fbpx

سال 2021 میں انتقال کرنے والی شوبز شخصیات

سال 2021 میں بھی جہاں عام لوگ کورونا سمیت دیگر بیماریوں کے باعث زندگی کی بازی ہار گئے، وہیں اہم شوبز، سیاسی و سماجی شخصیات بھی مداحوں سے بچھڑیں۔

باغی ٹی وی : سال 2021 بھی اپنے اختتام کی جانب بڑھ رہا ہے اور باقیوں کی طرح یہ سال بھی جاتے جاتے ہم سے ایسی شخصیات کو لے گیا جنہوں نے لوگوں کے دلوں پر راج کیا،آج ایسی ہی کچھ شخصیات کے بارے بتائیں گے جن کا اس دنیا سے جانا رواں سال موضوع بحث بنارہا اور پوری قوم کو غمزدہ کرگیا۔

اس رپورٹ میں ہم ان چند معروف شخصیات کو سال کے اختتام پر یاد کر رہے ہیں، جو سال 2021 میں مداحوں سے بچھڑیں۔

شان شاہد کی والدہ نیلو بیگم:
ماضی کی معروف اداکارہ اور شان شاہد کی والدہ نیلو فر بیگم 30 جنوری 2021 کو انتقال کر گئی تھیں سرگودہا کے نواحی قصبے بھیرہ کے مسیحی گھرانے میں آنکھ کھولنے والی سنتھیا الیگزینڈر فلمی دنیا کی نیلو بنی۔

نیلو بیگم نے 1956 میں ہا لی وڈ فلم بھوانی جنکشن کے ذریعے فلمی صنعت میں قدم رکھا تھا مگر پاکستانی فلم صنعت میں انہیں شہرت 1957 کی سپرہٹ فلم ‘سات لاکھ’ کے گانے ‘آئے موسم رنگیلے سہانے’ میں پرفارم کرنے سے ملی۔

کہا جاتا ہے کہ 1964 میں اس وقت مغربی پاکستان کے گورنر ملک امیر محمد خان نے نیلوبیگم کو طلب کرکے شاہ ایران کے سامنے رقص کرنے کی ہدایت کی، جس سے اداکارہ نے انکار کیا تاہم ایسا کرنے پر انہیں ہراساں اور دھمکایا گیا اور مبینہ طور پر گورنر ہاؤس جاتے ہوئے خودکشی کی کوشش کی مگر ڈاکٹروں نے زندگی بچالی۔

اس واقعے پر معروف شاعر حبیب جالب نے ایک نظم بھی لکھی ‘تو ناواقف ادب شہنشاہی تھی، رقص زنجیر پہن کر بھی کیا جاتا ہے جسے 1969 میں فلم زرقا کا حصہ بنایا گیا تھا اور اس فلم پر نیلو بیگم کو بہترین اداکارہ کے نگار ایوارڈ سے بھی نوازا گیا تھایاض شاہد سے شادی کے بعد انہوں نے اسلام قبول کرلیا تھا اور ان کا نام عابدہ رکھا گیا تھا۔

ٹی وی اداکارہ خورشید شاہد:
پاکستان ٹیلی ویژن (پی ٹی وی) کی سینئر اداکارہ اور اداکار سلمان شاہد کی والدہ، خورشید شاہد 95 برس کی عمر میں لاہور میں 27 جون کو انتقال کر گئی تھیں۔

اداکارہ خورشید شاہد طویل عرصے سے علیل تھیں خورشید شاہد نے اپنے فنی کیریئر کا آغاز 9 برس کی عمر میں آل انڈیا ریڈیو سے کیا تھا جبکہ جاندار اداکاری اور مکالموں کی ادائیگی پر عبور اداکارہ خورشید شاہد کی پہچان تھی۔

انہوں نے فنی زندگی کا آغاز مغنیہ کے طور پر کیا تھا، انہوں نے روشن آرا بیگم کی شاگردی اختیار کی تھی اور موسیقی کی بڑی بڑی محفلوں میں داد و تحسین وصول کی تھی بعد ازاں خورشید شاہد نے ریڈیو پر صداکاری اور ٹیلی وژن پر اداکاری کے جوہر دکھائے۔

خورشید شاہد نے ناول نگار اشفاق احمد کے معروف ڈرامے ‘فہمیدہ کی کہانی استانی راحت کی زبانی ‘میں اداکاری کی جس میں انہوں نے مرکزی کردار ادا کیا تھا۔ان کے دیگر ڈراموں ‘کرن کہانی’، ‘زیر زبر پیش’، ‘انکل عرفی’، ‘پرچیاں’ اور ‘دھند’ نے مقبولیت کے ریکارڈ قائم کیے تھے۔

