مقبوضہ کشمیر کا مسئلہ حل نہ ہونا یو این او کے کردار اور افادیت پر سوالیہ نشان ہے۔ ڈاکٹر غلام مصطفی

فیصل آباد(محمد اویس)اقوام متحدہ کا عالمی امن یقینی بنانے کیلئے کردار نظرانداز نہیں کیا جا سکتا لیکن کشمیر اور وسط ایشیا کے دوبڑے اور امن عالم کو کسی بھی وقت تباہ کردینے والے جھگڑے طے نہ کرسکنا یو این او کے کردار اور افادیت پر سوالیہ نشان ہے۔ عالمی دنیا کو اس مسئلے پر سوچنا ہوگا۔ یہ دونوں مسئلے خاص طور پر کشمیر ایسا ایشو ہے کہ کسی بھی وقت چنگاری سے شعلہ بن کر دنیا کے امن کو تہہ و بالا کرسکتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار معروف محقق اور ڈیپارٹمنٹ آف ہسٹری و پاکستان سٹڈیز کے انچارج ڈاکٹر رضوان اللہ کوکب نے ڈیپارٹمنٹ آف پولیٹیکل سائنس و انٹرنیشل ریلیشنز کے زیر اہتمام عالمی امن میں یو این او کے کردار بارے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یو این او کے قیام کا بنیادی مقصد ہی دنیا میں امن کا قیام یقینی بنائے رکھنا اور اقوام عالم کے مابین دوستانہ و مفاہمانہ تعلقات یقینی بنائے رکھنے اور دنیا بھر کے لوگوں کو پرامن ماحول فراہم کئے رکھنا تھا۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کی دو بڑی طاقتوں امریکہ اور روس کے مابین ہتھیاروں کی دوڑ ختم کروانے میں اہم کردار ادا کرکے اقوام متحدہ نے یہ ذمہ داری نبھائی ہے اس کے علاوہ بھی متعدد معاملات میں اقوام متحدہ کا کردار مثالی رہا ہے مگر کشمیر کے حوالے سے سلامتی کونسل کی بائیس قراردادیں منظور کروانے کے باوجود مسئلے کو حل نہ کروا سکنا اس کی بڑی ناکامی ہے۔ کشمیر ایک ایسا ایشو ہے جو کسی بھی وقت عالمی امن کی تباہی کا باعث بن سکتا ہے۔ سیمینار سے ڈیپارٹمنٹ آف پولیٹیکل سائنس کے انچارج ڈاکٹر غلام مصطفی نے بھی خطاب کیا اور اقوام متحدہ کے قیام اور اس کی ضرورت وافادیت پر روشنی ڈالی۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.