fbpx

تین سال میں سی پیک کومکمل بند کرکے بیڑا غرق کردیا گیا .چینی سفیرکا شکوہ،تہلکہ خیز انکشافات

تین سال میں سی پیک کومکمل بند کرکے بیڑا غرق کردیا گیا .چینی سفیرکا شکوہ،تہلکہ خیز انکشافات

اسلام آباد (محمداویس ) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی منصوبہ بندی میں انکشاف ہواہے کہ چینی سفیر نے شکوہ کیا ہے کہ تین سال میں سی پیک کومکمل بند کرکے بیڑا غرق کردیا گیا ہے ،چینی کمپینوں کی بات کوئی نہیں سنتا وہ رورہے ہیں ،شعبہ توانائی کے منصوبوں میں حکومت کی طرف سے 1عشایہ 2ارب ڈالر کی عدم ادائیگی پر چینی کمپنیوں نے کام روک دیا ہے۔وزیر منصوبہ بندی اسدعمر نے کمیٹی کوبتایا کہ سی پیک پر جتنا کام ہوناچاہیے تھا وہ نہیں ہوا ،مختلف منصوبے اب پی پی پی موڈ میں لے کرجا رہے ہیں ۔حکام نے کمیٹی کوبتایا کہ گوادر میں وکیشنل ٹریننگ سنٹر بن گیا ہے مگر وہاں سٹاف نہیں ہے۔ ارکان کمیٹی نے کہا کہ گوادرکے عوام کوصاف پانی دستیاب نہیں ہے پانی کے بغیر کوئی منصوبے نہیں لگ سکتا سب سے پہلے پانی کا بندوبست کیاجائے ۔کمیٹی نے سی پیک منصوبوں کی پیش رفت پر عمل درآمد کے لیے گوادر کا دورہ کرنے کافیصلہ کیا۔

باغی ٹی وی کے اسلام آباد سے نمائندہ خصوصی کے مطابق سینیٹ کی قائمہ کمیٹی منصوبہ بندی کا اجلا س چیرمین سلیم مانڈوی والا کی سربراہی میں ہوا ،اجلاس میں سینیٹردنیش کمار،سینیٹر طاہر بزنجو،سینیٹرپلواشہ،سینیٹر ہدایت اللہ نے شرکت کی ۔اجلا س میں وزیر منصوبہ بندی اسد عمر ،معاون خصوصی برائے سی پیک خالد منصور نے شرکت کی ۔چیرمین سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ چینی سفیر نے میرے ساتھ ملاقات میں کہا کہ تین سال سے سی پیک کوبند کیا ہوا ہے سی پیک منصوبوں کا بیڑاغرق کردیا گیا ہے چینی کمپینوں کے ساتھ بھی رویہ ٹھیک نہیں ہے جس کی وجہ سے ان کومسائل ہیں توانائی شعبے کے منصوبوں کی 1عشاریہ 2ارب ڈالر حکومت نے چینی کمپنیوں کوادائیگی کرنی ہے ادائیگی نہ ہونے پر چینی کمپنیوں نے توانائی کے شعبوں پر کام بند کردیا ہے اور کہا ہے کہ جب ادائیگی ہوگی توکام کریں گے ۔

