کرکٹ ٹیم کے کپتان کا فیصلہ کب ہو گا اور امام الحق کا معاملہ کیوں بگڑا؟ ایم ڈی پی سی بی نے بتا دیا

ایم ڈی پی سی بی وسیم خان نے کہا ہے کہ ایم سی سی ورلڈ کمیٹی کوشش کر رہی ہے کہ پاکستان بھارت کرکٹ جلد بحال ہو تاکہ شاہقين کرکٹ کو عمدہ کرکٹ ديکھنے کو ملے،

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق لاہور ميں ميڈيا سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ کپتان کے مستقبل کا فیصلہ دو اگست کی میٹنگ میں نہیں ہو گا۔ سری لنکا کے خلاف سیریز ستمبر کے آخر میں ہے ابھی کپتان يا ٹيم کے اعلان کي کوئی جلدی نہیں ۔ کرکٹ کمیٹی کے اجلاس میں ہیڈ کوچ ۔ اسپورٹ اسٹاف اور سلیکشن کمیٹی پر تجاویز تيار کي جاہيں گي۔ ايم ڈي پي سي بي کا کہنا تھا کہ کرکٹ کميٹي کے اجلاس ميں ابھی ہم نے صرف کارکردگی کا جائزہ لینا ہے پھر فیصلے کرنے ہیں ديکھا جاے تو پاکستان ٹیم کی کارکردگی اوسط درجے کی رہي ہے ٹيم کي کارکردگي ميں تسلسل نہیں ہے ،

امام الحق کے سوشل ميڈيا پر واقع پر ان کا کہنا تھا کہ امام الحق سے بات ہوئی ہے ۔ وہ معافی مانگ رہا تھا کہ اس سے غلطی ہوئی ‏اس کا کہنا تھا کہ معاملہ غلط فہمی کي بنا پر بڑھا ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ امام الحق کو بتا دیا ہے کہ پی سی بی اب کیا معیار چاہتا ہے ۔ اور ایسا رویہ قابل قبول نہیں ہے وہ پاکستان کے سفیر ہیں وسيم خان کا کہنا تھا کہ پی ایس ایل جنرل کونسل کی میٹنگ جلد بلا رہے ہیں ۔ فرنچائز کے ساتھ مل کر پلاننگ کر رہے ہیں ۔ پی ایس ایل اجلاس میں تاخیر ہونا قابل قبول نہیں فرنچائز نے سرمایہ کاری کی ہو ئی ہے ان کے خدشات دور کریں گے فرنچائز کے ساتھ لانگ ٹرم تعلق قائم کرنے کے بارے میں سوچ رہے ہیں،

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کرکٹ کی بہتری کے لیئے آیا ہوں میرا کوئی سیاسی بیک گراونڈ نہیں ۔ میرے خلاف پراپیگنڈہ کیا جا رہا ہے اور غلط حقائق بیان کیئے جا رہے ۔ نہ تو مجھے بڑا گھر ملا ہے نہ گاڑی نہ نوکر میری کارکردگی کا جائزہ لیں کردار کشی نہ کریں ۔ ڈومیسٹک کرکٹ لاگو کرنے کے لیئے آئین میں ترامیم کی ضرورت ہے

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.