خورشید شاہد نے چند فلموں میں بھی اداکاری کی تھی جن میں ‘چنگاری’ اور ‘بھولا ساجن’ شامل ہیں ان کی فنی خدمات کے اعتراف میں حکومتِ پاکستان نے انہیں 1995 میں صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی سے نوازا تھا۔

ماڈل نایاب ندیم:
ماڈل نایاب ندیم کو رواں برس 11 جولائی کو سوتیلے بھائیوں نے غیرت کے نام پر قتل کردیا تھا اور ان کی تشدد زدہ لاش لاہور کے گھر سے ملی تھی ولیس کی جانب سے ماڈل نایاب کے سوتیلے بھائی محمد علی کی مدعیت میں تھانہ ڈیفنس بی میں قتل کا مقدمہ درج کیا گیا تھا

مقتولہ ماڈل نایاب کے دو سوتیلے بھائی محمد علی اور شبروز ہیں اور وہ غیر شادی شدہ تھیں پولیس کے مطابق نامعلوم ملزمان نے مقتولہ پر تشدد کر کے گلا دبا کر قتل کیا جبکہ ملزم موقع سے فرار ہوگیا تھا مقتولہ کے سوتیلے بھائی محمد علی نے بتایا تھا کہ وہ اپنی بہن کے گھر گئے تو ان کی لاش زمین پر پڑی ہوئی تھی نایاب ڈیفنس میں واقع اپنے ذاتی گھر میں اکیلی رہتی تھیں اور وہ روزانہ اپنی بہن سے ملنے جاتے تھے۔

اداکارہ دردانہ بٹ:
سینئر اداکارہ دردانہ بٹ 12 اگست کو کورونا کے باعث 83برس کی عمر میں کراچی میں انتقال کرگئی تھیں دردانہ بٹ نے 70 کی دہائی میں اداکاری کا آغاز کیا تھا اور ‘تنہائیاں’ میں ‘بی بی’ کے کردار سے انہیں بہت زیادہ مقبولیت ملی۔ان کے مقبول ڈراموں میں ‘آنگن ٹیڑھا’، ‘ففٹی ففٹی’، ‘ڈگڈگی’، ‘انتظار’ اور ‘رسوائی’ شامل ہیں۔

دردانہ بٹ نے مختلف پاکستانی فلموں میں بھی اداکاری کی جن میں’ ہجرت’، ‘عشق پازیٹو’، ‘بالو ماہی’، ‘دل دیاں گلاں’ اور ‘پرے ہٹ لو’ شامل ہیں سینئر اداکارہ کا آخری ڈراما ‘رسوائی’ تھا جو نجی ٹی وی چینل پر 2019 میں نشر ہوا تھا۔

ڈراما نگار اسما نبیل:
خانی، باندی، دمسی، خدا میرا بھی ہے اور سرخ چاندنی‘ جیسے ڈراموں کی کہانی لکھنے والی ڈراما نگار اسما نبیل طویل عرصے تک کینسر میں مبتلا رہنے کے بعد 2 جولائی کو انتقال کر گئی تھیں۔

اسما نبیل میں ابتدائی طور پر 2013 میں بریسٹ کینسر کی تشخیص ہوئی تھی، چند سال زیر علاج رہنے کے بعد انہوں نے کینسر کو تقریبا شکست دے دی تھی مگر بعد ازاں موضی مرض نے دوبارہ انہیں جکڑا اور وہ 2018 کے بعد دوبارہ زیر علاج رہیں اور جولائی 2021 میں وہ خالق حقیقی سے جا ملیں۔

اداکارہ سلطانہ ظفر:
’تنہائیاں’ اور ’ان کہی’ جیسے مقبول ترین ڈراموں میں اداکاری کرنے والی پاکستان کی لیجنڈری اداکارہ سلطانہ ظفر 16 جولائی کو انتقال کرگئی تھیں سلطانہ ظفر اپنے منفرد حیدرآباد لب و لہجے کی وجہ سے جانی جاتی تھیں لیجنڈری اداکارہ امریکی ریاست ٹیکساس کے شہر ڈیلاس میں مقیم تھیں اور ‘ارمیل اسٹوڈیو’ کے نام سے ایک امریکا میں ایک بوتیک چلارہی تھیں۔