وفاقی وزیراسد عمر نے کہا کہ سی پیک کے جو منصوبے لگے ہیں وہ پاکستان کے لیے ہیں سی پیک میں کام زیادہ ہونا چاہیے خصوصی طور پر سی پیک پر کام بلوچستان میں زیادہ ہوا ہے۔بلوچستان کے لیے 560ارب روپے کا ترقیاتی پروگرام شروع اس حکومت نے کئے ہیں ۔بلوچستان کو زیادہ فائدہ انڈسٹری زون سے ہوگا۔ گوادر میں بھی انڈسٹری زون بنایا جائے گا۔وہاں پر سرمایہ کاروں کو لانا ہمارے لیے چیلنج ہے زراعت پر کام کررہے ہیں۔ میرانی ڈیم کے ساتھ زراعت کے حوالے سے کام ہورہا ہے۔سینیٹردنیش کمار نے کہاکہ گوادر کے عوام کو پانی دینا کس کی ذمہ داری ہے کیا چین سے یہ نہیں کہے سکتے ہیں کہ آپ پانی کا منصوبہ گوادرمیں بھی لگائیں۔ اسد عمر نے کہا کہ گوادر میں صاف پانی دینا بلوچستان حکومت کی ذمہ داری ہے۔چین کی ذمہ داری نہیں ہے کہ پانی دے گوادر پاکستان کاحصہ ہے۔ ترقیاتی بجٹ کی منظوری این ای سی کی منظوری سے ایوان میں لاتے ہیں منظوری کے بعد ہم تبدیلی نہیں کرسکتے ہیں۔ بلوچستان کے لیے ایک کمیٹی بنائی ہے اس میں سب سیاسی جماعتیں موجود ہیں وہ ترقیاتی منصوبوں کے بارے میں اپنی سفارشات دیتے ہیں۔

بھارتی خفیہ ایجنسی را کیلئے کام کرنے والا کراچی پولیس کا اہلکار گرفتار

بھارتی خفیہ ایجنسی "را” کیلیے کام کرنیوالا گریڈ 17 کا سرکاری ملازم کراچی سے گرفتار

بھارتی خفیہ ایجنسی را کے نیٹ ورک کے خلاف ایک اور کاروائی، را کا اہم رکن گرفتار

بھارتی خفیہ ایجنسی را کے سلیپر سیلز کو کراچی میں رقوم فراہم کرنیوالا گرفتار

بھارتی خفیہ ایجنسی را کے نیٹ ورک کا اہم رکن کراچی سے گرفتار

کیا سی پیک رک چکا ، نئے چینی سفیر کس مشن پر آئے ، معاملہ گڑ بڑ.؟ مبشر لقمان کی اہم باتیں

پاکستان میں بھارتی دہشت گردی کے ناقابل تردید ثبوت، ڈی جی آئی ایس پی آر سب کچھ سامنے لے آئے

بھارت کے پاکستان کے خلاف مذموم منصوبے، شاہ محمود قریشی نے مودی سرکار کو کیا بے نقاب

لندن کا جوکربھارتی ایجنٹ،پاکستان میں دہشت گردی میں ملوث،ثبوت سامنے آ گئے

سینیٹرطاہر بزنجو نے کہا کہ صنعتی زون پانی کے بغیر ممکن نہیں ہے۔بجلی گھر سے بلوچستان کو فائدہ نہیں ہے کیونکہ ٹرانسمیشن خراب ہے ۔گوادر میں پانی پینے کے قابل نہیں ہے گوادر کے عوام کو ائیرپورٹ سے زیادہ ضرورت صاف پانی کی ہے اس سے وہ خوش ہوں گے۔ مچھلیاں پکڑنے کے غیرقانونی ٹرالر نے مائی گیروں کی روٹی چھین لی ہے۔ غیر قانونی ماہی گیری میں افسران اور بڑے لوگ ملوث ہیں۔ بلوچستان کے لیے فنڈ دیئے جاتے ہیں عمل نہیں ہوتا ہے موٹروے دوسرے صوبوں کی طرح بلوچستان میں کیوں نہیں بن سکتی ہے۔ کراچی سے چمن جانے والی سڑک پر ہر سال 4ہزار لوگ حادثات میں مرجاتے ہیں۔35سال پہلے یہ ہائی وے بنایا گیا اب یہ بلوچستان کی مصروف ترین شاہراہ ہے۔وفاقی وزیراسد عمر نے کہاکہ کراچی سے چمن تک شاہراہ کو پی پی موڈ میں بنایا جارہاہے ایک حصہ پی ایس ڈی پی میں شامل ہے۔ مشرف بھی بنانا چارہاتھا مگر نہیں بناسکے۔ وفاقی حکومت اربوں روپے گوادر میں پانی کے لیے خرچ ہوچکے مگر پانی نہیں مل رہا اس کو بھی دیکھنے کی ضرورت ہے پانی مہیا کرنے کے لیے کام کررہے ہیں۔ گوادر نیشنل گریڈ کے ساتھ منسلک ہی نہیں ہے۔ایران سے بھی اضافی بجلی لینے جارہے ہیں۔ گوادر کو نیشنل گریڈ سے منسلک کررہے ہیں۔

