17 اگست کی شام عوام ششدر رہ گئی کہ صدر مملکت جاں بحق ہو گئے ہیں

صدرجنرل محمد ضیاء الحق کا حادثہ
17 اگست 1988ء کی شام یہ خبر سن کر پوری قوم حیران، ششدر اور دم بخود رہ گئی کہ صدر مملکت جنرل محمد ضیاء الحق اپنے رفقاء کے ساتھ ایک فضائی حادثے میں جاں بحق ہوگئے ہیں۔

سابق صدر مملکت و سابق چیف آف آرمی سٹاف۔ 1924ء میں جالندھر میں ایک غریب کسان محمد اکبر کے ہاں پیدا ہوئے۔ جالندھر اور دہلی میں تعلیم حاصل کی۔ سن 1945ء میں فوج میں کمیشن ملا۔ دوسری جنگ عظیم کے دوران برما ، ملایا اور انڈونیشیا میں خدمات انجام دیں۔ پاکستان کی آزادی کے بعد ہجرت کرکے پاکستان آگئے۔ 1964ء میں لیفٹینٹ کرنل کے عہدے پر ترقی پائی اور سٹاف کالج کوئٹہ میں انسٹرکٹر مقرر ہوئے۔ 1960ء تا 1968ء ایک کیولر رجمنٹ کی قیادت کی۔ اردن کی شاہی افواج میں خدمات انجام دیں ، مئی 1969ء میں آرمرڈ ڈویژن کا کرنل سٹاف اور پھر بریگیڈیر بنا دیا گیا۔ 1973ء میں میجر جنرل اور اپریل 1975ء میں لیفٹنٹ جنرل کے عہدے پر ترقی دے کر کور کمانڈر بنا دیا گیا۔ یکم مارچ 1976ء کو جنرل کے عہدے پر ترقی دے کر پاکستان آرمی کے چیف آف سٹاف مقرر ہوئے۔
مارشل لا

1977ء میں پاکستان قومی اتحاد نے انتخابات میں عام دھاندلی کا الزام لگایا اور ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف ایک ملک گیر احتجاج کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ یوں اس ملک میں سیاسی حالت ابتر ہو گئی۔ پیپلز پارٹی اور قومی اتحاد کے درمیان کئی مرتبہ مذاکرات ہوئے اور 4 جولائی 1977 کی شام مارشل لا کا نفاذ کردیا گیا۔

انہوں نے آئین کو معطل نہیں کیا اور یہ اعلان کیا کہ آپریشن فیئر پلے کا مقصد صرف ملک میں 90 دن کے اندر انتخابات کروانا ہے ۔مارشل لاء کے نفاذ کے بعد ذوالفقار علی بھٹو پر ایک شہری کے قتل کا مقدمہ چلایا گیا۔ ہائیکورٹ نے ان کو سزائے موت سنائی اور سپریم کورٹ نے بھی اس کی توثیق کر دی۔ یوں 4 اپریل 1979ء کو بھٹو کو پھانسی دے دی گئی۔
درمنصب میں توثیق

دسمبر 1984ء کو انہیں نے صدارتی ریفرنڈم کروایا جس میں کامیابی کے بعد انکے منصب صدارت میں توثیق ہوگئی۔
انتخابات

فروری 1985ء میں غیر جماعتی انتخابات کرانے کااعلان کیا ۔ پیپلز پارٹی نے ان انتخابات کا بائیکاٹ کیا ۔ محمد خان جونیجو وزیر اعظم بنے ۔ باہمی اعتماد کی بنیاد پر 30 دسمبر 1985ء کو مارشل لا اٹھا لیا گیا اور بے اعتمادی کی بنیاد پر آٹھویں ترمیم کے تحت جنرل ضیاء الحق نے 29 مئی 1988ء کو محمدخان جونیجو کی حکومت برطرف کر دی۔
اسلامی قوانین
جنرل محمد ضیاء الحق نے سرقہ، ڈکیٹی ، زنا، ابتیاع شراب ، تہمت زنا، اور تازیانے کی سزاؤں سے متعلق حدود آرڈینس اور زکوۃ آرڈینس نافذ کیا۔ وفاقی شرعی عدالت قائم کی۔ اور قاضی عدالتیں قائم کیں۔
حکمت عملی

