fbpx

لالچ کی حوس میں خود کو نقصان دینے والے شخص کی کہانی

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ کسی شہر میں ایک غریب میاں بیوی اپنے دو بچوں کے ساتھ زندگی گزار رہے تھے۔ شوہر کو اچانک کوئی لا علاج مرض لاحق ہوا۔ سرکاری ہسپتال میں شوہر کو داخل کیا گیا۔ اب گھر میں جتنی جمع پونجی تھی وہ ایک ایک کر کے ختم ہوتی گئی۔ ڈاکٹروں نے کافی کوششیں کی مگر اس کے شوہر کی زندگی شاید اتنی ہی تھی زندگی کا سفر اتنی قلیل مدت میں ہی تمام ہو گیا وہ جوانی میں ہی بیوہ ہو گئی۔ گھر میں

سوائے چند پیسوں کے کچھ نہ تھا۔ بچے چھوٹے تھے اگر کسی کے گھر کام کے لیے جاتی تو بچوں کا خیال کون رکھتا اس لیے اس نے سوچا کہ میں کوئی ایسا کام کروں جس سے گھر سے باہر نہ جانا پڑے۔ پڑوس کی عورت نے اس کی تنگ دستی کا عالم دیکھا تو اسے اس پہ بہت رحم آیا اور اس نے اسے مشورہ دیا کہ تم ایسا کرو کہ کوئی سلائی کا کام گھر بیٹھے ہی شروع کرو سلائی تو تمہیں ویسے بھی آتی ہے۔ وہ بولی میرے پاس سلائی مشین تو نہیں ہے کیسے کروں گی اور مالی حالت اس قدر خستہ ہیں کہ میری پہنچ نہیں کہ کوئی سلائی مشین خرید لوں آپ کے پاس تو مشین ہے نا مجھے دے دیجیے اور میں آپ کو پیسے دے دوں گی۔ وہ بولی کہ اگر میں اپنی سلائی مشین تمہیں دے دوں تو میں خود کیا کروں گی۔ تم ایسا کرو کسی سے ادھار لے کر مشین خرید لو جب پیسے جمع ہو جائیں تو ادھار لوٹا دینا۔ لہذا اس نے کسی شخص سے ادھار لے کر سلائی مشین خرید لی اور خوب محنت کر کے لگن سے کام کرتی رہی۔ پڑوس میں جو عورت لائی کرتی تھی وہ معاوضے سے زیادہ پیسے لیتی تھی جب کہ اس نے صرف اتنا ہی ایک سوٹ کا کرایہ رکھا تھا جتنی اس کی محنت لگتی۔ پڑوس کی عورت ایک دن اس کے پاس آئی اور اس سے پوچھا دن کیسے گزر رہے ہیں؟ وہ بولی ایک دم ٹھیک باتوں باتوں میں اس نے کہا کہ تم ایک سوٹ کا کتنا لیتی ہو؟ بیوہ عورت نے رقم بتائی تو وہ بولی اتنا کم میں تو تم سے دگنی رقم لیتی ہوں اور میں آج سے

معاوضہ بڑھا رہی ہوں تم بھی بڑھا دو۔ وہ بولی نہیں جتنا مل رہا ہے وہ میری محنت کے مقابلے میں مناسب ہے انسان کو ہر حال میں شکر ادا کرنی چاہیے۔ ہم جتنا پیسے کے پیچھے اپنا ایمان خراب کریں گے اتنا ہی خوار ہو کر رہ جائیں گے۔ پڑوسی نے اس کی بات نہیں مانی۔ اس نے قیمت بڑھا دی اب جیسے ہی عورتوں کو بیوہ عورت کا معلوم ہوا تو انہوں نے اپنے کپڑے اسی کو سلائی کے لیے دیے۔ دیکھتے ہی دیکھتے اس کے گھر سلائی کے کپڑوں کی بھرمار ہو گئی۔ اور پڑوسی عورت کے پاس مشکل سے کوئی آتا تو آتا ورنہ تو وہ سارا دن یوں ہی بیٹھی رہتی۔ اسے جیسے ہی معلوم ہوا کہ سب بیوہ عورت کو سلائی کے لیے کپڑے دیتے ہیں تو اس نے جل بھن کر علاقے میں شور مچایا کہ اس کو میں نے ہی اس کام کا کہا تھا ایک بہن کی طرح اس کا ساتھ دیا اور یہ مجھے ہی برباد کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ میرے سارے گاہکوں کو لالچ دے کر اپنے پاس بلایا ہے۔ یہ سن کر بیوہ عورت نہایت نرمی سے بولی۔ یہ درست ہے کہ آپ نے میری مدد کی میں آپ کی شکر گزار ہوں کہ ان حالات میں آپ نے میرا ساتھ دیا۔ مگر جو آپ الزام مجھ پہ لگا رہے ہیں یہ سراسر غلط ہے۔ میں نے ان لوگوں کو بھڑکا کر اپنے پاس نہیں بلایا بلکہ آپ کی لالچ کی وجہ سے ان لوگوں نے آپ سے سلائی کا ارادہ ترک کر دیا۔ یاد ہے میں نے آپ کو کہا تھا کہ لالچ بری بلا ہے آپ کی اسی لالچ نے ہی آج آپ کو اس مقام پر لا کھڑا کیا ہے۔