fbpx

چار برسوں میں چترال کی 14 خواتین پنجاب میں قتل، مصطفی کمال کا بڑا مطالبہ

*مورخہ 6 فروری 2021*
پاک سرزمین پارٹی کے چیئرمین سید مصطفیٰ کمال نے 4 سال کے مختصر وقت میں چترال کی 14 بیٹیوں کے شادی بعد پنجاب میں بیہیمانہ قتل پر شدید غم، غصے اور تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان 14 بیٹیوں کی قاتل حکومت وقت ہے، گزشتہ 7 سال سے تحریک انصاف کی خیبرپختونخواہ میں حکومت ہونے کے باوجود چترال کی بچیوں کو نا تو تحفظ فراہم کیا گیا، نا قتل کی جانے والی لڑکیوں کے لواحقین کو انصاف میسر آسکا اور نا ہی پی ٹی آئی کی خیبرپختونخواہ کی حکومت نے پی ٹی آئی کی پنجاب حکومت سے قاتلوں کی گرفتاری کےلئے رابطہ کیا۔ تحریک انصاف کے دور حکومت میں انصاف نام کو نہیں، عوام بے حال ہے، انکا کوئی پرسانِ حال نہیں، ملک میں جنگل کا قانون نافذ ہے، انسانی شکل میں درندے دندناتے پھر رہے ہیں کیونکہ حکمرانوں کی تمام تر توجہ سیاسی مخالفین کو زیر کرنے پر لگی ہے۔ مصطفیٰ کمال نے مزید کہا کہ پنجاب کے مختلف اضلاع سے کچھ ذہنی بیمار نوسرباز پہلی شادی کو صیغہ راز میں رکھتے ہوئے چترالی بچیوں سے شادی کرتے ہیں اور بعد ازاں وہ بچیاں مردہ پائی جاتی ہیں۔ مصطفیٰ کمال نے حال ہی میں چینوٹ میں وقوع پزیر ہونے والے واقعے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ چترال کی ایک بیٹی کے ساتھ ساتھ اسکی سات ماہ کی بیٹی کو بھی بے دردی سے زبح کردیا گیا، آج تک قاتلوں کیخلاف کاروائی نہیں ہوسکی۔ 14 لڑکیوں کے قتل پر چترال کے عوام میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ ایسا نا ہو کہ عوام کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو جائے پھر حکمرانوں کو کوئی جائے پناہ نہیں ملے گی۔ مصطفیٰ کمال نے مطالبہ کیا کہ حکومت وقت چترال کی تمام لڑکیوں کے قتل کی شفاف تحقیقات کرائے۔ پاک سرزمین پارٹی تمام مظلوموں کیساتھ کھڑی ہے اور تکلیف کی اس گھڑی میں چترال کی عوام کو تنہا نہیں چھوڑے گی ۔ غریب خاندانوں کی غربت اور شرافت کا فائدہ اٹھانے والے ان انسانیت کے قاتلوں کو نشان عبرت بنایا جائے تاکہ آئندہ کوئی درندہ صفت بیٹیوں کیساتھ ایسا سلوک نا کرسکے۔