ورلڈ ہیڈر ایڈ

یمن، سعودی عرب اور ایران میں تباہی مچانے کے بعد پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں تباہی

کہیں ٹڈیوں کو شوق سے کھایا جاتا ہے تو کہیں ان ٹڈیوں سے خوف کھایا جاتا ہے. ٹڈیوں کے سفر کی کہانی بھی چند ماہ قبل شروع ہوئی جب یمن، سعودی عرب اور ایران میں تباہی مچانے کے بعد پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے کئی اضلاع ٹڈی دل کے حملوں کی لپیٹ میں ہیں۔اقوام متحدہ کے ادارہ برائے خوراک و زراعت نے متنبہ کیا ہے کہ بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو ٹڈی دل کے حملوں میں شدت آ سکتی ہے ۔ رپورٹ کے مطابق معمول سے چھ سے سات ہفتے پہلے ہونے والی بارشوں کے نتیجے میں مئی میں جزائر عرب اور جنوب مشرقی ایشیا میں سازگار موسمی حالات ملنے پر ٹڈی دل کی افزائش میں غیر معمولی اضافہ دیکھا گیا۔مشرقی یمن سے غول اور لشکر کی صورت میں سعودی عرب ، اردن، کویت، مصر اورسوڈان ہجرت کرنے والے ٹڈی دل نے بعد میں ایران، پاکستان اور انڈیا کے صحرائی علاقوں کا رخ کیا ہے اور پاکستانی سرحد سے ملحقہ ایرانی صوبہ سیستان و بلوچستان سمیت ایران کے جنوب مشرقی صوبوں میں فصلوں کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔

ایران سے ٹڈی دل ہجرت کرکے پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے ساحلی وصحرائی علاقوں گوادر، کیچ ،پنجگور، خاران، واشک، چاغی اور نوشکی میں درختوں اور فصلوں پر حملہ آور ہوئے ہیں۔بلوچستان میں ٹڈی دل نے ان علاقوں کو متاثر کیا ہے جو گذشتہ ایک دہائی سے خشک سالی کا شکار تھے تاہم رواں سال اچھی بارشیں ہونے کی وجہ سے خشک سالی کے اثرات کم ہونے پر فصلیں اچھی آنے پر زمیندار خوش تھے مگر ٹڈی دل کے حملوں نے ان کے لیے نئی مشکلات کھڑی کردی ہیں۔ ٹڈی دل کے لشکر واشک کے علاقوں ناگ، گورگی، باغ سوپک اور حسین زئی پہنچ گئے ہیں مگر سرکاری سطح پر کوئی اقدامات نظر نہیں آرہے۔ زمینداروں کی ہزاروں ایکڑ پر پھیلی تیار فصلیں تباہ ہوئی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پلانٹ پروٹیکشن اور محکمہ زراعت کو بار بار درخواست دینے کے باوجود ہنگامی اقدامات نہیں کیے جا رہے۔ 20 دن پہلے دو گاڑیاں سپرے کے لیے فراہم کی گئیں مگر ڈسٹرکٹ واشک رقبے کے لحاظ سے پاکستان کے بڑے ضلعوں میں شمار ہوتا ہے۔ 43 ہزار مربع کلومیٹر پر مشتمل ضلع کو دو گاڑیوں سے کور نہیں کیا جا سکتا۔
صغیر احمد نے 90 کی دہائی میں ٹڈی دل کا اس طرز کا حملہ دیکھا تھا۔ ان کے مطابق مکران، واشک، خاران اور چاغی سمیت بلوچستان کے بیشتر علاقے گذشتہ 12 سالوں سے خشک سالی کی لیپٹ میں تھے ۔ یہاں کی آبادی کی اکثریت کا ذریعہ آمدن زراعت اور گلہ بانی ہے۔ خشک سالی کے باعث زمیندار اور گلہ بانی سے وابستہ افراد نان شبینہ کے محتاج ہو گئے تھے۔

پلانٹ پروٹیکشن ڈیپارٹمنٹ پاکستان کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر فلک ناز کے مطابق پاکستان میں 1997 کے بعد پہلی مرتبہ ٹڈی دل نے اس شدت سے یلغار کی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ماہ رمضان سے قبل گوادر اور کیچ کے ایرانی سرحد سے ملحقہ علاقوں گوادر، پسنی، تربت، دشت کے علاوہ کراچی سے متصل ضلع لسبیلہ کے علاقے اوتھل اور بیلہ میں ٹڈی دل کی بڑی تعداد میں موجودگی کی رپورٹس ملیں جس پر ہم نے متاثرہ علاقوں میں ٹیمیں بھیجیں۔

اہل پاکستان کے لیے دلچسپ خبر یہ بھی ہے کہ عرب ممالک میں ٹڈیوں کو شوق سے پکا کر کھایا جاتا ہے کیونکہ اس میں پروٹین، آئرن، کیلشیم، سوڈیم وغیرہ پایا جاتا ہےٹڈیاں کھانے کے شوقین انہیں ’خشکی کا جھینگا ‘کہتے ہیں۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.