ورلڈ ہیڈر ایڈ

کیا سندھ کا کوئی والی وارث ہے؟؟؟ تحریر: حجاب رندھاوا

لیاقت قائمخانی کی پوری دولت ابھی سامنے آنے میں کچھ دن لگے گے لیکن 20 گریڈ کے افسر کا محل نما گھر اور گھر سے 10 ارب روپے مالیت کی جائدادوں کی فائلیں، گاڑیاں، زیور، بانڈ، کرنسی ملنا لمحہ فکریہ ہے

لیاقت قائمخانی جس نے اسسٹنٹ ڈائریکٹر کے عہدے سے ملازمت کا آغاز کیا اور اس نے آخری تنخواہ سوا لاکھ روپے وصول کی تھی اس کا محل نما گھر؟؟ ؟
سوا لاکھ تنخواہ میں؟
اور گھر سے دس ارب مالیت کی اشیاء کی برآمدگی؟؟؟ ؟

کیا سندھ میں اس طرح جنگل کا قانون تھا کہ جو چاہتا لوٹتا رہا
لیاقت قائم خانی نے کراچی کے باغات کی بحالی۔اور تزئین و آرائش کے نام پر لوٹ مار کی جس کی تفصیلات منظر عام پر آ رہی ہیں ۔
لیاقت قائمخانی نے 20 سالوں میں کراچی کے 71 پارکس کو صرف کاغذات میں بنایا اور سابق ڈی جی پارکس نے ایک ارب سے زائد روپے ہڑپ کر لیے

مئیرکراچی کے مشیر لیاقت قائم خانی 2012 میں شہید بے نظیر بھٹو پارک کے نام پر قومی خزانے کو 24کروڑ کا چونا لگا چکے ہیں۔

شہید بے نظیر بھٹو پارک میں لوٹ مار پر لیاقت قائم خانی پر اینٹی کرپشن نے مقدمہ بھی درج کیا تھا۔

سابق گورنر اور پیپلزپارٹی کی اعلی قیادت کے دباؤ پر لیاقت قائم خانی پردرج مقدمات کو سرد خانے کی نظرکر دیا گیا۔

لیاقت قائم خانی نے باغ ابن قاسم کی طرح شہید بے نظیر بھٹو پارک میں بھی جعلی کام کرائے۔
لیاقت قائم خانی کراچی کے باغات پر بھالو مٹی کے بجائے سمندری مٹی ڈالتا تھا۔ لیاقت قائم خانی نے صرف شہید بے نظیر بھٹو پارک پر ایک کروڑ کے جعلی درخت اور پودے لگائے

کے ایم سی محکمہ باغات کے 14ملازمین لیاقت کے گھر پر اور 7 ملازم اہم شخصیات کے گھروں پر کام کرتے تھے۔

باتھ آئی لینڈ کلفٹن میں لیاقت علی نے گلشن فیصل پارک کے نام پر 40 لاکھ ہڑپ کئے۔۔

لیاقت قائم خانی کے گھر سے برآمد ہونے والی گاڑیوں جائیداد کی دستاویزات پرائز بانڈز سونے ہیرے اور قیمتی ساز و سامان کی مالیت کا اندازہ 3 ارب روپے سے اوپر ہے جبکہ ملزم سے ایک لاکر مزید کھلوایا جانا باقی ہے۔ ملزم کی دیگر جائیدادوں کی تفصیلات بھی حاصل کی جارہی ہیں۔

لیاقت قایم خانی کے قریبی افسران میں سابق ڈی جی پارک طاہر درانی ایڈیشنل ڈائریکٹر اخلاق بیگ شامل تھے۔ آزاد نامی افسر اور ایڈیشنل ڈائریکٹر خورشید بھی لیاقت خانی کے قریبی افسرتھے۔جو اس کے کرپشن پارٹنر تھے

لیاقت قائمخانی نے پارکس میں جعلی کام کرانے کے لیے جعلی کمپنیاں بنائی ہوئی تھیں، جعلی کمپنیوں کے نام پر فنڈز ریلیز کئے جاتے تھے جس سے کسی کو کوئی حصہ نہیں دیا جاتا تھا

نیب ذرائع کے مطابق لیاقت قائم کی کرپشن کے سیاسی حصے داروں میں پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم دونوں کی اہم شخصیات شامل ہیں۔

لیاقت قائم خانی کے گھر سے برامد ہونے والی گاڑیاں اس نے ٹھیکدار کمپنی فیضان اینڈکو کے مالک چوہدری فیاض، ٹھیکیدار سلیم بھیا، مصطفی ٹھیکیدار سے لیں۔ لیاقت قائم خانی اہم شخصیات کی گاڑیوں کی مرمت بھی کےایم سی کے فنڈز سے کرا کر دیتے تھے

