرچکے ہیں۔ 13 نومبر 2015ء کو ابوظہبی کے میدان میں انگلینڈ کے خلاف ایک روزہ ڈیبیو کرنے والے افتخار احمد اپنے پہلے میچ میں 5 رنز بنا کر آؤٹ ہوگئے تھے۔ دوسرے ایک روزہ میچ میں افتخار احمد 3 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے تو ٹیم سے ڈراپ کردئیے گئے۔ قومی ٹیم سے ڈراپ ہونے کے بعد افتخار احمد نے اپنی خامیوں پر قابو پانے کے لیے ایک بار پھر ڈومیسٹک کرکٹ کا رخ کیا۔ اب تک 79 لسٹ اے میچز میں افتخار احمد نے 51.65 کی اوسط سے 3254 رنز بنارکھے ہیں۔ 8 سنچریاں اور 19 نصف سنچریاں اسکور کرنے والے افتخار احمد کا بہترین ا سکور 138 رنز ناٹ آؤٹ ہے۔ مڈل آرڈرپر بیٹنگ کے ساتھ ساتھ آف اسپن باؤلنگ کرنے والے29 سالہ افتخار احمد کی لسٹ اے میں بہترین باؤلنگ 3 رنز دے کر 3 کھلاڑیوں کو پویلین کی راہ دکھانا ہے۔ تقریباً 4 سال بعد قومی ایک روزہ ٹیم میں واپسی پر افتحار احمد نے سیریز سیقبل تربیتی کیمپ کو مفید قرار دیتے ہوئے کہا کہ مصباح الحق کی زیرنگرانی کھلاڑی نے سخت ٹریننگ کی ہے۔ امید ہے سیریز میں بہترین نتائج دیں گے۔ افتخار احمد نے کہاکہ مصباح الحق کے ساتھ طویل عرصہ ڈومیسٹک کرکٹ کھیلی اس دوران سابق کپتان کے تجربے سے بھرپور فائدہ اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ مصباح الحق میرے آئیڈیل ہیں۔ کوشش کرتا ہوں ان کی طرح مثبت کرکٹ کھیلوں۔ شعیب ملک اور محمد حفیظ کی عدم موجودگی میں مڈل آرڈر کی بھاری ذمہ داری ملنے پر افتخار احمد کا کہنا ہے کہ ہیڈ کوچ اور چیف سلیکٹر نے تربیتی کیمپ کے دوران بھرپور حوصلہ افزائی کی ہے۔مصباح الحق نے سمجھایا ہے کہ بطور مڈل آرڈر بیٹسمین میچ کا بہترین اختتام میری ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ مجھے میچ کے دوران کھیل کے اختتام تک کریز پر موجود رہنا ہے۔ افتخار احمد نے واضح کیا ہے کہ اس سے قبل پاکستان کی نمائندگی کرتے وقت ان کی باؤلنگ میں خامیاں تھیں۔ تاہم ٹیم سے دوری کے دوران انہوں نے اپنی باؤلنگ پر خاص توجہ دی ہے۔انہوں نے کہا کہ وہ سری لنکا کے خلاف سیریز میں اپنی بیٹنگ اور باؤلنگ سے قومی کرکٹ ٹیم کی جیت میں اہم کردار ادا کرنے کی کوشش کریں گے۔ دوسری جانب آلراؤنڈر محمد نواز کی ایک سال بعد قومی کرکٹ ٹیم میں واپسی ہوئی ہے۔ اس موقع پر آلراؤنڈر نے تسلیم کیا ہے کہ ان کی بیٹنگ میں کچھ خامیاں تھیں جسے دور کرلیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ماضی میں ان کی بیٹنگ میں تسلسل نہیں تھا تاہم سری لنکا کے خلاف سیریز میں بہترین آلراؤنڈر کارکردگی کا مظاہرہ کرکے وہ قومی ٹیم کا مستقل رکن بننے کی کوشش کریں گے۔ آلراؤنڈر نے کہا کہ سری لنکا کے خلاف سیریز سے قبل لگائے گئے تربیتی کیمپ میں کھلاڑیوں کی فٹنس پر خاص توجہ دی گئی ہے۔کیمپ کے اختتام پر تمام کھلاڑیوں کی فٹنس میں خاطرخواہ بہتری آئی ہے۔انہوں نے کہا کہ سری لنکا کے خلاف سیریز میں کامیابی حاصل کرکے سیزن کا خوش آئندآغاز کرنا چاہتے ہیں۔ 27 سالہ محمد رضوان کی 6 ماہ بعد قومی کرکٹ ٹیم میں واپسی ہوئی ہے۔وکٹ کیپر بیٹسمین کا کہنا ہے کہ بطوربیک اپ کھلاڑی وہ گذشتہ 3 سالوں سے قومی کرکٹ ٹیم کے ساتھ سفر کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ ہمیشہ بہترین کارکردگی دکھانے کے عزم کے ساتھ میدان میں اترتے ہیں۔ وکٹ کیپر بیٹسمین محمد رضوان کا کہنا ہے کہ ایک کرکٹرساری زندگی سیکھنے کے عمل سے گزرتا رہتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ وہ کپتان سرفراز احمد کے تجربے سے بہت سیکھتے ہیں۔ سرفراز احمد کی ٹیم میں موجودگی ان کے اعتماد میں اضافے کا باعث بنتی ہے۔ 6 ماہ سے قومی کرکٹ ٹیم سے دور فاسٹ باؤلر عثمان شنواری بھی ٹیم میں واپسی پر خوش ہیں۔ فاسٹ باؤلر کا کہنا ہے کہ سری لنکا کے خلاف میرا ریکارڈ اچھا رہا ہے۔ اگر چانس ملا تو مہمان ٹیم کے خلاف بہترین کارکردگی کا تسلسل برقرار رکھوں گا۔ ورلڈکپ کے لیے قومی کرکٹ ٹیم کے فائنل اسکواڈ میں جگہ نہ بنانے والے عابد علی کا کہنا ہے کہ انہوں نے آف سیزن میں نیشنل کرکٹ اکیڈمی میں ٹریننگ جاری رکھی تھی۔ وہ محنت پر یقین رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سری لنکا کے خلاف سیریز میں چانس ملا تووہ بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کریں گے۔

Leave a reply