fbpx

”ما ئیگرین ، درد شقیقہ یعنی آدھے سر کا درد۔ علا مات، وجوہات اور علاج۔“

سرکے درد کی کئی اقسام ہیں جن میں ایک آدھے سر کا درد بھی ہے

جسے درد شقیقہ جبکہ جدید ایلوپیتھی اصطلاح میں مگرین Migraine بھی کہتے ہیں، بعض اوقات یہ پورے سر میں ہوتا ہے مگر آدھے سر میں کم اور آدھے میں زیادہ ہوتا ہے۔درد شقیقہ شدید نوعیت کا درد ہے جو مریض کو کسی کام کاج کا نہیں چھوڑتا، بھنوؤں کے اوپر اور ملحقہ حصے کا درد بھی درد شقیقہ ہی کی ایک قسم ہے۔آدھے سر کا درد خون کی شریانوں کے بڑھنے اور اعصاب سے کیمیائی مادوں کے ان شریانوں میں ملنے سے پیدا ہوتا ہے اس کے دورے کے دوران ہوتا یہ ہے کہ کنپٹی کے مقام پر جلد کے نیچے رگ پھول جاتی ہے۔ اس کے نتیجے میں کچھ کیمیائی مادے پیدا ہوکرسوجن اور درد کے ذریعے رگ کو اور پُھلا دیتے ہیں جس سے دفاع میں اعصابی نظام متلی، پیٹ کی خرابی اور قے کا احساس پیدا کرتا ہے علاوہ ازیں اس کی وجہ سے خوراک کے ہضم ہونے کا عمل بھی سست پڑ جاتا ہے۔ دوران خون کے سست پڑنے سے ہاتھ اور پاؤں ٹھنڈے پڑ سکتے ہیں اور روشنی اور آواز کی حساسیت میں اضافہ ہوسکتا ہے جسم کو ایک طرف کمزوری کا احساس بھی ہوسکتا ہے۔ درد شقیقہ کی علامتوں میں سے ایک علامت یہ بھی ہے کہ مریض کے سر کے پچھلے حصے میں درد ہوتا ہے، اس کی وجہ پرانا بلڈ پریشر بھی ہوتا ہے۔ درد کے علاج کے لیے مریض دماغ کو قوت دینے والی غذائیں کھائے، بازار سے چاروں مغز لیں اور اس میں 25 گرام بادام اور اخروٹ, 10 گرام ملا کر پیسنے کے بعد دودھ کے ساتھ اس کا حریرہ بنا کر صبح اور شام کے اوقات میں کھائیں میں اتنے لمبے عرصے بعد جسمانی اور ذہنی طور پر اتنی تیزی سے صحت یاب ہوئی ہوں۔ ڈاکٹر حسین قیصرانی ایک منفرد ہومیوپیتھک ڈاکٹر، سائیکالوجسٹ اور سائیکوتھراپسٹ ہیں۔ میں ان کے علاج سے %101 مطمئن ہوں۔جہاں تک ذہنی صحت کا تعلق ہے، حالات کچھ بھی ہوں وہ امید کی کرن دکھا کر آپ کی زندگی کو بہتر کرنے کا کوئی نہ کوئی راستہ دکھا دیتے ہیں۔ جب آپ کے ارد گرد بلکہ ہر طرف مایوسی کا اندھیرا چھا جائے تو وہ روشنی کا ذریعہ بن جاتے ہیں۔ جب سب دروازے بند ہوں تو وہ امید کی کرن ہیں۔ ہم سب کو اپنی زندگی میں ایک مشعلِ راہ کی ضرورت ہوتی ہے میں نے اپنی مشعلِ راہ ان میں پائی۔ ان کے مہیا کردہ پُر سکون ماحول میں بات کرنا بہت آسان ہے۔ آپ ان سے کوئی بھی بات کر سکتے ہیں۔ وہ انسانیت کی بہترین خدمت کر رہے ہیں۔اگر آپ کسی بھی قسم کے جسمانی، جذباتی، نفسیاتی اور ذہنی مسائل کا شکار ہیں تو جتنی جلدی ہو سکے ان سے رابطہ کریں۔ وہ میرے لیے بہترین ڈاکٹر ہیں ۔ یہ بہت ہی سنجیدہ مسئلہ ہے جس کے بارے میں ہمیں سوچنا چاہیے تا کہ ہم ان مسئلوں سے نکل سکیں۔