چھ عادتیں اپنائیں، اپنا گھر ہمیشہ سمٹا پائیں ۔۔۔ شوکت سلفی

گھر اور زندگی کو آرگنائز رکھنا بہت مشکل کام ہے لیکن ناممکن بالکل نہیں ہے۔ زندگی گزارنے کے کچھ طور طریقے ہوتے ہیں کچھ اصول ہوتے ہیں جس پر چل کر ہی انسان انسان کہلاتا ہے۔ اسی طرح گھر میں بھی ترتیب اور اصول بہت ضروری ہے لیکن یہ تب ہی ممکن ہوسکتا ہے جب گھر اور معاملاتِ زندگی کو منظم انداز میں چلایا جائے۔

گھر ایک ایسی جگہ ہے کہ جس کے بارے میں سوچتے ہی ہمارے ذہن میں سب سے پہلا خیال سکون و راحت کا آتا ہے۔ تھکا ہارا جب انسان گھر لوٹتا ہے تو وہ اپنے گھر کے ہر حصے کو صاف اور نفاست سے سجا دیکھنا چاہتا ہے۔ کمرہ ہو یا واش روم، کچن ہویا ڈرائنگ روم ہر ایک جگہ میں انسان آرام تلاش کرتا ہے۔ الماری میں کپڑے بکھرے رہنا، کمرے میں بے ترتیبی، واش روم کی صفائی نہ ہونا، کچن میں ہر چیز بے ترتیب انداز میں ہونا یہ سب جہاں سستی اور کاہلی کی نشانی ہے وہیں یہ بے ترتیبی انسان کی زندگی پر منفی اثر بھی چھوڑتی ہے۔ ناصرف گھر خوبصورت نظر آنے کے لیے بلکہ ذہنی سکون کیلئے بھی گھر میں صفائی ستھرائی کا خیال رکھنا بےحد اہم ہے کیونکہ اسکا اثر براہِ راست انسان کی شخصیت اور مزاج پر پڑتا ہے۔ ہم آپ کو چند ایسی عادتیں بتاتے ہیں جنھیں اگر آپ اپنا لیں تو گھر کو صاف رکھنا بے حد آسان ہو جائے گا۔

1۔جو چیز جہاں سے اٹھائیں وہیں رکھیں

سامان کا بکھرنا اور چیزوں کو اِدھر اُدھر پھیلا دینا گھر کی بے ترتیبی کی سب سے بڑی وجہ ہے۔ کپڑوں کا پلنگ پر بکھرا ہونا، اخبارات کا ٹیبل پر پڑا رہنا، ڈریسنگ ٹیبل پر لپ اسٹک یا پاﺅڈر کھلے پڑے رہنا یہ سب بےقاعدگی کی نشانی ہے۔ الماری میں کپڑے طے کرکے رکھیں۔ روز مرّہ کے کپڑے ایک طرف رکھیں اور دعوتوں، شادیوں کے کپڑوں کو الگ شیلف میں رکھیں۔ ضروری کاغذات کو اِدھر اُدھر پھیلانے کے بجائے الماری کے دراز میں کسی فولڈر میں رکھیں۔ کپڑے، پرس، جیولری یہاں تک کے جوتوں کی بھی جگہوں کو الگ رکھیں۔

2۔باکسزکا زیادہ سے زیادہ استعمال کریں

کوشش کیا کریں کہ چیزوں کو رکھنے کے لیے باکس کا استعمال کریں ۔چاہے وہ چارجر ہو یا ائیر فون۔ نیل کٹرسے لے کر ہیئرپن تک کے لیے باکسز بنائیں تاکہ دراز میں بھی چیزیں بکھری نہ پڑی رہیں۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ جب کہیں جانے کی جلدی ہو اور مذکورہ چیز نہ مل رہی ہوتو ڈھونڈنے کے چکر میں پندرہ سے بیس منٹ ضائع ہوجاتے ہیں۔ چیزوں کو باکس کے اندر رکھنا سیکھئے تاکہ کھونے یا گُم جانے کے چکر سے بچا جاسکے۔ باکس پر نام بھی لکھا جا سکتا ہے یا رنگ کے حساب سے چیزوں کو رکھا جا سکتا ہے جیسے نیلے ڈبے میں چوڑیاں ہیں تو پیلے ڈبے میں بال پن۔

3۔کچن کا سلیب ہمیشہ صاف رکھیں

کچن گھر کا وہ حصہ ہے جوکہ گھر کی خواتین کے لیے ہر وقت مصروفِ عمل رہنے کی جگہ ہوتی ہے اور اسی سے خواتین کے سگھڑپن کا اندازہ بھی لگایا جاتا ہے۔ کچن کو صاف رکھنا اور کھانا پکاتے وقت چیزوں کو نہ پھیلانا بھی ایک آرٹ ہے جسے ہر عورت کو آنا چاہیئے۔ غیر ضروری برتن نکالنے سے گریز کیا کریں۔ مصالحے کے ڈبے کو ہمیشہ ترتیب سے رکھیں۔سنک سے لے کر اوون تک کی صفائی اہم ہے۔ ہفتے میں ایک بار کیبنٹ اندر سے ضرور صاف کریں۔

4۔گھر میں بے جا سامان نہ بھریں

گھر کو صاف اور اچھا رکھنے کیلئے جہاں صفائی اور مینٹیننس ضروری ہے وہیں یہ بھی ضروری ہے کہ بے جا اور غیر ضروری سامان سے پرہیز کیا جائے۔ کبھی کبھی یہ بھی ضروری ہے وہ بھی ضروری ہے کے چکر میں سامان کا انبار جمع ہو جاتا ہے ۔ وہ کچن ہو یا گھر کا کوئی بھی حصہ صرف یہی نہیں اکثر لوگ اپنے گھروں کی چھتوں میں کاٹھ کباڑ کا پہاڑ اکھٹا کرکے رکھتے ہیں۔ گھر کو اچھا، پرسکون اور آرام دہ رکھنے کیلئے یہ بھی ناگزیرہے کہ صرف وہی اشیاء رکھیں جوکہ کام کی ہیں غیر ضروری اور پرانی ہوچکی چیزوں کو رکھنا بالکل بے کار ہے کیونکہ نہ تو اسے استعمال میں آنا ہے اور نہ ہی صحیح ہونا ہے اس سے بہتر ہے کہ اسے نکال کر گھر کو خراب لگنے سے بچالیں ۔

5۔روزانہ ڈسٹنگ کریں

گھر کو صاف ستھرا رکھنے کیلئے روزانہ کی جھاڑبونچھ اور ڈسٹنگ بہت ضروری ہے ۔دھول مٹی اور گردوغبار کے جمع ہوجانے سے گھرنا صرف خراب لگتا ہے بلکہ چیزیں خراب ہوجاتی ہیں جیسے قالین یا گھر کا دیگر سامان۔

6۔چھوٹی موٹی مرمتیں کراتے رہیں

وہ رنگ ہو یا مرمت ہر چیز حفاظت مانگتی ہے کپڑے بھی اگر پھٹ جائیں تو ہم سی لیتے ہیں اسی طرح گھر کی کوئی چیز خرابی کا شکار ہوجائے تو اسکی مرمت بہت ضروری ہے تاکہ چیزوں کو بُرا لگنے اور خرابی سے بچایا جاسکے۔کوشش کریں کہ تھوڑی بھت توڑ پھوڑ پر ہی مرمت کرالیں ۔ کیونکہ زیادہ دیر لگانے سے بعض اوقات چھوٹا کام بھی بڑا خرچہ کرا دیتا ہے ۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.