ذرائع کا کہنا ہے کہ لیاقت قائمخانی 2007 سے غیر قانونی طور پر کے ایم سی کے مشیر باغات تھے، گریڈ 21 میں ریٹائرمنٹ کے بعد کے ایم سی سے ایک لاکھ روپے پینشن بھی وصول کرتے تھے
کراچی میونسپل کارپوریشن میں انیس سو اناسی میں بھرتی ہونے والے لیاقت علی قائم خانی کے ایم سی کے بااثر ترین افسر کیسے بنے یہ اب کوئی معمہ نہیں رہا
اس کو بنانے میں پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کی سیاسی شخصیات کا ہاتھ ہے

لیاری کے علاقے گٹر باغیچہ کے رہائشی لیاقت علی قائم خانی نے انیس سو اناسی کے ایم سی میں گریڈ سولہ میں بطور اسسٹنٹ ڈائریکٹر شمولیت اختیار کی اور اس وقت کے میئر کراچی عبدل ستار افغانی ماتحت محکمہ باغات میں بطور ہارٹیکلچرسٹ اپنے کیریئر کا آغاز کیا ، تینتیس سالہ سروس کابیشتر حصہ محکمہ باغات میں گزارا اور پی ای سی ایچ ایس میں قیمتی بنگلے کے مالک بن گئے۔

سن دو ہزار پانچ میں نئے بلدیاتی نظام کے وجود میں آنے کے بعد لیاقت علی قائم خانی نے حیرت انگیز طور تیزی کے ساتھ ترقی کی ۔
سابق ناظم کراچی مصطفی کمال کے دور میں گریڈ اٹھارہ کے ڈائریکٹر لیاقت علی قائم خانی کے لئے ڈی جی پارکس کی پوسٹ بنائی گئی اور انہیں کراچی میں باغات اور کھیلوں کے میدانوں کی بحالی کے حوالے سے سیاہ سفید کا مالک بنا دیا گیا

باغ ابن قاسم کی بحالی کے بعد لیاقت علی قائم خانی سابق گورنر سندھ عشرت العباد اور مصطفیٰ کمال کے سب سے قریبی افسر سمجھے جانے لگے۔

سن دو ہزار دس میں بلدیاتی نظام تو لپیٹ دیا گیا لیکن لیاقت علی قائم خانی اپنے عہدے پر براجمان رہے اور پیپلز پارٹی کی صوبائی حکومت کے قرب حاصل کرنے میں بھی کامیاب ہو گئے۔

بتایا جاتا ہے کہ بوٹ بیسن پارک کی تعمیر نو کے لئے وفاق سے آنے والا تمام فنڈ حکومت سندھ کے بجائے براہ راست لیاقت علی خان کو دیا گیا ، اعتماد اور قربت کا یہ عالم تھا کہ دو ہزار آٹھ میں سابق صدر آصف علی زرداری نے لیاقت علی قائم خانی کو تمغہ امتیازعطا کیا گیا اور پھر دو ہزار گیارہ میں ستارہ امتیاز سے نوازا گیا ۔

اپریل دو ہزار گیارہ میں لیاقت علی قائم خانی گریڈ بیس سے ریٹائرڈ تو ہو گئے لیکن اس وقت کے ایڈمینسٹریٹر کراچی لالہ فضل الرحمن نے انہیں تین سال کی توسیع دے دی جو اگلے ہی سال یعنی دو ہزار بارہ میں سپریم کورٹ کے حکم پر کالعدم قرار دے دی گئی ۔

دو ہزار سولہ میں جیسے ہی بلدیاتی حکومت وجود میں آئی تو موجودہ میئر کراچی وسیم اختر نے لیاقت علی قائمخانی کو بطور مشیر باغات ایک بار پھر محکمہ باغات کے سیاہ و سفید کا مالک بنادیا
اج لیاقت قائم خانی نیب حراست میں ہے جبکہ مئیر کراچی وسیم اختر دوبئ جا چکا ہے
نیب ذرائع کے مطابق میئر کراچی کے مشیر لیاقت قائمخانی کے خلاف تین مزید ریفرنسز بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے، لیاقت قائمخانی پر آمدن سے زائد اثاثے بنانے اور کرپشن اور جعلی دستاویزات کے ریفرنس بھی دائر ہوں گے
حجاب رندھاوا

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.