ورلڈ ہیڈر ایڈ

محکمہ واپڈا کی بدولت عوام کی زندگی اجیرن

شیخوپورہ (نمائندہ باغی ٹی وی) محکمہ واپڈا عوام کی زندگیوں میں سکھ لانے میں تو ناکام رہا ہی ہے لیکن اب باقاعدہ طور پر عوام کی زندگیاں اجیرن کرنے پر کمربستہ ہے
تفصیلات کے مطابق سٹی شیخوپورہ کے سب ڈویژن عطا آباد کے فیڈر رحمت کالونی سے آج مختلف علاقوں کو بجلی کی سپلائی سارا دن معطل رہی.
نو گھنٹے سے بھی زائد بجلی کی فراہمی منقطع رہنے کے بعد شام ساڑھے سات بجے بحال کی گئی
تبدیلی سرکار نے بجلی کی فی یونٹ قیمت تو بڑھا دی ہے لیکن بجلی کی فراہمی کو یقینی نہیں بنایا جا سکا
عوام کو اس شدید گرمی میں بھاری بھرکم بل بھیج کر مزید گرمی چڑھا دی جاتی ہے
اس پر مستزاد یہ کہ بجلی کے بلوں پر درج وہ رابطہ نمبر کہ جن پر بجلی کی عدم دستیابی کی شکایت کی جا سکے وہ بھی بند رہتے ہیں
جو کہ درجِ ذیل ہیں
03049270616
03200522611
03200523611
عوام سے بھاری بھرکم بل وصول کرنے والے کب عوام کو جوابدہ ہوں گے کہ اگر ان نمبرز نے بند ہی رہنا ہے تو بجلی کے بلوں پر ان کو دینے کا مقصد کیا ہے؟
واپڈا کی طرف سے عوام کو دھوکہ دینے کی یہ عادت شاید کبھی ختم نہ ہو سکے
بجلی کے بلوں پر درج SDO کے نمبر 03200521611 پر بار بار کال کرنے کے باوجود کال اٹینڈ نہیں جاتی بلکہ نمبر کو مصروف کر دیا جاتا ہے
عوام سراپا سوال ہیں کہ یہ سب بد تمیزیاں آخر کب ختم ہوں گی
ایک تو بجلی کی بلاوجہ طویل بندش اور پھر شکایت سننے والا بھی کوئی نہیں
رحمت کالونی وہی فیڈر ہے جہاں سے گزری عید الفطر کی رات بھی بجلی کی فراہمی طویل وقت کے لیے معطل رہی حتی کہ عید کی نماز کے وقت بھی بجلی موجود نہ تھی اور دن 10 بجے کے بعد بجلی کی فراہمی ممکن ہو سکی
دنیا ترقی کرتے ہوئے دوسرے سیاروں پر پہنچ چکی ہے لیکن ہمارے ملک میں کام چور ادارے اس قدر سست ہیں کہ مسائل کی آمد سے قبل کسی بھی قسم کی پلاننگ نہیں کرتے اور مسئلہ درپیش ہونے کے بعد عوام کو ذلیل کرتے ہیں کہ *ہم کوشش کر رہے ہیں کہ بجلی کی فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے*
سوال یہ نہیں سوال تو یہ ہے کہ ہر وقت ستو پی کر سو رہنے والا محکمہ واپڈا باقاعدہ پلاننگ کرنے کی عادت کیوں نہیں اپنا لیتا
کیونکہ پلاننگ سے 80 فیصد سے زائد مسائل از خود دم توڑ دیتے ہیں، لیکن ایسا ہوتا نظر نہیں آتا کہ کاہلی اور کام چوری رگ و پے میں اس قدر سرایت کر چکی ہے کہ فرائض کی ادائیگی کا خیال ہی نہیں آتا.
نظامِ زندگی اس وقت مفلوج ہو کر رہ جاتا ہے جب بجلی کی عدم دستیابی کی وجہ سے گرمی کی شدت میں بچے بڑے بوڑھے بلبلا رہے ہوتے ہیں، پیاس بجھانے کو پانی نہیں ہوتا، کہ ظاہری سی بات ہے پانی کا ذخیرہ کتنے گھنٹوں کے لیے وافر ہو سکتا ہے آخر تو ختم ہونا ہی ہے، اور بجلی و پانی کی عدم موجودگی میں لوگ کس کرب سے گزرتے ہیں اس کا اندازہ اے سی لگے کمروں میں بیٹھے محکمہ واپڈا کے خداوں کو یقینا نہیں ہے، کیونکہ اگر یہ اندازہ انہیں ہوجائے تو وہ یقینا بجلی کی بلا تعطل فراہمی کو یقینی بنائیں جس سے عوام کے آدھے سے زیادہ مسائل حل ہوجائیں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.