fbpx

تین ماہ میں ختم ہو جانے والا لکڑی کے برادے سے بنا بائیو پلاسٹک

لکڑی کے برادے سے ایسا بائیو پلاسٹک تیار کیا گیا ہے جو تین ماہ کے اندر گھل کر ختم ہوجاتا ہے-

باغی ٹی وی :پلاسٹک اس وقت ماحول، انسانی صحت اور جنگلی حیات کے اولین دشمنوں میں شامل ہیں اور آلودگی کا بڑا ذریعہ ہے ان کے باریک ٹکڑے اب ہمارے جسم میں پہنچ رہے ہیں۔

دوسری جانب سمندروں اور دریاؤں کو یہ آلودہ کرکے جنگلی حیات کو ہلاک کررہے ہیں اور صاف مٹی کو آلودہ بنارہے ہیں اسی لیے پوری دنیا میں کئی تجربہ گاہیں ماحول دوست پلاسٹک پر کام کررہی ہیں جس میں اب جزوی کامیابی ملی ہے۔

رپورٹس کے مطابق امریکہ کی مشہور ییل یونیورسٹی میں لکڑی کے کارخانوں میں بننے والے سفوف نما بُرادے کو نامیاتی پالیمر اور سیلیولوز کے ملاپ سے ایک گاڑھے محلول میں بدل کر اسے ہائیڈروجن بانڈنگ سے گزار کر اسے میں نینوپیمانےکے ریشوں کو آپس میں ملا کربائیوپلاسٹک بنا جسے روایتی پلاسٹک کے سامنے آزمایا گیا ہے۔

یہ پلاسٹک مضبوط بھی ہے اور لچکدار بھی جب اسے مٹی میں دفنایا گیاتو دو ہفتے بعد چٹخنے لگا اور تین ماہ میں مکمل طور پر غائب ہوگیا اس میں بھاری مائع بھرا گیا اور سامان اٹھانے کا کامیاب تجربہ بھی کیا گیا۔

جبکہ اس سے قبل جو بھی بائیوپلاسٹک بنائے گئے وہ نہایت کمزور اور غیرلچکدار تھے اسی بنا پر لکڑی کے چورے سے بنا یہ نیا سبزپلاسٹک بہت اچھا ثابت ہوسکتا ہے۔

دوسری جانب اسے بنانے کا طریقہ بہت سادہ اور کم خرچ بھی ہے دلچسپ بات یہ ہے کہ گھلنے کے عمل کے دوران ایک لمحہ ایسا بھی آتا ہے جب پلاسٹک مائع بننے لگتا ہے اور دوبارہ شروعات کی طرح گاڑھے محلول میں ڈھل جاتا ہے۔ اس لمحے اسے دوبارہ صاف کرکے پلاسٹک میں بدلا جاسکتا ہے۔ اس طرح ایک جانب یہ حیاتیاتی طور پر تلف ہوتا ہے اورری سائیکل بھی کیا جاسکتا ہے۔

واضح رہے کہ اس سے قبل انڈے کے خول، پودوں اور بعض دیگر اجزا سے باییو پلاسٹک بنائے گئے ہیں لیکن تجارتی پیمانے پر ان کی تیاری کی منزل ابھی بہت دور ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.