fbpx

دو سے زیادہ بچوں والا الیکشن نہیں لڑ سکتا،فیصلہ ہو گیا

بچے دو ہی اچھے، دو سے زیادہ بچوں والے الیکشن میں امیدوار نہیں بن سکتے، الیکشن کمیشن نے فیصلہ سنا دیا

یہ فیصلہ بھارت کا ہے، بھارتی ریاست جھار کھنڈ میں میونسپل کارپوریشن کے انتخابات ہو رہے ہیں، اس الیکنش میں الیکشن کمیشن نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا ہے کہ جس کے دو سے زیادہ بچے ہوں گے وہ ووٹ تو دے سکتا ہے البتہ امیدوار نہیں بن سکتا،الیکشن کمیشن کے مطابق 9 فروری 2013 کے بعد اگر کسی کے بچے کی پیدائش ہوئی تو وہ بھی الیکشن میں حصہ نہیں لے سکتا، جھارکھنڈ نگر پالیکا ایکٹ 2011 کے مطابق ریاستی انتخابی کمیشن نے حکم جاری کیا ہے، ریاست میں 49 میونسپل کارپوریشن کے انتخابات اگلے کچھ دنوں میں ہونے والے ہیں، اس‌ ضمن میں ریاستی الیکشن کمیشن نے تمام تیاریاں مکمل کر لی ہیں، پہلی بار ایسا ہو رہا ہے کہ تمام میونسپل کارپوریشن کے الیکشن ایک ہی روز کروائے جانے کا امکان ہے

ریاستی الیکشن کمیشن کی جانب سے کہا گیا ہے کہ جن امیدواروں کے بچے دو سے زیادہ ہوں گے انکی درخواستیں مسترد کر دی جائیں گی، امیدواروں کی اہلیت کے حوالہ سے الیکشن کمیشن نے ڈپٹی کمشنر کو سختی سے کاغذات دیکھنے کی ہدایت کی ہے، الیکشن کمیشن کی جانب سے کہا گیا ہے کہ نگر پالیکا ایکٹ کا یہ التزام 5 فروری 2012 سے نافذ ہوا اس کے ایک سال کی مدت کے بعد کسی شخص کی تیسری اولاد ہوئی ہے تو اس کی درخواست بھی مسترد کر دی جائے گی، الیکشن کمیشن کے حکم کے مطابق جڑواں بچے یا گود لیے گئے بچے کو بھی دو بچوں میں ہی شامل کیا جائے گا۔ اگر کسی امیدوار نے غلط معلومات دیں تو اسکے خلاف قانونی کاروائی کی جائے گی،

جب تک مظلوم کوانصاف نہیں مل جاتا:میں پیچھے نہیں ہٹوں‌ گا:مبشرلقمان بھی نورمقدم کے وکیل بن گئے

آج ہمیں انصاف مل گیا،نور مقدم کے والد کی فیصلے کے بعد گفتگو

انسانیت کے ضمیرپرلگے زخم شاید کبھی مندمل نہ ہوں،مریم نواز

مبارک ہو، نور مقدم کی روح کو سکون مل گیا، مبشر لقمان جذباتی ہو گئے

نور مقدم کیس میں سیشن کورٹ کا فیصلہ خوش آئند ہے ،اسلامی نظریاتی کونسل