اسے کہتے ہیں” یاری اے کوئی مکئی دا وڈّ نہیں‌:نوازشریف کو بچانے کے لیے مودی نےبڑاخطرناک کھیل شروع کردیا

لاہور:اسے کہتے ہیں یاری اے کوئی مکئی دا وڈّّ نہیں‌:نوازشریف بچانے کے لیے مودی نے سردھڑکی بازی لگا دی،اطلاعات کے مطابق اس وقت اہم حلقوں تک یہ خبرپہنچ چکی ہے کہ نوازشریف کو بچانے اورپاکستان نہ لانے کے حوالے سے نوازشریف کے جگری یارمودی بڑی کامیاب سفارتکاری کررہے ہیں ،

 

دوسری طرف اس دعوے کی تصدیق میڈیا کیلئے جاری کئے گئے اپنے ویڈیو بیان میں مسرت جمشید چیمہ کے دعوے سے ہوجاتی ہے جس میں کہا جارہا ہے کہ نریندر مودی نے عوام میں گرتے ہوئے اپنے سیاسی گراف کو بہتر کرنے کیلئے سجن جندال سے مدد کا منصوبہ بنایا ،مودی اور نواز شریف کے مشترکہ دیرینہ دوست سجن جندال نے پاک بھارت دشمنی کی تاریخ کو سامنے رکھتے ہوئے نواز شریف خاندان سے مدد حاصل کرنے کا منصوبہ پیش کیا، سجن جندال کے رابطے پر نواز شریف نے مریم نواز سے رابطہ کر کے سارے معاملے پر مشورہ کیا ۔

 

انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس دوران کئی منصوبے بنائے گئے لیکن قابل عمل نہ ہونے کی وجہ سے ان پر پیشرفت نہ ہو سکی ، بعدازاں ایک باور بھارتی اجیت دوول نے ایاز صادق منصوبہ پیش کیا،قومی اسمبلی کا سابق سپیکر اور سنجیدہ رہنما ہونے کی وجہ سے ایاز صادق کا خصوصی طور پر چنائو کیا گیا ،یہ حکمت عملی پیش نظر رکھی گئی کہ سابق سپیکر ہونے کی وجہ سے انٹر نیشنل کمیونٹی میںانکے بیان کو سنجیدگی سے لیا جائے گا ۔

 

 

چیئر پرسن قائمہ کمیٹی داخلہ مسرت جمشید چیمہ نے کہا ہے کہ مسلم لیگ (ن) کی جانب سے اسمبلی فلور پر ابھی نندن کے معاملے پر متنازعہ بیان دینے اور ایاز صادق کے چنائو کی اصل کہانی سامنے آ گئی ہے ،ریاست بہار کے انتخابات میں مودی کی کمزور پوزیشن ،مجموعی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کیلئے ’’کچھ لو کچھ دو‘‘فارمولہ بنایا گیا۔

 

یہ حکمت عملی بھی پیش نظر رکھی گئی کہ کارروائی پر سابق سپیکر کی حیثیت سے قومی راز فاش کرنے کی دھمکی دی جائے گی اور مولانا فضل الرحمان کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو میںایاز صادق قومی راز وں سے آگاہ ہونے کی بات کر چکے ہیں۔

 

مسرت جمشید چیمہ نے کہا کہ مودی کو ریاست کے انتخابی عمل میں سپورٹ دینے اوراس کی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کیلئے گھٹیاسازش کی گئی،ملک دشمن ایجنڈے کے عوض جندال کے ذریعے بھارتی نژاد برطانوی وزیر داخلہ سے گارنٹی حاصل کی گئی کہ نواز شریف کوبرطانیہ میں مکمل سکیورٹی اور ڈی پورٹ ہونے میں رکاوٹ پیدا کی جائے گی ۔ حکومت کونواز شریف کو واپس لانے میں کامیابی ملنے کی صورت میں امریکہ یا کسی اور ملک منتقل کرایا جائے گا ۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.