انہوں نے ’تنہائیاں’، ’ان کہی’، ’آخری چٹان’ سمیت پاکستان ٹیلی ویژن (پی ٹی وی) کے متعدد ڈراموں میں اداکاری کی تاہم انہیں ’تنہائیاں‘ میں ادا کیے جانے والے مختصر کردار سے بہت زیادہ مقبولیت حاصل ہوئی تھی۔

اداکارہ طلعت صدیقی:
پاکستانی فلم انڈسٹری اور ٹیلی ویژن کی نامور اداکارہ طلعت صدیقی 82 برس کی عمر میں9 مئی کو انتقال کرگئی تھیں طلعت صدیقی 1939 میں بھارت کے شہر شملہ میں پیدا ہوئی تھیں اور انہیں ریڈیو پر کام کرنے کی وجہ سے شہرت ملی تھی۔

اداکارہ طلعت صدیقی نے متعدد ٹی وی ڈراموں اور فلموں میں بھی اپنی اداکاری کے جوہر دکھائےتاہم 30 برس قبل انہوں نے شوبز انڈسٹری سے کنارہ کشی اختیار کرلی تھی طلعت صدیقی نے ‘دل نشین’، ‘حیدر سلطان’ اور ‘کالیا’ جیسی مشہور فلموں میں بھی اداکاری کی تھی۔

اداکارہ سنبل شاہد:
سینئر اداکاراؤں بشریٰ انصاری اور اسما عباس کی بہن اداکارہ سنبل شاہد 6 مئی کو کورونا کے باعث انتقال کرگئی تھیں انہوں نے ‘ملکہ عالیہ’، عشقاوے’ اور ‘تاکے کی آئے گی بارات’، ‘ڈولی کی آئے گی بارات’ جیسے ڈراموں میں اداکاری کی تھی وہ ‘گولڈن گرلز’ میں اپنی اداکاری کی وجہ سے جانی جاتی تھیں سنبل شاہد کا آخری ڈراما ‘نند’ تھا جس میں انہوں نے شہروز سبزواری کی والدہ کا کردار ادا کیا تھا۔

حسینہ معین:
پاکستانی ڈراموں کی ’ملکہ‘ کہلائی جانے والی ڈراما نگار حسینہ معین 79 برس کی عمر میں 27 مارچ کو فا نی دنیا سے رخصت ہوئیں زائد العمری کی وجہ سے حسینہ معین کو مختلف طبی مسائل کا سامنا تھا تاہم فوری طور پر ان کے انتقال کی وجہ معلوم نہیں ہوسکی۔

پاکستانی ڈراموں میں خود مختار لڑکی کے کرداروں کی تخلیق کار حسینہ معین ماضی میں بریسٹ کینسر کا شکار رہ چکی تھیں تاہم انہوں نے کینسر کو شکست دی تھی۔

حسینہ معین زندگی کے آخری ایام تک متحرک رہیں اور انہیں چند ہفتے قبل تک سرگرمیوں میں مصروف دیکھا گیا تھا، انہیں کراچی آرٹس کونسل میں مختلف تقاریب میں بھی دیکھا گیا تھا۔حسینہ معین کے انتقال کی خبر سنتے ہی کئی شوبز شخصیات سمیت عام مداحوں نے بھی گہرے دکھ کا اظہار کیا اور ان کے انتقال کو نہ صرف پاکستانی شوبز انڈسٹری بلکہ پاکستانی ڈرامے کا بھی بہت بڑا نقصان قرار دیا تھا-

ڈراموں میں رومانوی اور بولڈ لڑکیوں کے کرداروں کو تخلیق کرنے والی 79 سالہ حسینہ معین نے شادی نہیں کی تھی، وہ بھائیوں کے ہمراہ رہتی تھیں۔

پاکستان سے قبل بھارت کے شہر کانپور میں نومبر 1941 میں پیدا ہونے والی حسینہ معین تخلیق پاکستان کے بعد بھارت سے پاکستان آئی تھیں اور ابتدائی طور پر انہوں نے راولپنڈی میں رہائش اختیار کی تھی مگر بعد ازاں وہ اہل خانہ سمیت کراچی منتقل ہوئیں۔

حسینہ معین نے کم عمری میں ہی بچوں کے ماہانہ میگزین ’بھائی جان‘ کے لیے کالم لکھنا شروع کیے تھے، جب وہ 20 برس کی تھیں تو انہوں نے معروف ہفتہ وار ریڈیو پروگرام ’اسٹوڈیو نمبر 9‘ کے لیے طنز و مزاح کے چٹکلے لکھنا شروع کیے۔

