fbpx

”پرا سٹیٹ گلینڈز کو بغیر آپریشن“

آرٹیکلز
پراسٹیٹ گلینڈ زایک اخروٹ کی شکل کا ہوتا ہے

اس کا سائز بادام جتنا ہوتا ہے تو یہ مثانہ کی گردن کے بالکل ساتھ واقع ہوتا ہے اور یوریتھرا کے چاروں طرف پھیلا ہوتا ہے اسی وجہ سے کسی انفیکشن کی وجہ سے اگر اس کے اندر سوجن آجائے تو اس کی وجہ سے جو پیشاب کی نالی ہے تو یہ پیشاب کی نالی کو بالکل سیدھا کردیتا ہے چونکہ یہ پیشاب کی نالی کے اطراف میں ہوتا ہے۔ اس کی وجہ سے پیشاب کی نالی کے اوپر دباؤ بڑھ جاتا ہے اور یہ مڑنے لگتی ہے اور ٹیڑھی ہونے لگتی ہے جس کی وجہ سے پیشاب کے آنے میں بہت زیادہ رکاوٹ ہونے لگتی ہے اور بہت سارے مرد پراسٹیٹ گلینڈ کی سوجن کا شکار ہوتے ہیں عام طور پر لوگ کہتے ہیں کہ یہ مثانے کی غدود ہے لیکن یہ پراسٹیٹ گلینڈ ہوتا ہے جس کے سوج جانے کی وجہ سے پیشاب کے اندر مسائل آتے ہیں پیشاب قطرہ قطرہ آنا شروع ہوجاتا ہے اس کے ساتھ پیشاب کے اندر بہت زیادہ درد بھی ہوتا ہے اور پیشاب میں بہت زیادہ رکاوٹ ہوتی ہے تو مقعد اور پوشیدہ مردانہ اعضا کے درمیان جگہ پر بہت زیادہ بوجھ بڑھ جاتا ہے جس کی وجہ سے بہت زیادہ بے چینی ہوتی ہے۔جو لوگ بائیک کا زیادہ استعمال کرتے ہیں تو ان کے مقعد کے ساتھ والی جگہ پر بہت زیادہ دباؤ پڑتا ہے جس کی وجہ سے پراسٹیٹ گلینڈ کے اندر سوجن آجاتی ہے تو پراسٹیٹ گلینڈ کے اندر انفیکشن ہونے کی وجہ سے اور پراسٹیٹ گلینڈ کے اندر پتھری ہونے کی وجہ سے اور پراسٹیٹ گلینڈ کے اندر بہت زیادہ انفیکشن یا پھوڑا ہونے کی وجہ سے بھی پیشاب کے رکنے کا اور پراسٹیٹ گلینڈ کے اوپر سوجن آنے کا مسئلہ پیدا ہوجاتا ہے۔جس کی وجہ سے پی شاب آنے میں بہت زیادہ رکاوٹ ہوتی ہے اس سے جو پیچیدگیاں پیداہوتی ہیں ان میں پیشاب کا باربار آنا قطرہ قطرہ آنا یا تکلیف کے ساتھ آنا یا بالکل ہی نہ آنا یا رات کو سوتے ہوئے بہت زیادہ پیشاب کی حاجت کا ہونا اور جب واش روم کے اندرجانا تو بالکل بھی کوئی چیز نہ ہونا اور اس طرح بے چینی کابڑھ جانا نیند پوری نہ ہونا اور مقعد والی جگہ پر بہت زیادہ بوجھ بنا رہتا ہے اور مثانے والی جگہ کے اوپر بھی بہت زیادہ بو جھ بنا رہتا ہے اس سے بہت زیادہ تکلیف کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو بعض دفعہ یہ ہوتا ہے کہ یورین اچھی طرح سے خارج نہیں ہوتا اور اس کی وجہ سے مثانے کے اندر بہت زیادہ بھراؤ پیداہوجاتا ہے اور یہ واپس گردوں کی طرف جاتا ہے تو آخر کا ر گردے فیل ہونے کا بھی خطرہ ہوتا ہے اور گردوں کے اندر انفیکشن ہونے کا بھی خطرہ ہوتا ہے ۔بہت زیادہ یورین کے مسائل پیدا ہونا شروع ہوجاتے ہیں۔ اور انفیکشن بہت زیادہ بڑھ جاتا ہے جس کی وجہ سے بہت زیادہ تکلیف ہوتی ہے اس سے سوجن بھی جسم کے اوپر آنا شروع ہوجاتی ہے جیسے ٹانگوں کے اوپر گھٹنوں کے اوپر بہت زیادہ سوجن آنا شروع ہوجاتی ہے پوشیدہ اعضا اور فوطوں کے اوپر بھی بہت زیادہ سوجن آنا شروع ہوجاتی ہے۔ اس کے علاج کے لئے سیبال سیرولیٹا30 پوٹینسی کے اندر لے لیں اور اس کے ساتھ ایک اور میڈیسن کونیم بھی 30 پوٹینسی کے اندر لے لیں اور سٹیفی سائیگریا بھی 30 پوٹینسی کے اندر لے لینی ہیں۔ایک گھونٹ پانی کے اندر ان تینوں دواؤں کے پانچ پانچ قطرے ڈال کر پی لیجئے اور اس کو دن میں 4 سے 5 دفعہ استعمال کریں انشاء اللہ یہ تمام مسائل دور ہوجائیں گے ۔اللہ ہم سب کو صحت والی لمبی زندگی عطافرمائے ۔