fbpx

دو کبوتروں کی شاہانہ زندگی ، جن پر سالانہ 9 لاکھ روپے خرچ کئے جاتے ہیں

برطانوی خاتون نے دو کبوتروں کو گود لیا ہے جن پر سالانہ 4000 برطانوی پاؤنڈ (نو لاکھ روپے) خرچ کرتی ہیں۔

باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا کے مطابق ان کبوتروں کو غذائیت بخش مہنگے کھانے کھلائے جاتے ہیں الگ کمرہ ہے اور پیمپر نما کپڑوں کی الماری بھی ہے۔ دونوں کے لیے نرم بستر ہیں اور سیر کے لیے بچوں جیسی گاڑی بھی خریدی گئی ہے۔

ہارر فلمیں دیکھیں اور لکھ پتی بن جائیں

موس اور اسکائی نامی پرندوں پر ان کی مالکن میسی بے تحاشہ رقم خرچ کرتی ہیں اور انہیں سیر کرانے کے لیے بچوں کو لے جانے والی خاص اسٹرولر گاڑی بھی تیار کی گئی ہے 23 سالہ خاتون میگی کو دونوں کبوتر ان کے گھر کے پاس ملے تھے جنہیں وہ اپنے ساتھ لے آئیں۔

میگی کا کہنا ہے کہ ان کی جان بچانے کے لیے نلکیوں اور ہاتھ سے کھانا دیا اور کئی روز تک دونوں پرندوں کا خیال رکھا گیا اب یہ پرندے ان کے دوست بن چکے ہیں اور ان سے بہت پیار کرتے ہیں لیکن اب یہ دونوں پرندے ایک شاہانہ زندگی گزاررہے ہیں ان کی سالگرہ منائی جاتی ہے اور کبوتروں کو ڈھیروں تحفے ملتے ہیں۔

دنیا کا سب سے بوڑھا پینگوئن”موچیکا ” چل بسا

میگی کا کہنا تھا کہ پوری دنیا میں جنگلی کبوتروں کو پرواز کرتے ہوئے چوہے بھی کہا جاتا ہے کیونکہ یہ چھوٹے پرندوں کے لیے نقصان دہ ہوتے ہیں اور اپنی تعداد بڑھاتے رہتے ہیں تاہم میگی کا خیال ہے کہ یہ پرندے بھی کسی دوسرے جانورکی طرح پیارے ہیں اور ان سے محبت کی جانی چاہیئے۔

میگی نے دونوں پرندوں کے لیے الگ الگ کمرے بنائے ہیں جہاں ان کے کپڑے، کھلونے ، پیمپر نما قیمتی پوشاک اور دیگر سہولیات موجود ہیں۔ ہرپرندے کے لیے دو درجن سے زائد کپڑے بنائے گئے ہیں جن میں سے ایک کی قیمت 40 سے 50 ڈالر تک ہے۔

میگی کے مطابق شام کو وہ تھوڑی دیر پرواز کرتے ہیں اور تازہ ہواخوری کے بعد دوبارہ ان کے پاس آجاتے ہیں شام میں انہیں سیر کے لیے باہر بھی لے جایا جاتا ہے جس کے لیے شاہانہ پردوں والی خاص گاڑی بنائی گئی ہے۔