معروف ڈراما ساز نے کامیڈی ڈراما ’عید مبارک‘ سے ڈیبیو شروع کیا، جس میں نیلو فر علیم اور شکیل نے کام کیا، ان کے طویل ڈرامے ’شہزوری‘ نے خوب کامیابی بٹوری، جو انہوں نے عصمت بیگ چغتائی کے ناول سے متاثر ہوکر اسی نام سے لکھا، اور اس میں بھی نیلو فر علیم نے مرکزی کردار ادا کیا۔

حسینہ معین کو ڈراموں میں لبرل، سیکولر، خود مختار، بولڈ اور نسوانی خوبصورتی سے بھرپور خاتون کو تخلیق کرنے والی تخلیق کارہ بھی مانا جاتا رہا تاہم زندگی کے آخری سالوں میں انہوں نے لکھنا چھوڑ دیا تھا انہوں نے 1991 کی مقبول با لی وڈ فلم ’حنا‘ کے ڈائیلاگ لکھے جب کہ انہوں نے چند پاکستانی فلمیں بھی لکھیں، انہوں نے اسٹیج ڈراموں سمیت جرائد و میگزین کے لیے بھی لکھا۔

ان کے معروف ٹی وی سیریلز میں ’زیر زبر پیش‘، ’ان کہی‘، ’دھوپ کنارے‘،’آہٹ‘، ’انکل عرفی‘،’پرچھائیاں‘ ’تنہائیاں‘ ’شہزوری،‘ دھند‘ ’جانے انجانے‘ ’پل دو پل‘ ’دیس پردیس‘ اور دیگر شامل ہیں۔

انہوں نے پروڈیوسرز کے لیے واہگہ بارڈر کے مسائل پر بھی ڈرامے اور سیریلز لکھے، جنہوں نے شائقین سے داد بھی حاصل کی، انہیں شاندار ڈرامے و کردار تخلیق کرنے پر متعدد ایوارڈز سے بھی نوازا گیا-

پاکستان کی پہلی ٹی وی میزبان کنول نصیر:
پاکستان کی پہلی ٹی وی میزبان کا اعزاز رکھنے والی ریڈیو اناؤنسر کنول نصیر کچھ عرصہ علیل رہنے کے بعد 26 مارچ کو 70 سال کی عمر میں انتقال کر گئی تھیں کنول نصیر ریڈیو اور ٹی وی سے 5 دہائیوں سے زائد عرصہ وابستہ رہیں، انہوں نے محض 17 برس کی عمر میں کیریئر کا آغاز کیا۔

کنول نصیر، پاکستان کی وہ پہلی خاتون تھیں جنہوں نے 26 نومبر 1964 کو معروف میزبان طارق عزیز کے ہمراہ پاکستان ٹیلی وژن (پی ٹی وی) پر پہلی بار میزبانی کے فرائض سر انجام دیے تھے۔

کنول نصیر نے پی ٹی وی پر پہلی بار یہ اعلان کیا تھا کہ ’یہ پاکستان ٹیلی وژن ہے‘، ان کے ساتھ طارق عزیز کو پہلے مرد ٹی وی میزبان ہونے کا اعزاز حاصل رہا کنول نصیر کچھ عرصے سے ذیابطیس کے مرض میں مبتلا تھیں اور انہیں چند دن قبل ہی ہسپتال منتقل کیا گیا تھا، جہاں وہ خالق حقیقی سے جا ملیں انہیں ان کی خدمات پر سرکاری ایوارڈز سمیت دیگر ایوارڈز سے بھی نوازا گیا۔

لالی وڈ کے ’رانجھا‘ اعجاز درانی:
پاکستانی فلموں کے رومانوی ہیرو کہلائے جانے والے اور 1970 کی مقبول فلم ’ہیر رانجھا‘ میں ’رانجھا‘ کا کردار ادا کرنے والے اداکار اعجاز درانی طویل علالت کے بعد یکم مارچ کو انتقال کر گئے تھے اعجاز درانی نے اپنی زندگی کا نصف سے زائد حصہ فلم انڈسٹری کو دیا اور انہیں پاکستانی فلم انڈسٹری کے سنہرے دور کے چند مقبول اداکاروں میں شمار کیا جاتا ہے۔

