27 ویں‌ شب، مسجد الحرام میں‌ 20 لاکھ سے زائد فرزندان توحید کی عبادت، عالم اسلام کیلئے خصوصی دعائیں

مکہ مکرمہ میں‌ مسجد الحرام میں‌ 27ویں رمضان المبارک کی شب تراویح اور قیم اللیل کے موقع پر 20 لاکھ سے زائد افراد نے عبادت کی سعادت حاصل کی.

باغی ٹی وی کی رپورٹ‌ کے مطابق سعودی عرب میں‌ حرمین شریفین پریزیڈنسی کی طرف سے جاری کردہ اعداد وشمار میں بتایا گیا ہے کہ 27 رمضان المبارک کی شب مسجد حرام میں عبادت کے لیے روزہ داروں کی آمد کا سلسلہ عصر کے بعد شروع ہو گیا تھا جو کہ رات گئے تی جاری رہا۔ افطاری اور مغرب کی نماز سے قبل مسجد حرام زائرین، معتمرین اور نمازیوں سے مکمل طور پر بھر گئی تھی۔ سعودی حکام کی جانب سے نمازیوں‌ کی معاونت اور ان کی سہولت کے لیے 12 ہزار سے زیادہ رضا کار تعینات کیے گئے ہیں جو 24 گھنٹے اپنے اپنے اوقات میں فرائض انجام دے رہے ہیں۔

رپورٹ‌میں‌کہا گیا ہے کہ مسجد الحرام میں معتکفین اور عمومی نمازیوں کے لیے آب زمزم کے 25 ہزار کولر فراہم کئے گئے ہیں‌ جبکہ اسی طرح مسجد نبوی میں بھی وسیع انتظامات کئے گئے ہیں‌ جہاں 16 ہزار کولر کے ذریعے مکہ سے سیکڑوں میل دور بھی آب زمزم کی فراہمی کو یقینی بنایا گیا ہے۔ مطاف اور مسجد حرام کے بیرونی احاطے کی صفائی کے لیے 4000 افراد پر مشتمل صفائی کا عملہ تعینات کیا گیا ہے۔ مسجد حرام میں معتکفین کے لیے 3500 الماریاں فراہم کی گئی ہیں جب کہ مسجد نبوی میں 16 ہزار قالین بچھائے گیئے ہیں۔

27 ویں‌ رمضان کی شب حرمین پریذیڈنسی کی ویب سائٹ پر فرزندان توحید کی عبادت میں خشوع وخضوع اور اللہ کے دربار میں گریہ زاری کی پیشہ وارانہ معیار کی حامل تصاویر میں مسجد حرام میں روحانیت اور بیت اللہ شریف کے حسن وجمال کو نمایاں دیکھا جا سکتا ہے۔ لاکھوں افراد کی موجودگی میں نظم وضبط اور صفوں کی تیاری کے مناظر بھی ان تصاویر کے حسن کو دوبالا کر رہے ہیں۔

باغی ٹی وی کی رپورٹ‌ کے مطابق مسجد حرام میں معتکفین اور معتمرین کی رہ نمائی کے لیے 11 گائیڈ سروس فراہم کی گئی ہیں جب کی مسجد حرام کے 74 اضافی دروازے کھولے گئے ہیں۔ اس وقت مسجد حرام کے کل کھلے دروازوں‌ کی تعداد 170ہو گئی ہے۔ مسجد نبوی کے 100 دروازے کھولے گئے ہیں۔ مسجد کےاندر ضروری کاموں کے لیے 250 ملازمین تعینات ہیں۔

یاد رہے کہ مسجد الحرام میں سعودی عرب کی جانب سے عمرہ کی سعادت حاصل کرنے کی خاطر دنیا بھر سے آنے والے زائرین کی خدمت کیلئے بہترین انتظامات کئے جاتے ہیں. امسال بھی وسیع پیمانے پر انتظامات کئے گئے ہیں جنہیں‌ دیکھ کر کوئی بھی دا د دیے بغیر نہیں‌ رہ سکتا.

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.