معیشت کو سخت خطرہ

قصور
کرونا سے زیادہ خطرناک معیشت کی تباہی ہے پاکستان میں رئیل اسٹیٹ جو ریڈھ کی ہڈی کی حثیت رکھتی ہے جائیداد کی خرید و فروخت نہ ہونیکی وجہ سے حکومتی ریونیو میں کمی کا سبب ہے حکومتی جائیداد کی منتقلی کا ریلیف پیکج قابل تحسین ہے مگر ضلعی سطح پر ڈی سی شیڈول مارکیٹ سے کہیں زیادہ ریٹ ہونے کیوجہ سے رکاوٹ بنا ہوا ہے جسکی فوری درستگی وقت کی ضرورت ہے

تفصیلات کے مطابق حکومت کی طرف سے منتقلی جائیداد میں خاطر خواہ کمی کا اعلان قابل تحسین ہے مگر اس ریلیف پیکج میں سب سے بڑی رکاوٹ ضلعی سطح پر مقرر کردہ شیڈول ریٹ مقامی مارکیٹ سطح سے کہیں زیادہ ہیں موجودہ شیڈول کی ترتیب چند نا اہل سرکاری ملازمین نے موقع پر جاکر رپورٹ کرنیکی بجائے آفس میں بیٹھے ہی بلا تحقیق مارکیٹ ریٹ سے زیادہ مقرر کرکے تیار کر دیا جسکی وجہ سے منتقلی جائیداد رجسٹریوں اور گورنمنٹ کے ریونیو میں نمایاں کمی واقع ہوئی اب حکومتی ریلیف پیکج کے باوجود زیادہ تر عوام پھر بھی اس پیکج سے محروم رہیگی جب تک مارکیٹ کے حساب سے موجودہ شیڈول کی فوری درستگی اور نئے آنے والہ شیڈول درست کرکے ترتیب نہ کیا گیا جبکہ پاکستان میں رئیل اسٹیٹ ریڈھ کی ہڈی کی حثیت رکھتی ہے مقامی سماجی ،فلاحی، عوامی، تنظیموں کے سربراہان اور ڈسٹرکٹ بار کے سینئر ووکلا چوہدری محمد اسحاق،محمد یونس کیانی،چوہدری محمد انور ہنجرا،ایم یاسین فرخ،عبدالجبارلنگاہ، ملک عمیر شوکت،حافظ رضوان، ملک بلال،میاں شہباز،ملک عبدالرشید،چوہدری سلیم ساجد،ملک شاہد بشیر، ودیگر معززین ممبران نے وزیر اعلی پنجاب، گورنر پنجاب، صوبائی وزیر مال،چیف سیکرٹری پنجاب، ڈپٹی کمشنر، اے سی،اور متعلقہ حکام بالا سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ موقع پر مارکیٹ ریٹ کے مطابق شیڈول ترتیب دیا جائے تو نہ صرف عوام بلکہ حکومتی ریونیو میں خاطر خواہ اضافہ ہوگا اور ملک بہت جلد ترقی کی طرف گامزن ہو گا

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.