اعجاز درانی متحدہ ہندوستان میں حالیہ پاکستان کے صوبے پنجاب کے ضلع گجرات کے گاؤں میں پیدا ہوئے اور نوجوانی میں 1956 میں ہی اداکاری کا آغاز کردیااعجاز درانی نے ’حمیدہ‘ فلم سے اداکاری کا آغاز کیا تاہم انہیں 1960 کے بعد شہرت ملنا شروع ہوئی۔

اعجاز درانی نے شاندار فلمی کیریئر کے دوران 150 سے زائد فلموں میں کام کیا، ان کی مقبول فلموں میں ’ڈاکو کی لڑکی، گلبدن، عزت، وطن، فرشتہ، شہید، دوشیزہ، بدنام، سرحد، دوست دشمن، گناہ گار، بیٹی، بیٹا، دھوپ اور سائے، جوانی مستانی، ظال، دلبر، دلدار، ناجو، پاک دامن، ہیر رانجھا، زرقا، سلطان، ضدی اور شعلے‘ سمیت دیگر شامل ہیں۔

اعجاز درانی نے جہاں فلمی کیریئر میں رومانوی ہیرو کے طور پر اپنی شناخت بنائی، وہیں حقیقی زندگی میں بھی انہوں نے ملکہ ترنم نورجہاں اور مقبول اداکارہ فردوس بیگم سے شادی کرکے خود کو حقیقی رومانوی شخص کے طور پر منوایا اعجاز درانی طویل العمری کے باعث گزشتہ کچھ عرصے سے علیل تھے اور وہ ہسپتال میں بھی زیر علاج رہے تھے تاہم یکم مارچ کو وہ انتقال کر گئے۔

لوک گلوکار شوکت علی:
صوفی و لوک گلوکار شوکت علی کچھ عرصہ علیل رہنے کے بعد 2 اپریل کو جگر کے عارضے کے باعث انتقال کر گئے تھے ہسپتال میں زیر علاج تھے مگر حالت بگڑنے پر انہیں انتہائی نگہداشت کے وارڈ (آئی سی یو) میں داخل کرایا گیا تھا، جہاں ان کی حالت مسلسل تشویش ناک ہی تھی شوکت علی کے اہل خانہ نے دو اپریل کی سہ پہر کو تصدیق کی کہ گلوکار جاں بر نہ ہوسکے اور خالق حقیقی سے جا ملے-

شوکت علی طویل عرصے سے جگر کے عارضے میں مبتلا تھے اور گزشتہ برس انہیں علاج کے لیے پنجاب سے سندھ بھی منتقل کیا گیا تھا تاہم ان کی طبیعت میں کوئی خاصی بہتری نہیں آئی تھی۔

متحدہ ہندوستان میں حالیہ پاکستان کے صوبے پنجاب میں پیدا ہونے والے شوکت علی کا تعلق آرٹسٹ خاندان سے تھا، ان کے آباؤ و اجداد بھی فن موسیقی سمیت دیگر فنون سے وابستہ تھے شوکت علی نے انتہائی کم عمری میں 1960 میں ہی گلوکاری کا آغاز زمانہ طالب علمی میں ہی کیا تھا، انہوں نے نہ صرف اس دور کے معروف فلمی گیتوں میں آواز کا جادو جگایا بلکہ انہوں نے جذبہ حب الوطنی کے گیت گانے سمیت پنجابی زبان کے مشہور گانے بھی گائے۔

شوکت علی نے جہاں لوک گلوکاری کی، وہیں انہوں نے صوفی گانے بھی گائے، ساتھ ہی انہوں نے میوزک کنسرٹس میں بھی فن کا مظاہرہ کیا شوکت علی کو حکومت کی جانب سے 1990 میں پرائیڈ آف پرفارمنس ایوارڈ سے نوازا گیا تھا ان کے مقبول نغموں میں ’ساتھیو، مجاہدو، جاگ اٹھا ہے سارا وطن، میں پتر پاکستان دا، لال میری پت رکھیو بھلا، تو ہی حق دا ولی اور تیری میری اے ازلاں دی یاری‘ سمیت دیگر گانے شامل ہیں۔

شوکت علی کو سب سے زیادہ مقبولیت ’سیف الملوک‘ گانے کی وجہ سے ملی جس کی شاعری پنجابی کے صوفی شاعری میاں محمد بخش نے لکھی تھی’سیف الملوک‘ جیسے صوفی کلام کے علاوہ بھی شوکت علی نے متعدد صوفی کلام گائے اور انہوں نے قوالی بھی گائی-

