fbpx

پاکستان نے 10 سال میں 18ارب ڈالرز کے نقصان کا سامنا کیا: برطانوی ہائی کمشنر

پاکستان میں برطانیہ کے ہائی کمشنر کرسچن ٹرنر نے کہا ہے کہ پاکستان نے موسمیاتی تبدیلی کے باعث گزشتہ 10 سال میں 18 ارب ڈالرز کے نقصان کا سامنا کیا ہے جبکہ گلیشیئرز تیزی سے پگھلنے کا عمل جاری ہے۔

تفصیلات کے مطابق اپنے ایک بیان میں برطانوی ہائی کمشنر کرسچن ٹرنر نے پاکستان میں آنے والے سیلاب کی وجوہات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ پاکستان کاربن کے عالمی اخراج کے صرف 1 فیصد کا ذمہ دار قرار دیا جاسکتا ہے جو آب و ہوا کے حوالے سے 8واں کمزور ترین ملک ہے۔

بیان میں برطانوی ہائی کمشنر کرسچن ٹرنر نے مزید کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کے باعث گلیشیئرز تیزی سے پگھل رہے ہیں جس سے انتہائی شدید موسم کا سامنا معمول بنتا جارہا ہے۔ وقت آگیا ہے کہ عالمی برادری موسمیاتی تبدیلی کو اقتصادی، سلامتی اور خارجہ پالیسیوں کے تناظر میں عالمی مسئلہ قرار دے۔

پاکستان میں حالیہ سیلاب سے جانی و مالی نقصان پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے برطانوی ہائی کمشنر نے کہا کہ تباہ کاریوں کا پیمانہ جذب کرنا مشکل ہے۔ سیلاب سے ابھرتے ہوئے فوری اور طویل مدتی چیلنجز پیدا ہوئے۔ پاکستان کیلئے سب سے بڑا چیلنج سیلاب زدگان کی بنیادی ضروریات پوری کرنا ہے۔

برطانوی ہائی کمشنر نے کہا کہ پاکستان میں سیلاب سے 1 ہزار سے زائد لوگ جاں بحق، 3 کروڑ 30 لاکھ متاثر، 72 اضلاع آفت زدہ قرار اور 10 لاکھ گھر تباہ ہو گئے۔ 10 لاکھ ایکڑ زرعی اراضی متاثر ہوئی جبکہ 7 لاکھ مویشی مر گئے۔ یہی وجہ ہے کہ برطانیہ نے 15لاکھ پاؤنڈ کی فوری امداد دینے کا اعلان کیا۔

کرسچن ٹرنر نے کہا کہ برطانیہ وفاقی وزیرِ موسمیاتی تبدیلی شیری رحمان، این ڈی ایم اے اور دیگر حکام سے مل کر مزید امداد کی ضروریات کا جائزہ لے رہا ہے۔ کوپ 26 میں برطانیہ پاکستان کے ساتھ شراکت داری کیلئے 5 کروڑ 50 لاکھ پاؤنڈز کا وعدہ کرچکا ہے۔