fbpx

کتوں کی بہتات سے شہری سخت پریشان

قصور اور گردونواح میں اوارہ کتوں کی بھر مار سے شہری پریشان،کتوں کے کاٹنے کے واقعات میں اضافہ جبکہ ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ محکمے کتوں کی تعداد میں کمی کرنے میں ناکام، شہری تنظیموں کا اعلی حکام سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ

تفصیلات کے مطابق قصور کے مختلف علاقوں کوٹ حلیم خاں،بستی شاہدرہ،قصاب خانہ،بکرمنڈی چوک،شفیع والا چوک،بستی قاردآباد،اسٹیل باغ،پاکیزہ کالونی اور نواحی علاقے اٹھیل پور نول۔بھیڈیاں کلاں،گنڈا سنگھ والااور دیگر علاقوں میں آوارہ کتوں کا گشت جاری رہائشی علاقوں سے ان آوارہ کتوں کا اخراج لازم ہے مقامی شہریوں اور دیہات کے رہنے والے ان کتوں سے کافی خوفزدہ ہیں قصو ر میں کتوں کے کاٹنے کے ایسے واقعات بھی ہوچکے ہیں جو کہ رپورٹ نہیں کیے گئے اور نہ زخمی ہونے والے افراد سرکاری اداروں تک رسائی حاصل کرسکے ہیں ایسے لوگ جن کو اس کے بارے انفورمیشن نہیں ہے اپنے مقامی علاقوں میں ہی اتائیوں اور نیم حکیموں سے علاج کروا لیتے ہیں زرائع کے مطابق پنجاب حکومت نے ماتحت اداروں کو یہ واقعات رپورٹ کرنے کی زمہ داری سونپی تھی مگر اس کے باوجود بھی کچھ پیش رفت نہیں ہوسکی اور معاملہ یوں کا توں ہی ہے آئے روز آوراہ کتوں کے کاٹنے سے لوگوں کی ہلاکتیں اور زخمی ہونے کے واقعات ہورہے ہیں جو مختلف اخبارات میں شائع بھی ہوچکے ہیں ایک شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق قصور میں چند گنے چنے ہی واقعات ہیں جو رجسٹرد ہیں مگر جو رجسڑڈ نہیں ہوئے وہ الگ ہیں کتوں کے کاٹنے کے واقعات کی تعداد میں کافی اضافہ ہوچکا ہے جس کے لیے محکمہ صحت کو فوری طور پر آپریشن کلین اپ کرنے کی ضرورت ہے آوارہ کتے اکثر و بیشتر سلاٹر ہاؤسز،پارکوں،فیکٹریوں،پولٹری فارمز اور شادی حالوں کے باہر دندناتے پھر رہے ہیں قصور بھر کے شہریوں،سماجی،سیاسی اور مزہبی تنطیموں کا کہنا ہے کہ حکومت پنجاب کو جلد از جلد اس کے لیے جنگی بنیادوں پر اقدامات کرنے کی ضرورت ہے تاکہ قصور کے شہری بھی سکون سے اپنی زندگی گزار سکیں