فاروق قیصر عرف انکل سرگم:
معروف فنکار و مزاح نگار فاروق قیصر عرف انکل سرگم 15 مئی کو حرکت قلب بند ہونے سے 75 برس کی عمر میں انتقال کر گئے تھے فاروق قیصر 31 اکتوبر 1945 کو لاہور میں پیدا ہوئے اور نیشنل کالج آف آرٹس سے تعلیم حاصل کی وہ کالم نگار، ڈائریکٹر، کٹھ پتلی ساز، اسکرپٹ رائٹر اور وائس ایکٹر بھی تھے جبکہ انہوں نے بہت سی مزاحیہ کتابیں بھی لکھیں۔

اپنے استاد شعیب ہاشمی کو مشعل راہ سمجھنے والے فاروق قیصر کو 1970 میں پہلی مرتبہ اکڑ بکڑ کے ذریعے پاکستان ٹیلی ویژن پر متعارف کرایا گیا لیکن انہیں اصل شہرت 1976 میں ڈرامہ کلیاں میں اپنے کردار انکل سرگم سے ملی اور وہ راتوں رات شہرت کی بلندیوں پر پہنچ گئےانکل سرگم ایک کٹھ پتلی کردار ہے جسے 1976 میں سرکاری ٹی وی پر نشر ہونے والے پاکستانی بچوں کے ٹی وی شو کلیاں میں پہلی مربتہ متعارف کرایا گیا اور اس کردار کو تخلیق کرنے کے ساتھ ساتھ آواز بھی فاروق قیصر نے اپنی ہی دی تھی۔

انکل سرگم اور ماسی مصیبتے کو پاکستان کی افسانی کٹھ پتلی جوڑی سمجھا جاتا ہے جبکہ کلیاں، پتلی تماشا اور سرگم ٹائم فاروق قیصر کے مشہور پروگرام تھے فاروق قیصر کی فنی خدمات کے اعتراف میں 1993 میں صدارتی ایوارڈ سے بھی نوازا گیا تھا جبکہ رواں سال یوم پاکستان پر صدر مملکت عارف نے بھی خدمات کے اعتراف میں انہیں ستارہ امتیاز سے نوازا تھا انہوں نے اسکالرشپ پر رومانیہ جا کر بھی تعلیم حاصل کی جبکہ یونیسکو کی جانب سے دو سال بھارت جا کر بھی تعلیمی خدمات انجام دیں۔

وزیر اعظم عمران خان،صدر عارف علوی سمیت دیگر حکومتی وزرا اور رہنماؤں نے فاروق قیصر کے انتقال پر دکھ و افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اہلخانہ سے تعزیت کی تھی-

معروف گلوکار سنی بینجمن جان المعروف ایس بی جان:
صدارتی ایوارڈ یافتہ معروف گلوکار و غزل گائک سنی بینجمن جان المعروف ایس بی جان 5 جون کو مداحوں سے بچھڑے ایس بی جان قیام پاکستان سے قبل صوبہ سندھ کے دارالحکومت کراچی میں پیدا ہوئے اور یہیں سے تعلیم حاصل کی قیام پاکستان کے فوری بعد انہوں نے 1950 کے بعد انتہائی کم عمری میں ریڈیو پاکستان سے گلوکاری کا آغاز کیا۔

ایس بی جان کو ان کی مختلف انداز میں غزل گائیکی کی وجہ سے شہرت ملی، ان کا شمار پاکستان کے 1960 سے 1975 کے معروف گلوکاروں اور غزل گائیکوں میں ہوتا ہے ایس بی جان پاکستان کے چند مسیحی گلوکاروں میں سے ایک ہیں، تاہم ان کا شمار ملک کے چوٹی کے غزل گائیکوں میں ہوتا ہے انہوں نے ریڈیو پاکستان سمیت پاکستان ٹیلی وژن (پی ٹی وی) اور فلموں کے لیے بھی گیت گائے۔

ایس بی جان کو ان کی گلوکاری کی خدمات کے عوض حکومت پاکستان نے 2011 میں پرائیڈ آف پرفارمنس سے بھی نوازا تھا اور انہیں اس وقت کے گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد نے کراچی میں ایوارڈ دیا تھا۔

