fbpx

ایک ہی پودے پر مختلف اقسام کے پھل اگانے کا عالمی ریکارڈ

میلبورن: عراقی نژاد آسٹریلوی شہری حسام صراف نے ایک ہی پودے پر پانچ مختلف اقسام کے پھل اگا کر نیا عالمی ریکارڈ قائم کردیا ہے –

باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا کے مطابق،حسام صراف کی اس کاوش کو گنیز ورلڈ ریکارڈ نے حال ہی میں تسلیم کیا ہے حسام صراف کے مطابق بہت چھوٹی عمر میں اپنے والدین کے ساتھ آسٹریلیا آگئے تھے اور پچھلے کئی سال سے شیپرٹن، وکٹوریا میں مقیم ہیں۔

حسام صراف کہتے ہیں کہ باغبانی کا شوق انہیں اپنے بزرگوں سے ورثے میں ملا ہے اور وہ بچپن میں کئی کئی مہینوں تک اپنے دادا کے باغ میں ان کا ہاتھ بٹانے اور باغبانی سیکھنے میں گزارتے تھے وہ باغبانی میں کچھ الگ کرنا چاہتے تھے لہذا انہوں نے ایک پودے پر مختلف پھل اگانے کی کوششیں شروع کردیں۔

رپورٹ کے مطابق طویل محنت کے بعد آخرکار حسام کو کامیابی حاصل ہوگئی اور وہ ایک ہی پودے پر سرخ و سفید شفتالو (نیکٹرائن)، سفید اور زرد آڑو (peaches)، سرخ و زرد آلوچے (plums)، پیچ کاٹ (آڑو اور خوبانی کا کراس)، خوبانی، بادام اور چیری اگانے میں کامیاب ہوگئے۔

ویسے تو یہ دس اقسام کے پھل بنتے ہیں مگر اِن میں سے شفتالو اور آلوچے کا تعلق ایک ہی نوع (species) کے پھلوں سے ہے جبکہ پیچ کاٹ اپنے آپ میں صرف دو انواع کا کراس ہے جو اپنے آپ میں کوئی علیحدہ نوع شمار نہیں ہوتی۔

حسام صراف کے مطابق انہوں نے تمام پہلوؤں کا جائزہ لینے کے بعد ایک پودے پر پانچ انواع کے پھل (یعنی آلوچہ، خوبانی، بادام، آڑو اور چیری) اگانے کے عالمی ریکارڈ کےلیے گنیز ورلڈ ریکارڈ کو ای میل بھیجی۔

جواب میں ادارے نے یہ کہہ کر ان کا دعوی مسترد کردیا کہ اس طرح کا ایک ریکارڈ پہلے ہی چلی کے لوئی کاراسکو کے نام ہے جنہوں نے ایک درخت پر پانچ انواع والے پھل اگائے تھے حسام نے صرف وہ ریکارڈ برابر کیا ہے، کوئی نیا ریکارڈ نہیں بنایا حسان نے یہ جواب دیکھ کر کاراسکو کے ریکارڈ کا جائزہ لیا تو معلوم ہوا کہ اس میں آڑو اور شفتالو کو پھلوں کی دو الگ الگ انواع میں شمار کیا گیا ہے، حالانکہ وہ ایک ہی نوع کی دو مختلف اقسام ہیں۔

اسی دلیل کے ساتھ حسام نے ایک بار پھر گنیز ورلڈ ریکارڈ سے رابطہ کیا چھان بین کے بعد گنیز ورلڈ ریکارڈ کے منتظمین نے حسام کی یہ دلیل تسلیم کرلی اس طرح کاراسکو کا ریکارڈ پانچ سے کم ہو کر چار پر آگیا اور ایک درخت پر سب سے زیادہ یعنی پانچ اقسام کے پھل اُگانے کا عالمی ریکارڈ حسام کے نام کردیا گیا۔

حسام صراف کا کہنا ہے کہ ایک درخت پر کئی اقسام کے پھل اگا کر وہ نئی نسل کو پیغام دینا چاہتے ہیں کہ ایک دوسرے سے بہت مختلف ہونے کے باوجود ہم آپس میں مل جل کر رہ سکتے ہیں-

گنیز بک کے مطابق پیوند شدہ پھلوں کی پانچ اقسام آلوچہ، خوبانی، بادام، آڑو اور چیری تھیں۔ حسام نے یہ ریکارڈ ٹائٹل نئی نسل کو "پرامن بقائے باہمی” کا پیغام فراہم کرنے کی کوشش کی، جہاں رنگ، شکلیں اور شاخوں پر مختلف پتے اور پھل معاشرے میں تنوع کی علامت ہیں، اور یہ کہ ہم احترام اور قبولیت کے ساتھ کیسے رہتے ہیں۔ درخت کا تنا ‘مدر فطرت’ کی ایک استعاراتی نمائندگی ہے جو ہمیشہ ہم سب کو متحد کرتا ہے۔