پولیس والے دودن تک ریپ کرتے رہے خاتون کا موقف ،عدالت عالیہ نے تحقیقات کا حکم دے دیا

سرینگر (باغی مانیٹرنگ ڈیسک)مقبوضہ کشمیر میں عدالت عالیہ نے پولیس کی کرائم برانچ کو حکم دیا ہے کہ وہ ایک خاتون کی طرف سے تین پولیس افسروںپر عصمت دری کے الزام کی تحقیقات کرے ۔ خاتون کا کہنا ہے کہ پولیس افسروںنے ان کے گھر کو مسمار کرنے کے بعد اس کی عصمت دری کی ہے۔ خاتون کی طرف سے دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ3اگست 2018ءکو تین پولیس افسروں کے ہمراہ انسداد تجاوزات کی ایک ٹیم نے ان کے گھر کو مسمارکیا۔ ان کے گھر کو نہ صرف بغیر کسی نوٹس کے مسمارکیاگیا بلکہ پولیس افسروں نے اس موقع پر ان سے بدتمیزی کی اور اس کو گاڑی میں ڈال کرپولیس سٹیشن چنور لے گئے۔ انہوں نے کہاکہ انہیں 3سے 5اگست تک دو راتوں کے لےے پولیس سٹیشن میں رکھا گیااوران کے خلاف ایک جھوٹا کیس درج کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ 3اگست2018ءکی شام کو اسے پولیس سٹیشن کے عقب میں ایک الگ کمرے میں لے جایا گیاجہاں تین آدمیوں نے اس کی عصمت دری کی۔ انہوں نے کہاکہ وہ اپنا معائنہ کرانے کے لےے جموں کے ہسپتال گئیں لیکن پولیس افسروں نے وہاں ان کا معائنہ نہیں ہونے دیا۔ خاتون کی روداد سننے کے بعد عدالت عالیہ نے حکم دیا کہ چیف جوڈیشل مجسٹریٹ جموںکی ہدایت کے مطابق تحقیقات کا مقصد سچ کی تہہ تک پہنچنا ہونا چاہےے اور تحقیقات کرائم برانچ کے ایس پی سطح کے افسر کے ذریعے کرائی جائے۔ عدالت نے تحقیقاتی رپورٹ 29جون 2019تک پیش کرنے کا حکم دیا۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.