fbpx

287 برطانوی ارکان پارلیمان کی روس میں داخلے پر پابندی عائد

روس نے برطانوی پارلیمان کے 287 ارکان کے روس میں داخل ہونے پر پابندی عائد کر دی ہے۔

باغی ٹی وی : روسی وزارت خارجہ کی طرف سے جاری کردہ بیان کے مطابق برطانوی حکومت کی طرف سے 11 مارچ کو روسی پارلیمان دومہ کے 386 ارکان پر پابندی عائد کیں تھیں۔

روس اورجرمنی میں اختلافات شدت اختیارکرگئے: 40جرمن سفارت کاروں کوملک چھوڑنےکاحکم

برطانوی ارکان پارلیمنٹ پر انہیں پابندیوں کے جواب میں پابندیاں عائد کی جا رہی ہیں۔ خیال رہے کہ برطانوی پارلیمان کے ایوان زیریں کے ارکان کی کل تعداد 650 ہے۔

قبل ازیں روس نے جوابی اقدام کے طور پر جرمنی کے 40 سفارت کاروں کو ناپسندیدہ شخصیات قرار دیتے ہوئے ملک چھوڑنے کا حکم دیا تھا اِس سے قبل روس یوکرین جنگ کے تناظر میں جرمنی نے روسی سفارت کاروں کو جرمنی سے نکل جانے کا کہا تھا جس پر روس کی وزارتِ خارجہ نے ملک میں متعین جرمن سفارت کار کو طلب کر کے جرمن حکومت کے اس فیصلے پر شدید احتجاج کیا تھا۔

بعد ازاں روس نے اپنے ردعمل میں 40 جرمن سفارت کاروں کو ناپسندیدہ شخصیات قرار دے کر ملک چھوڑنے کا حکم دیا تھا تاہم جرمنی کی وزیر خارجہ انالینا بیئربوک نے الزام عائد کیا تھا کہ جرمنی سے بے دخل کیا گیا روس کا سفارتی عملہ سفارت کاروں کی بجائے جا سو سوں پر مشتمل تھا۔

جوہری جنگ کےامکانات بڑی تیزی سے بڑھ رہے ہیں :روس کی وارننگ

جرمن وزیر خارجہ انالینا بیئربوک نے مزید کہا تھا کہ روس سے بے دخل کیے جانے والے سفارت ک‍اروں نے کوئی غلط کام نہیں کیا انہوں نے روسی حکومت کے اِس اقدام کو نا انصافی پر مبنی فیصلہ قرار دیا تھا –

قبل ازیں روس نے کہا تھا کہ دنیا سنگین جوہری جنگ کے خطرے کو سنجیدگی سے دیکھے، یہ قابل غور ہےروس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے سرکاری ٹی وی کو ایک انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ نیٹو یوکرین کو ہتھیاروں کی سپلائی کرکے دراصل روس کے ساتھ با لو اطہ جنگ میں مصروف ہے اِن ہتھیاروں سے یقینی طور پر روسی افواج کو نشانہ بنایا جائے گا۔

روس نے بڑی فتح کے بعد یوکرین کے ساتھ جنگ کے دوسرے مرحلے کا اعلان کر دیا