وزیراعظم عمران خان کوئٹہ پہنچ گئے

وزیراعظم عمران خان مچھ میں قتل کیے گئے کان کنوں کی تدفین کے بعد کوئٹہ پہنچ گئے۔
سرکاری ذرائع نے بتایا کہ بلوچستان کے دارالحکومت آمد کے موقع پر وزیراعظم کے ہمراہ وزیر داخلہ شیخ رشید احمد و دیگر افراد بھی موجود ہیں۔
ذرائع کا کہنا تھا کہ وزیراعظم عمران خان گورنر ہاؤس بلوچستان جائیں گے اور صوبے میں امن و امان کے اجلاس کی صدارت کریں گے۔
مزید یہ کہ وزیراعظم کی جانب سے ہزارہ برادری سے بھی ملاقات متوقع ہے۔
واضح رہے کہ وزیراعظم کا یہ دورہ مچھ میں پیش آئے سفاکانہ قتل کے واقعے کے بعد خصوصی طور پر کیا جارہا ہے اور اس حوالے سے وزیراعظم نے بھی کچھ دن قبل ایک ٹوئٹ میں کہا تھا کہ میں بہت جلد کوئٹہ پہنچوں گا۔
قبل ازیں مچھ واقعے میں قتل کیے گئے کان کنوں کی تدفین کوئٹہ کے ہزارہ ٹاؤن قبرستان میں کردی گئی، اس دوران شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
کان کنوں کی نماز جنازہ علامہ راجا ناصر عباس نے پڑھائی جس میں لواحقین، اہل علاقہ اور شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
اس کے علاوہ وفاقی وزیر علی زیدی، معاون خصوصی زلفی بخاری، ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی قاسم سوری، صوبائی وزیر داخلہ میر ضیا لانگو سمیت صوبائی وزرا ، اراکین اسمبلی اور سماجی رہنما بھی شریک ہوئے۔
خیال رہے کہ رات گئے حکومت اور ہزارہ برادری کے درمیان کامیاب مذاکرات کے بعد لواحقین نے 6 روز سے جاری دھرنے کو ختم کرنے اور میتوں کی تدفین کا اعلان کیا تھا۔
رات گئے جو حکومت کی جانب سے جن مطالبات کو تسلیم کیا گیا ان میں جے آئی ٹی کا قیام، عہدیداروں کی معطلی و دیگر شامل ہیں۔
یہاں یہ بات واضح رہے کہ وزیراعظم نے گزشتہ روز ایک تقریب سے خطاب میں کہا تھا کہ ہزارہ برادری میتوں کی تدفین کردے میں فوری کوئٹہ پہنچ جاؤں گا۔
تاہم اسی تقریب میں وزیراعظم کی جانب سے دیے گئے ایک بیان پر انہیں شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا اور انہوں نے ان کی آمد کی کو تدفین کرنے سے جوڑنے کو ’بلیک میلنگ‘ کہا تھا۔
عمران خان نے کہا تھا کہ ان لواحقین کے گھروں میں کمانے والوں کو مار دیا گیا، میں نے انہیں یقین دہانی کرائی کہ ہم ان کا پوری طرح خیال رکھیں گے، انہوں نے ہم سے جو بھی مطالبات کیے ہم نے تمام مان لیے تاہم ان کا یہ مطالبہ ہے کہ وزیراعظم آئیں گے تو ہم لاشوں کو دفنائیں گے مناسب نہیں۔
ساتھ ہی انہوں نے کہا تھا کہ کسی بھی ملک کے وزیراعظم کو اس طرح بلیک میل نہیں کرتے ورنہ ہر کوئی بلیک میل کرے گا، سب سے پہلے ڈاکوؤں کا ٹولہ کہے گا کہ ہمارے سارے کرپشن کے کیسز معاف کرو نہیں تو ہم حکومت گرادیں گے، یہ بھی ڈھائی سال سے بلیک میلنگ چل رہی ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.