بجٹ میں 1800 ارب روپے کے اضافی ٹیکسز لگائے گئے ہیں، چئیر مین ایف بی آر

0
130
fbr

وفاقی بجٹ پیش ہونے کے بعد میڈیا بریفنگ دیتے ہوئے ایف بی آر چئیر مین امجد زبیر نے کہا کہ آئی ایم ایف اور ہمارے اہداف ایک جیسے ہوں تو آئی ایم ایف بجٹ میں حرج نہیں،بجٹ میں 1800 ارب روپے کے اضافی ٹیکسز لگائے گئے ہیں۔چیئرمین ایف بی آر امجد زبیر ٹوانہ کا کہنا ہے کہ ایف بی آر کی تاریخ میں بڑی ٹیکس چھوٹ ختم کی گئی ہے۔انکم ٹیکس کی مد میں آئندہ مالی سال 443 ارب روپے کا ٹیکس لگایا گیا ہے،پرسنل انکم ٹیکس کی مد میں 224 ارب روپے کے ٹیکسز لگائے گئے ہیں،سیلز ٹیکس کی مد میں 450 ارب روپے کے اضافی ٹیکسز لگائے گئے ہیں۔ایکسائز ڈیوٹی کی مد میں 289 ارب روپے کے اضافی ٹیکسز لگائے گئےہیں،آئندہ مالی سال میں ایف بی آر 3800 ارب روپے کا ٹیکس جمع کرے گا۔

چیئرمین ایف بی آر نے مزید کہا کہ 2ہزار ارب روپے گروتھ اور عدالتوں میں زیر التوا کیسز میں فیصلوں سے آئیں گے، اگر عدالتوں سے ہمارے حق میں فیصلے نہ آئے تو مزید ٹیکس اقدامات کریں گے۔آئندہ مالی سال کے لیے 434 ارب روپے کی ٹیکس چھوٹ ختم کی ہے،برآمدکنندگان پر ٹیکس چھوٹ ختم کر کے نارمل ٹیکس رجیم میں لائے ہیں،غیر منقولہ جائیداد پر 5 فیصد ایف آئی ڈی لگائی گئی ہے۔دودھ مصنوعات، ایل پی جی درآمد پر زیرو ریٹنگ ختم کی ،درآمدی کمپیوٹرز پر بھی زیرو ریٹڈ ٹیکس ختم کیاہے،آئندہ مالی سال میں 50 ارب روپے ریٹیلرز اسکیم سے آئیں گے،200ارب روپے ڈیجیٹل اقدامات سے آئیں گے۔جو موبائل صارفین ایکٹو ٹیکس پیئر لسٹ میں شامل نہیں ہونگے ان کی کال پر 75فیصد ٹیکس لاگو ہوگا۔

Leave a reply