گلوکار و موسیقار فرہاد ہمایوں:
نومبر 2018 میں برین ٹیومر کا شکار ہونے والے معروف گلوکار و موسیقار فرہاد ہمایوں 8 جون کی صبح انتقال کر گئے تھے نومبر 2018 میں فرہاد ہمایوں نے اپنی فیس بک پوسٹ میں بتایا تھا کہ ان میں برین ٹیومر کی تشخیص ہوئی ہے اور ان کا علاج جاری ہےفریاد ہمایوں نے اس وقت بتایا تھا کہ ان کا آپریشن کرکے ٹیومر کو نکال دیا گیا ہے لیکن اس کے باوجود ان کا علاج جاری ہے۔

فرہاد ہمایوں نے 2003 میں ’اوور لوڈ‘ نامی میوزک گروپ تشکیل دیا تھا، جس کا شمار ملک کے مشہور میوزک بینڈز میں ہوتا ہے ان کے ساتھ گلوکارہ میشا شفیع اور عاطف اسلم سمیت دیگر گلوکاروں اور موسیقاروں نے کام کیا تھا فرہاد ہمایوں نے متعدد مشہور گانوں کی موسیقی ترتیب دی، شاندار موسیقی ترتیب دیے جانے پر انہوں نے ایوارڈز بھی جیت رکھے تھے۔

سرائیکی و پنجابی فوک گلوکار اللہ دتہ:
’شاماں پے گیاں، ڈھولے تے ساڈی یاریاں، پیار نال پیار دا جواب ہونا چاہی دا اور کوئی دسو ہا سجن دا ہال‘ جیسے گیت گانے والے گلوکار اللہ دتہ لونے والا 29 جون کو انتقال کر گئے تھے۔

اداکار انور اقبال:
اردو اور سندھی زبان کے کئی ڈراموں میں یادگار کردار ادا کرنے والے پاکستان کے سینئر اداکار انور اقبال بلوچ علالت کے باعث یکم جولائی کو انتقال کرگئے تھے سینئر اداکارانور اقبال نے اردو اور سندھی زبان کے کئی ڈراموں میں یادگار کردار ادا کیے۔

انہوں نے اپنی اداکاری سے ڈراما انڈسٹری میں نام بنایا جبکہ پی ٹی وی کے ٹاپ کلاس ڈراموں ’شمع‘ اور ’آخری چٹان‘ سے بے پناہ شہرت حاصل کی ان کی فنی خدمات کے اعتراف میں ماضی میں لاہور کے الحمرا آرٹس کونسل اور فنکاروں کی جانب سے انہیں خراج تحسین بھی پیش کیا گیا تھا۔

سینئر اداکار طلعت اقبال:
سینئر اداکار طلعت اقبال امریکا کے ہسپتال میں علالت کے باعث 24 ستمبر کو انتقال کرگئے تھے طلعت اقبال نے 70 اور 80 کی دہائی میں پاکستان ٹیلی ویژن (پی ٹی وی) کے کئی ڈراموں میں اہم کردار ادا کیے تھے۔

اپنے کیریئر کے دوران طلعت اقبال نے کئی پاکستانی فلموں میں بھی کام کیا ان کی اہلیہ سنبل طلعت اقبال بھی ٹی وی میں اپنے کام کی وجہ سے جانی جاتی تھیں جو 2014 میں کینسر کے باعث امریکا میں انتقال کرگئی تھیں۔

طلعت اقبال طویل عرصے سے امریکا میں مقیم تھے انہوں نے سوگواران میں ایک بیٹی اور بیٹا چھوڑے ہیں، ان کی دوسری بیٹی کا انتقال چند ہفتے قبل ہی ہوا تھا۔

عمر شریف:
لیجنڈری کامیڈین، اداکار و میزبان عمر شریف 66 سال کی عمر میں 2 اکتوبر کو جرمنی میں انتقال کر گئے تھے، انہیں علاج کے لیے امریکا منتقل کیا جا رہا تھا کہ وہ خالق حقیقی سے جا ملے تھے کراچی کے آغا خان ہسپتال میں زیر علاج تھے، انہیں عارضہ قلب کے علاوہ گردوں کے امراض کا بھی سامنا تھا جب کہ انہیں ذیابطیس بھی تھا۔

عمر شریف کے علاج کے لیے سندھ حکومت نے 14 ستمبر کو 4 کروڑ روپے کے فنڈز جاری کیے تھے، جس کے بعد صوبائی حکومت نے انہیں امریکا منتقل کرنے کے لیے ایئر ایمبولینس کے کرائے کی مد میں 20 ستمبر کو 2 کروڑ 84 لاکھ روپے جاری کیے تھے۔