سوویت روس کی افغانستان پر جارحیت کا مقصد پاکستان فتح کرکے بحیرہ عرب کے گرم پانیوں تک رسائی حاصل کرنا تھا۔ جنرل محمد ضیاء الحق نے روس اور بھارت کی جانب سے ملکی سلامتی کو لاحق خطرات کا احساس کرتے ہوئے اور افغانستان کی آزادی کے لیے کوشاں عوام کی مدد کرنے کا فیصلہ کیا۔
بعض حلقوں کی جانب سے جنرل موصوف کو بدنام کرنے کےلیے امریکا کو افغان جہاد کا روح رواں ٹھہرایا جاتا ہے۔ لیکن امریکا صرف اپنی مطلب برآری کےلیے افغان جہاد میں شامل ہوا تھا۔ بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ جو ضیاء الحق صاحب نے دہشت گردی کی فصل بوئی کیونکہ انہوں نے جو مدرسے بنوائے ان میں سے نکلنے والے مجاہد ان کی موت کے 13 سال بعد دہشت گرد بن گئے۔ ۔ساتھ ہی جنرل نے کشمیر میں جدجہد شروع کروایا۔ بھارت سے بنگلہ دیش کا بدلہ لینے کے لیے انہوں نے انڈیا میں سکھوں کی تحریک خالصتان شروع کروائی جو ب پھارت کے پنجاب اور کئی دیگر علاقوں پر مشتمل سکھوں کا ایک الگ ملک بنانے کے لئے تھی ۔ اس کی قیادت اس سکھ جنرل کے ہاتھ میں دی گئی جو بنگلہ دیش کی علیحدگی کے وقت بھارتی مسلح افواج کا کمانڈر تھا۔ اس دوران جنرل پر اسرار موت کا شکار ہو گئے۔بعض اطلاعات کے مطابق اس تحریک خالصتان کو ناکام بنانے میں بے نظیر بھٹو نے اہم کردار ادا کیا تھا۔
صدرجنرل محمدضیاء الحق ایک نئے امریکی ٹینک کا تجربہ اور آزمائش دیکھنے کے لئے اسی صبح بہاولپور پہنچے تھے۔
پاکستان میں امریکا کے سفیر آرنلڈ رافیل اور ایک امریکی بریگیڈیئر جنرل واسم بھی ان کے ہمراہ تھے۔
امریکی ٹینک کی مشقیں اور فوجی یونٹوں کا معائنہ کرنے کے بعد جنرل ضیاء الحق شام 3 بجکر 48 منٹ پر پاکستان ائیر فورس کے ایک C-130 طیارے میں جسے صدر مملکت کے سفر کی وجہ سے ’’پاک ون‘‘ کا نام دیا گیا تھا واپس اسلام آباد روانہ ہوئے۔
اس طیارے میں جنرل ضیاء الحق کے ہمراہ جوائنٹ چیف آف اسٹاف کمیٹی کے چیئرمین جنرل اختر عبدالرحمن، چیف آف جنرل اسٹاف لیفٹیننٹ جنرل میاں محمد افضال اور متعدد دوسرے فوجی افسران بھی سفر کررہے تھے۔
ابھی اس طیارے نے ٹیک آف کیا ہی تھا کہ پرواز کے فقط تین منٹ بعد 4 بجکر 51 منٹ پر طیارے کا رابطہ کنٹرول ٹاور سے منقطع ہوگیا اور یہ طیارے ہوا میں قلابازیاں کھاتا ہوا زمین سے ٹکرا گیا۔
زمین پر گرتے ہی طیارے کے ہزاروں ٹکڑے ہوگئے اور ان میں آگ لگ گئی۔
اس کے ساتھ ہی 31 قیمتی جانیں بھی جل کر لقمۂ اجل بن گئیں۔
صدر مملکت اور ان کے رفقا کے فضائی حادثے میں ہلاک ہونے کی خبر پورے ملک میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی۔
اسی رات سینیٹ کے چیئرمین غلام اسحاق خان ملک کے قائم مقام صدر بن گئے جنہوں نے جنرل اسلم بیگ کو چیف آف آرمی اسٹاف مقرر کرنے کا اعلان کردیا۔ تین دن بعد 20 اگست 1988ء کو جنرل محمد ضیاء الحق کو اسلام آباد میں فیصل مسجد کے سایہ تلے دفن کردیا گیا۔
جنرل ضیاء الحق کے طیارے کے حادثہ کی تحقیقات کے لئے پاکستان فضائیہ نے ایک بورڈ آف انکوائری تشکیل دیا۔
اس بورڈ آف انکوائری نے جس کے سربراہ ائیرکموڈور عباس حسین مرزا تھے چند ہفتوں میں اپنی رپورٹ مرتب کرلی۔
رپورٹ کا واحد نتیجہ یہ تھا کہ ’’امکان یہ ہے کہ یہ تخریب کاری کا ایک گھنائونا واقعہ ہے جسے طیارے کے اندر سے روبکار لایا گیا اور جو آخر کار طیارے کے حادثے کا باعث بنا‘‘۔
ان کی حادثاتی کے بعد غلام اسحاق خان نگران صدر منتخب ہوئے۔ جنرل ضیاء الحق کی موت کے حوالے سے تحقیقات کا آغا ز بھی ہوا لیکن آج تک ان کی موت کے متعلق کوئی حقیقت سامنے نہیں آ سکی۔ طیارے میں چیرمین جوائنٹ چیف آف سٹاف کمیٹی جنرل اختر عبدالرحمن سمیت سینئر فوجی افسران سوار تھے۔ امریکی سفیر آنرڈ رافیل اور امریکی جنرل ہربرٹ ویسم بھی حادثہ کے وقت طیارے میں موجود تھے جو ضیاالحق کے ہمراہ پلک جھپکنے میں راکھ کے ڈھیر میں تبدیل ہوگئے۔
تحقیقات

