fbpx

چنیوٹ اسلامیہ ہسپتال میں غریب لوگوں کو ذلیل خوار کیا جانے لگا فیس لینے کے بعد بتایا جاتا ہے ڈاکٹر دو گھنٹے لیٹ ہے اور فیس واپس نہیں ہو گی

واقعہ بیان کرنے سے پہلے عرض کرنا چاہوں گا کہ میں عام آدمی کے احساسات اور تحفظات لکھتا ہوں

خاص لوگوں کے لئے ان احساسات کو سمجھنا تھوڑا مشکل ہوتا ہے کیونکہ
عام آدمی کی رسائی ہرگز وہاں تک نہیں ہوتی

جہاں تک خاص لوگ اپنی آواز پہنچا سکتا ہے یا
جہاں خاص افراد کے ساتھ احترام اور مہربانی والا سلوک ہوتا ہے
ہمارے معاشرے میں آج بھی
اکثر عام آدمی سے اچھوت والا ہی سلوک کیا جاتا ہے
کیونکہ خاص افراد کی اپنی ایک پہچان ہوتی ہے جو
عام آدمی کو میسر ہی نہیں
اس تکلیف کا اندازہ ہر گز خاص طبقہ نہیں لگا سکتا جو عام آدمی روزانہ اور
کبھی کبھی دن میں متعدد بار برداشت کرتا ہے
وہ لمحات کتنے تکلیف دہ ہوتے ہیں
جب عام آدمی اپنے ساتھ ہونے والی زیادتی کے لئے بول بھی نہیں سکتا
صرف اپنے رب سے دل ہی دل میں شکایت کرسکتا ہے
ایک ماں اپنی بیٹی کو لیکر اسلامیہ ہسپتال ایک ڈاکٹر سے چیک کرانے جاتی ہے
عموماً چیک کرانے کی فیس عام آدمی کی ایک دن کی مزدوری جتنی ہوتی ہے
بلکہ کچھ ڈاکٹرز کی فیس مزدور کی ایک دن کی مزدوری سے بھی زیادہ ہوتی ہے
باپ دن بھر کی کمائی بیٹی کو دیکر اسے چیک کرانے کا کہہ کر کام پہ چلا جاتا ہے
اب ماں اور بیٹی اسلامیہ ہسپتال آتے ہیں
بیٹی کو تکلیف ہورہی ہے
ڈاکٹر کی فیس جمع کرانے کے بعد پتہ چلتا ہے کہ
ڈاکٹر صاحب ایک یا دو گھنٹے بعد آئیں گے
پتہ کرنے پر پتہ چلتا ہے کہ وہی ڈاکٹر اس وقت اپنے پرائیویٹ کلینک پہ موجود ہیں
ماں پرچی واپس کرتے ہوئے فیس واپس مانگتی ہے تاکہ اسی ڈاکٹر کو اسکے پرائیویٹ کلینک پہ فوری چیک کروا سکیں
کیونکہ بچی کی تکلیف ماں سے برداشت کرنا مشکل ہو رہا ہے
لیکن ماں کو بتایا جاتا ہے کہ اسلامیہ ہسپتال کا اصول ہے کہ ایک بار فیس لینے کے لئے کسی صورت واپس نہیں ہوسکتی
آپ چیک کروائیں یا نہ کروائیں اس سے اسلامیہ ہسپتال کو کوئی مسئلہ نہیں
اس وقت اس ماں کے دل کی کیفیت کا اندازہ کون لگا سکتا ہے کہ پہلے کتنی مشکل سے پیسوں کا بندوبست ہوا تھا
اتنے میں اس فیملی کا ایک اور ممبر یہاں آتا ہے
ماں پریشانی میں سارا واقعہ سناتی ہے
وہ بندہ پرچی والے سے بات کرتے ہیں کہ براہ مہربانی انکی فیس واپس کردیں
ابھی تو آپکے ڈاکٹر صاحب ہی نہیں آئے تو فیس واپس کرنے میں کوئی مسئلہ تو نہیں ہونا چاہیے
لیکن اسے بھی وہی جواب دیا جاتا ہے کہ کچھ بھی ہو جائے آئے ہوئے پیسے واپس نہیں ملیں گے
اب وہ بندہ اس فیملی کو لیکر ڈاکٹر کے پرائیویٹ کلینک پہ چیک کروا کر انہیں واپس گھر بھیج دیتا ہے
کہ وہ اسلامیہ ہسپتال سے فیس واپس لے لے گا آپ گھر جاکر آرام کریں
وہ شخص مجھے کال کرکے سارا واقعہ بتاتا ہے لیکن میرا دل یہ تسلیم کرنے کو تیار نہیں کہ ایسا کیسے ہوسکتا ہے کہ ڈاکٹر کی فیس جمع کروا دی ہے اب اگر چیک نہیں کروانا تو فیس واپس کرنے میں کونسا ایشو بن رہا ہے جو چند سو روپے واپس نہیں کئے جارہے
بہرحال احتیاطاً میں نے اسلامیہ ہسپتال کے ایڈمن آصف صاحب کا نمبر لیکر اس بارے ان سے بات کی تو انہوں نے کہا کہ یہی ہمارا اصول ہے
جب اسے تعارف کرایا تو انہوں نے کہا کہ آپ آجائیں جیسا آپ کہتے ہیں کروا لیتے ہیں
یہاں ایک بار پھر یہ عرض کرنا چاہوں گا ایڈمن تک رسائی عام آدمی کے بس کی بات ہی نہیں اور اگر وہاں تک پہنچ بھی جائے تو کونسا اسکی شکایت کا ازالہ کیا جائے گا
اگر ایک خیراتی ہسپتال میں عام آدمی کے حقوق کا تحفظ نہیں کیا جارہا تو باقی سب میں تو اللہ ہی حافظ ہے
خیراتی ادارے اور سیاست دان سب سے زیادہ عام آدمی کے حقوق کا نعرہ لگا کر اپنے مفادات کو تحفظ دیتے ہیں
ہم میں سے بہت سے ایسے افراد ہیں جن کے لئے چند سو
چند ہزار کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی
لیکن کچھ لوگوں کے لئے چند سو پسینے کے ہزاروں قطرے بہا کر اور گھنٹوں محنت کر کےمیسر آتے ہیں