انہیں 28 ستمبر کو عارضہ قلب کے علاج کے لیے بذریعہ ایئر ایمبولینس کراچی سے امریکا منتقل ہونا تھا، دوران سفر جرمنی اسٹاپ کرنے پر ان کی طبیعت بگڑ گئی تھی، جس وجہ سے انہیں وہیں زیر علاج رکھا گیا تھا۔

عمر شریف نے 1970 کی دہائی سے اپنے کریئر کی ابتدا کی۔ ان کا اصل نام محمد عمر تھا۔ وہ پاکستانی مزاحیہ اداکار منور ظریف سے بہت متاثر تھے اور ان کو اپنا روحانی استاد بھی مانتے تھے لہٰذا انہی کے نقشِ قدم پر چل کر اپنی کامیڈی کے خدوخال تشکیل دیئے انہوں نے انتہائی کم عمری میں کیریئر کا آغاز کیا اور محض 14 برس کی عمر میں پہلے ڈرامے میں جلوہ گر ہوئے اور پھر انہوں نے پوری زندگی اسکرین، پردے اور تھیٹر پر گزاری۔

انہوں نے متعدد لازوال اسٹیج ڈرامے لکھے، جن میں سے ‘بکرا قسطوں پہ’ بھی تھا، عمر شریف کا مذکورہ تھیٹر وہ ڈراما تھا جس کی وجہ سے انہیں عالمی سطح پر شہرت ملی عمر شریف نے فلمی صنعت کا رُخ بھی کیا اور فلمیں بنانے کے ساتھ ساتھ ان میں کام بھی کیا۔ اس تناظر میں ان کی مقبول فلم ‘مسٹر 420’ ہے، انہوں نے مسٹر 420 (1992)، مسٹر چارلی (1993) اور مس ٹربل سم (1993) جیسی فلموں کی نہ صرف ہدایت کاری کی بلکہ ان کی کہانی بھی لکھی۔

عمر شریف نے 3 شادیاں کیں، ان کی بیگمات کے نام دیبا عمر، شکیلہ قریشی اور زرین غزل ہیں، صرف پہلی بیگم سے ان کے 2 بیٹے ہیں، انہی سے ایک بیٹی تھی جن کا انتقال ہوچکا ہے۔ ان کے ایک قریبی دوست اور ساتھی اداکار شرافت علی شاہ کے خیال میں ‘عمر شریف کی بیماری کے پیچھے اصل وجہ ذہنی دباؤ تھی۔ انہوں نے پیشہ ورانہ کام کو بھی اپنے اوپر حاوی رکھا اور پھر نجی زندگی کے مسائل نے بھی ان کو اپنی گرفت میں لیے رکھا’۔

ڈھول استاد پپو سائیں:
صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور سے تعلق رکھنے والے ایوارڈ یافتہ ڈھول استاد ذوالفقار علی المعروف ’پپو سائیں‘ طویل عرصے تک علیل رہنے کے بعد 8 نومبر کو انتقال کر گئے تھے-

اداکار سہیل اصغر:
سینیئر اداکار و صداکار سہیل اصغر 65 برس کی عمر میں طویل علالت کے بعد 13 نومبر کی دوپہر کو خالق حقیقی سے جا ملے تھے سہیل اصغر کا شمار پاکستان کے کامیاب اور بہترین اداکاروں میں ہوتا ہے، انہوں نے شاندار اداکاری کی بدولت متعدد ایوارڈز بھی اپنے نام کیےان کی پیدائش پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں ہوئی اور وہیں انہوں نے تعلیم مکمل کی، جس کے بعد وہ ریڈیو پاکستان کا حصہ بنے۔

سہیل اصغر 1978 سے 1988 تک 10 سالوں تک ریڈیو جوکی (آر جے) کے طور پر کام کرتے رہے جس کے بعد انہوں نے تھیٹر ڈراموں میں اداکاروں شروع کی اور پھر چھوٹی اسکرین پر جلوہ گر ہوئےسہیل اصغر نے پاکستان ٹیلی وژن کے کامیاب ترین ڈراموں جیسا کہ ’لاگ‘، ’پیاس‘، ’چاند گرہن‘ اور ’کاجل گھر‘ سمیت دیگر ڈراموں میں کام کرکے نام کمایا۔

انہوں نے 2003 میں فلم ’مراد‘ کے ساتھ سینما انڈسٹری میں ڈیبیو کیا، جس کے بعد 2004 میں ان کی ایک اور فلم ’ماہ نور‘ سامنے آئی اور اس میں بھی سہیل اصغر کی اداکاری کو خوب سراہا گیا۔