fbpx

2 ماہ سے ٹریفک آفیسر کی آسامی خالی ،ٹریفک نظام درہم برہم

قصور

گزشتہ 2 ماہ سے ڈسٹرکٹ ٹریفک پولیس آفیسر کی مستقل تعیناتی نہ ہوسکی ڈی ایس پی ٹریفک کا اضافی عہدہ ڈی ایس پی صدر کاظمی شاہ کو سونپ دیا مگر وہ یہ ذمہ داری نبھانے میں ناکام نظر آرہے ہیں ڈسٹرکٹ ٹریفک پولیس آفیسر کی مستقل تعیناتی نہ ہونے کے باعث دفتری امور کے ساتھ ساتھ شہر قصور میں ٹریفک کا نظام درہم برہم ہوگیا ۔شہر بھر میں بے ہنگم ٹریفک کے باعث شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ٹریفک اہلکار اپنی ڈیوٹی سے غائب ۔شہریوں کا جلداز جلد قصور میں مستقل ڈسٹرکٹ ٹریفک آفیسر کی تعیناتی کا مطالبہ

تفصیلات کے مطابق تقریباً دو ماہ قبل ڈی ایس پی ٹریفک نعیم احمد چیمہ کو کریشن کی بناء پر معطل کردیا گیا تھا اور اسکی کریشن پر وزیراعلیٰ پنجاب نے بھی نوٹس لے کر محکمانہ انکوائری کا حکم دیا تھا اسکی معطلی کے دو ماہ بعد گزرنے کے بعد بھی ضلع قصور میں کسی بھی ڈسٹرکٹ ٹریفک آفیسر کی مستقل تعیناتی نہیں ہوسکی ہے ڈی۔ایس ٹریفک کا اضافی عہدہ ڈی ایس پی صدر سید کاظمی شاہ کو سونپ دیا گیا مگر وہ یہ ذمہ داری نبھانے میں ناکام دکھائی نظر رہے ہیں ۔ انتہائی اہمیت کی حامل سیٹ عرصہ دوماہ سے خالی پڑی ہے جس کے باعث ٹریفک آفس کے امور کے ساتھ ساتھ شہر بھر میں بے ہنگم ٹریفک جیسے بھی مسائل پیدا ہوچکے ہیں ۔ٹریفک اہلکار اپنی ڈیوٹی سے غائب نظرآتے ہیں چیک اینڈبیلنس نہ ہونےسےٹریفک اہلکاروں کی موجیں لگی
ہوئی ہیں اپنے من پسند کے پوائنٹ سنبھال کر خوب مال کمایا جارہا ہے شہر بھر میں بے ہنگم ٹریفک کے باعث شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے ٹریفک اہلکار اندرون شہر کی بے ہنگم ٹریفک کنٹرول کرنے کی بجائے شہر کے داخلی وخارجی راستوں یر ناکے لگا کر رشوت کا بازار گرم کیا ہوا ہے اور نذرانے لے کر دن کے اوقات میں شہر میں ہیوی گاڑیوں کے داخلے کی اجازت دے دیتے ہیں جوکہ ٹریفک جام کا سبب بن رہی ہیں اوراپنی سرپرستی میں مین شاہراؤں پر غیر قانونی رکشہ سٹینڈ بس سٹینڈ قائم کروا رکھے ہیں جسکی باعث شہر میں اور مین چوکوں نیشنل بنک چوک چاندنی چوک سٹیل باغ چوک شفیع والے چوک نور مسجد چوک لیلانی اڈا چوک اور دیگر چوکوں میں گھنٹوں گھنٹوں ٹریفک جام رہنا معمول بن چکا ہے جسکی وجہ سے شہریوں کو شدید ازیت کوفت اٹھانا پڑھ رہی ہے یہاں تک کہ ٹریفک میں پھنسے شہریوں کی افطاری راستےمیں ہو جاتی ہے جبکہ ان مین چوکوں میں کوئی اہلکار ٹریفک کنٹرول کرنے کے لئے موجود ہی نہیں ہوتا۔ اہلکار اپنی ڈیوٹی سے غائب نظر نہیں آتے ہیں شہریوں نے آئی جی پنجاب سے مطالبہ کیا ہے قصور میں مستقل ڈی ایس پی ٹریفک کو جلد از جلد تعینات کیا جائے تاکہ شہریوں کو ٹریفک جیسے مسائل سے چھٹکارہ حاصل ہو اور ٹریفک اہلکاروں کا بھی قبلہ درست ہو سکے

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.