مفتی طاہر مسعود نے اپنے بیان میں کیا کہہ دیا جانیے اس خبر میں

Mufti-tahir-masood-ne-keh-dia

مدارس کو وزارت تعلیم سے منسلک کر نا بہتر لیکن مدارس کو وزارت کے ماتحت کر نا قبول نہیں ،مفتی محمد طاہر مسعود
ریاستی ادارہ کی جانب سے مدارس بارے بیان سے پیدا اضطراب کو ختم کر نے کے لیے وضاحت کی جائے،وفاق المدارس کے راہنماء
پاکستان بھر میں 25ہزار دینی مدارس کے امتحانی نیٹ ورک کے پلیٹ فارم وفاق المدارس العر بیہ پاکستان کی مجلس عاملہ کے رکن مفتی محمد طاہر مسعود نے کہا ہے کہ دینی مدارس کو وزارت تعلیم کے کنٹرول میں دینادینی مدارس کو دینی نصاب تعلیم سے محروم کر نے کے مترادف ہے،ہاں مدارس کی رجسٹریشن،اسنادو دیگر کچھ حل طلب معاملات کو وزارت تعلیم کے ساتھ منسلک کر نا تو بہتر ہے لیکن مدارس عر بیہ کو وزارت تعلیم کے ماتحت کر نا کسی صورت قبول نہیں کیا جائے گا بلکہ مدارس کی حریت پر اسے خوفناک حملہ تصور کیا جائے گا،ریاستی ادارے کے ترجمان کی جانب سے مدارس عر بیہ کو وزارت تعلیم کے ماتحت کر نے کے بیان سے اہالیان مدارس،اسلامیان پاکستان سخت اضطراب کا شکار ہیں،اس اضطرابی کیفیت کے خاتمہ کے لیے مدارس بارے کیے گئے اعلان کی وضاحت کی جائے،مدارس کی تنظیمات سے مشاورت کے بغیر اٹھایا گیا کو ئی قدم بھی قبول نہیں کیا جائے گا انہوں کہا کہ مدارس میں تفسیر،قرآن،حدیث،فقہ کی تعلیم دی
جاتی ہے،ریاستی نظام تعلیم میں اس دینی نصاب کی کو ئی تعلیم کا بندوبست ہی نہیں حتیٰ کہ ناظرہ اور قرآن کے تر جمہ کا بھی کو ئی منظم سسٹم ریاستی نظام تعلیم میں نہیں، انہوں نے کہا کہ ابھی حال ہی میں مذہبی امور کے وفاقی وزیر پیر نورالحق قادری نے 2001؁میں حکومت کی طرف سے قائم کیے گئے ”پاکستان مدرسہ ایجو کیشن بورڈ ”کے خاتمہ کا اعلان کر کے تسلیم کیا ہے کہ دینی مدارس کو چلانا حکومت کے بس کی بات نہیں انہوں نے کہا کہ حکومت کے اس بورڈ نے 18سال میں اسلام آباد،سکھر اور کراچی میں صرف تین ادارے قائم کیے،تمام سر کاری فنڈز کے باوجود متعین کر دہ مقاصد اور اہداف کے حصول میں یہ بورڈ ناکام رہا جبکہ دو سری طرف وفاق المدارس العر بیہ کے تحت 25ہزار ادارے سالہا سال سے قوم کے 25لاکھ بچوں کو دینی تعلیم سے آراستہ کر رہے ہیں،وہ بھی بالکل مفت،ان اداروں پر سرکاری خزانہ سے ایک پائی بھی خرچ نہیں ہو تی انہوں نے کہا کہ 1979؁میں بھی حکومتی سطح پر ڈاکٹر عبد الواحد ہالے پوتہ کی سربراہی میں ”خود مختار ادارہ برائے دینی مدارس پاکستان ”قائم ہوا تھا،جو اپنے مقاصد میں ناکام ہوا انہوں نے کہا کہ ہمارے مدارس ”اپنی مدد آپ کے ”اصول کی عملی تصویر ہیں،مدارس کے لیے اراضی کا حصول،عمارت کی تعمیر،کتب کی فراہمی،اساتذہ کا انتخاب،طلباء کا داخلہ،نصاب تعلیم کی تر تیب،تدریس و امتحان کا انتظام،سندات کی تقسیم اور اخراجات کی فراہمی جیسے تمام امورکا اہتمام مدارس کے ذمہ داران خود کر تے ہیں اس کے باوجود طرح طرح کی بے جا پابندیوں میں جکڑنا سمجھ سے بالا تر ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.