fbpx

10کروڑ ڈالر کا آن لائن فراڈ، ایف آئی اے کا بڑا ایکشن:کون کون ہیں مجرم تفصیلات آگئیں

کراچی : 10کروڑ ڈالر کا آن لائن فراڈ، ایف آئی اے کا بڑا ایکشن:کون کون ہیں مجرم تفصیلات آگئیں اطلاعات کے مطابق پاکستان میں آئن لائن اپیلکیشن کے ذریعے 10 کروڑ ڈالر کے فراڈ پر کرپٹو کرنسی ایکسچینج کمپنی کو پہلی بار نوٹس جاری کردئیے گئے، کرپٹو کرنسی کی آڑ میں پاکستانی شہریوں سے 18 ارب سے زائد روپے کے فراڈ کا انکشاف ہوا۔

تفصیلات کے مطابق ایف آئی اے سائبر کرائم نے پاکستان میں آن لائن دس کروڑ ڈالر کے فراڈ پر ایکشن لیتے ہوئے کرپٹو کرنسی ایکسچینج کو نوٹس جاری کردیا۔
.
ایف آئی اے سائبر کرائم سندھ کے سربراہ عمران ریاض نے بتایا فراڈ کرنے والوں نے رقم کرپٹو کرنسی کے زریعے بیرون ملک منتقل کی ، اس حوالے سے ایف آئی اے سائبر کرائم کو 9 آن لائن اپلیکیشن کے زریعے اربوں روپے فراڈ کرنے کی شکایات ملیں۔

عمران ریاض کا کہنا تھا کہ پاکستانیوں سے اربوں روپے کا فراڈ آن لائن ایپلی کیشنز کے ذریعے کیا گیا اور یہ آن لائن ایپلی کیشنز کرپٹو کرنسی کی عالمی ایکسچینج بائینانس سے جڑی تھیں۔

ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ نے بائینانس کے پاکستان میں جنرل منیجر کو نوٹس جاری کر دیا ہے، اس کے علاوہ ایف آئی اے نے امریکا اور کے مین آئی لینڈ میں بائینانس کے ہیڈکوارٹرز کو بھی نوٹسز بھیجے ہیں۔

ایف آئی اے کی جانب سے بھیجے گئے نوٹسز میں کہا گیا ہے کہ ممکنہ طور پر کرپٹو کرنسی سے ٹیرر فنانسنگ اور منی لانڈرنگ بھی ہو رہی تھی، پاکستان میں 11 موبائل فون ایپلی کیشنز بائینانس سے رجسٹرڈ تھیں،۔ جن کے ذریعے فراڈ ہوا۔

سربراہ ایف آئی اے سائبر کرائم نے بتایا 11 موبائل فون ایپلی کیشنز دسمبر میں اچانک بند ہو گئیں، جن پر ہزاروں پاکستانی رجسٹرڈ تھے، ان ہزاروں پاکستانیوں نے ان ایپلی کیشنز پر اربوں روپے لگا رکھے تھے۔

عمران ریاض کا کہنا تھا کہ ایپلی کیشنز کے ذریعے ابتدا میں ورچوئل کرنسیز میں کاروبار کی سہولت دی جاتی تھی، بٹ کوائن، ایتھرام، ڈوج کوائن وغیرہ میں سرمایہ کاری بائینانس کے ذریعے ظاہر کی جاتی تھی جبکہ ایپلی کیشنز کے ٹیلی گرام اکاوٴنٹ پر ماہرین کرپٹو کرنسی پر جوا بھی کھلاتے تھے۔

انھوں نے مزید بتایا کہ ایک ایپلی کیشن پر 5 سے 30 ہزار کسٹمر اور سرمایہ کاری 100 سے 80 ہزار ڈالر تھی، ایپلی کیشنز کے ذریعے عوام کو مزید افراد کو لانے پر بھاری منافع کا لالچ دیا جاتا تھا۔

سربراہ سائبر کرائم ونگ نے کہا کہ ایف آئی اے کو بائینانس کے 26 مشتبہ بلاک چین والٹ ملے، جن پر رقوم ٹرانسفر ہوئیں، بینانس نامی کرپٹو کرنسی ایکسچینج سے ایف آئی اے سائبر کرائم سے تمام افراد کا ریکارڈ طلب کیا ہے اور کہا ہے کہ جن افراد نے فراڈ کیا ان کی کرنسی کو بلاک کیا جائے۔

عمران ریاض کا کہنا تھا کہ ایف آئی اے پاکستان سے بائینانس کے ذریعے ہونے والی ٹرانزیکشن کی چھان بین کر رہی ہے، بائینانس ٹیرر فائنانسنگ اور منی لانڈرنگ کے لیے آسان راستہ ہے، امید ہے بائینانس ان مالی جرائم کی تحقیقات میں پاکستان سے تعاون کرے گا۔

Facebook Notice for EU! You need to login to view and post FB Comments!