واشنگٹن نے تحقیقات میں پاکستانیوں کی مدد کے لئے امریکی ایئر فورس کے افسران کی ایک ٹیم روانہ کی، لیکن دو اطراف نے مختلف نتائج اخذ کئے۔
امریکی نتائج

مسز ایلی رافیل اور بریگیڈیئر جنرل ویسم کی بیوہ دونوں کو امریکی تفتیش کاروں کی طرف سے بتایا گیا کہ حادثے کی وجہ سی 130 کے ساتھ ایک عام میکانیکی مسئلہ تھا۔
پاکستانی نتائج
نظریات

طیارے کے حادثے کے تناظر میں بہت سی کہانیاں گردش کرتی رہیں۔ “جنرل محمد ضیاء الحق“ کے بیٹے اعجاز الحق ان لوگوں کی تلاش میں سرگرداں رہے جنہیں وہ کھل کر سبوتاژ اورسیاسی قتل کا ذمہ دار سمجھتے رہے۔ جس میں پاکستان اور امریکہ کے اعلیٰ سویلین اور فوجی حکام بھی ہلاک ہوئے۔ طیارے کے حادثے کے چند ہفتوں بعد پاکستانی حکام نے 365 صفحات پرمشتمل خفیہ رپورٹ کی 27 صفحات پر مشتمل خلاصہ پیش کیا، جس میں تفتیش کاروں نے طیارے کے میکانیکی نظام میں ممکنہ خرابیوں کے شواہد کا اظہار کیا تھا لیکن ملکی اورغیر ملکی ذرائع ابلاغ میں اس کے سازش ہونے کی کہانیوں کی کبھی کمی نہیں رہی۔ کچھ ذرائع ابلاغ اس شک کا اظہار کرتے رہے کہ امریکی سی آئی اے نے جنرل محمد ضیاء الحق کو ختم کرنے کے لئے آموں کی پیٹیوں میں اعصاب شکن گیس چھوڑ دی تھی۔ جبکہ دیگر یہ سمجھتے تھے کہ سوویت کے جی بی نے افغان مجاہدین کی حمایت کا جنرل محمد ضیاء الحق سے بدلہ لیا اسی طرح امریکی ” ورلڈ پالیسی جرنل“ نے بھارت میں سابق امریکی سفیر گنتھر ڈین کے حوالے سے لکھا کہ اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کا جنرل محمد ضیاء الحق کے خاتمے میں ہاتھ تھا۔ بہرحال کبھی کوئی نتیجہ خیز اور حتمی بات سامنے نہیں آئی۔ آئی ایس آئی کے سابق ڈائریکٹر جنرل حمید گل، جنرل محمد ضیاء الحق کے قتل کو سی آئی اے کی سازش قرار دیتے ہیں۔ جنرل محمد ضیاء الحق کے بڑے بیٹے اعجاز الحق نے آن ریکارڈ ضیاء مخالف گروپ الذوالفقار پر قتل کا الزام عائد کیا تھا۔ اس وقت اس گروپ کی قیادت بے نظیر بھٹو کے چھوٹے بھائی مرتضی بھٹو کے ہاتھوں میں تھی۔ جنہوں نے اپنے والد ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دیئے جانے کا بدلہ لیا۔ وہ اپنے والد کی ہلاکت پر جنرل اسلم بیگ پر بھی انگلی اٹھاتے تھے۔۔!!!

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.