fbpx

100 نوری سال کے فاصلے پر دو نئے "سپر ارتھ” سیارے دریافت

یہ دریافت ہمیں سیارے کے متعلق مزید مشاہدات کرنے کا موقع دیتی ہے,سائنسدان

برمنگھم:سائنسدانوں کی ایک بین الاقوامی ٹیم نے بدھ کو اعلان کیا کہ انہوں نے صرف 100 نوری سال کے فاصلے پر دو نئے "سپر ارتھ” سیارے دریافت کیے ہیں۔ یہ دونوں ہمارے اپنے سیارےسےنمایاں طور پر بڑے ہیں اور ان میں سے ایک زندگی کے لیے موزوں بھی ہو سکتا ہے جن میں سے ایک کا ماحول ممکنہ طور پرزمین سے مشابہ ہوسکتا ہے۔

ڈائنو سار کو ناپید کرنے والا شہاب ثاقب وسیع آتشزدگی کا سبب بنا

باغی ٹی وی : ناسا کے مطابق، سپر ارتھ نظام شمسی میں ایکسپوپلینیٹ کا ایک منفرد طبقہ ہے جو ہمارے سیارے سے زیادہ بڑے ہیں وہ گیس اور چٹان کے کچھ امتزاج سے بنتے ہیں اور زمین کی کمیت سے 10 گنا زیادہ ہو سکتے ہیں۔ناسا کے ٹرانزٹنگ ایکسپوپلینیٹ سروے سیٹلائٹ اوریونیورسٹی آف لیج کی سرچ فارہیبی ایبل سیاروں ایکلیپسنگ الٹراکول اسٹارز (SPECULOS) کے ذریعے دریافت ہونے والی یہ دریافتیں فلکیات اور فلکیاتی طبیعیات کے جریدے میں شائع کی جائیں گی۔

LP 890-9 ستارے کے گرد دو ایگزو پلینٹ LP 890-9b اور LP 890-9c موجود ہیں جن میں قبل الذکر سیارہ پہلے ناسا کے ٹرازِٹنگ ایگزو پلینٹ سروے سیٹلائیٹ (TESS) نے دریافت کیا تھا۔

2 بہت بڑے بلیک ہولز کے درمیان آئندہ 3 سال کے اندر تصادم متوقع


اس سیارے کی درجہ بندی یونیورسٹی آف برمنگھم میں نصب اسپیکیولوس (SPECLOOS) ٹیلی اسکوپ نے کی جس نے بعد ازاں دوسرے سیارے کو دریافت کیا LP 890-9b زمین سے 30 فی صد بڑا سیارہ ہے جس کا رداس 5,200 میل سے زیادہ ہے اور یہ اپنے مرکزی ستارے گرد چکر 2.7 دنوں میں مکمل کر لیتا ہے۔

تاہم، LP 890-9c زمین سے 40 فی صد بڑا ہے اور اس کے مدار کا دورانیہ قدرے بڑا ہے۔ یہ اپنے مرکزی ستارے کے گرد 8.5 دنوں میں چکر مکمل کرتا ہے جس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس سیارے کے اور ستارے درمیانہ فاصلہ اس سیارے کو زندگی کے لیے سازگار بناتا ہےاسپیکیولوس ٹیلی اسکوپ کا مقصد ہمارے نظامِ شمسی سے باہر ایسے چٹیل سیارے ڈھونڈنا ہے جس کا ماحول زندگی کے لیے سازگار ہو۔

ڈارٹ اسپیس کرافٹ 26 ستمبر کو سیارچے سے ٹکرائے گا،ناسا

اسپیکیولوس ٹیم، جس نے دوسرے سیارے کی دریافت میں مدد دی، کی رہنمائی کرنے والے پروفیسر امورے ٹرائیڈ کا کہنا تھا کہ ہیبیٹیبل زون ایک ایسا خیال ہے جس کے تحت وہ سیارہ جس کے ارضیاتی اور ماحولیاتی صورت زمین کے مشابہ ہوتا ہے اور اس کی سرزمین پر درجہ حرارت پانی کو اربوں سالوں تک مائع حالت میں رہنے دیتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ دریافت ہمیں سیارے کے متعلق مزید مشاہدات کرنے کا موقع دیتی ہے کہ آیا اس کا کوئی ماحول ہے اور اگر ایسا ہے تو کیا وہ زندگی گزارنے کے قابل ہے کہ نہیں۔

گرین لینڈ میں پگھلنے والی برف سطح سمندرمیں ایک فِٹ تک کا اضافہ کرسکتی ہے، تحقیق