معاون خصوصی سی پیک خالد منصور نے کہاکہ گوادر کے پانی کی ضرورت پوری کرنے کے لیے دومزید ڈیموں سے لائن گوادر لانے کا منصوبہ ہے۔ گوادر میں 14گھنٹے لوڈشیڈنگ ہورہی ہے ۔ گوادرمیں پانی کے منصوبے لگائے جارہے ہیں۔ چینیوں کی سیکورٹی کے لیے اقدامات مزید سخت کردیئے گئے ہیں سخت سیکورٹی کی وجہ گوادر میں خود کش حملہ آور چینیوں کے پاس نہیں پہنچ سکا۔جس کی وجہ سے کوئی چینی جان بحق نہیں ہوا۔چین پاکستان کے سیکورٹی انتظامات سے مطمئن ہے۔

چیرمین کمیٹی نے انکشاف کیاکہ چینی سفیر مجھے شکایت کی ہے کہ تین سال میں سی پیک کا بیڑا غرق کردیا گیا ہے چینی کمپنیاں بھی خوش نہیں ہیں کہ سی پیک کو بند کردیا گیا ہے پتہ نہیں چینی سفیر آپ سے ملاقات میں کیا کہتا ہے ۔خالد منصور نے کہا کہ چینی کمپنیوں سے ملاقاتیں کررہا ہوں اور ان کے مسائل بھی حل کررہا ہوں۔ وکیشنل ٹریننگ سنٹر گوادر میں بن گیا ہے مگر استاد نہیں ہیں۔ گوادر ہسپتال بن رہاہے مگروہاں ڈاکٹروں و سٹاف کی تعینات کرنے کے حوالے سے کوئی کام نہیں ہورہاہے اس طرح ہسپتال بن جائے گا مگر کوئی ہوگا نہیں۔چیرمین کمیٹی نے کہاکہ گوادر میں ماں بچے کا ہسپتال ہی نہیں ہے جہاں ڈلیوری کی سہولت ہو۔سی پیک حکام نے کمیٹی کوبتایاکہ ہکلہ ڈی آئی خان موٹروے کا 6فیصد کام رہتا ہے اکتوبر یہ موٹروے کھل جائے گا۔

سینیٹرہدایت اللہ نے کہاکہ ہکلہ ڈی آئی خان موٹروے میں جب میں اس کمیٹی کاچیرمین تھا اس وقت بھی 6فیصد کام رہتاتھا اب بھی اتنا رہتا ہے اس کی کیا وجہ ہے یہ مکمل کیوں نہیں ہورہاہے ۔کمیٹی نے سی پیک مغربی روٹ پر کام کرنے والے کنٹریکٹر کی لسٹ مانگ لی۔چیرمین نے کہاپاکستان میں کام کرنے والے چائینز رورہے ہیں۔خالد منصور نے کہاکہ 1.2ارب ڈالر ادائیگی چین کے کمپنیوں کو ادائیگیاں کرنی ہیں جس کی وجہ سے کچھ پروگرام رکھے ہوئے ہیں۔چیرمین کمیٹی نے کہاکہ جب تک پاور کے منصوبوں کے لیے 1.2ارب ڈالر ادا نہیں کریں گے کام شروع نہیں ہوگا۔ایم ایل ون اہم منصوبہ ہے۔چین کہتا ہے کہ 9ارب ڈالر کا منصوبہ ہے اور پاکستان کہتا ہے کہ 6ارب کا منصوبہ ہے۔جس کی وجہ سے اس کے لون کی منظوری نہیں ہورہی ہے۔دوسری طرف وزیر ریلوے اعظم سواتی کہتے ہیں کہ ریلوے کو ہی بند کردیں ۔حکام سی پیک نے کہاکہ ایم ایل ون پر ابھی کوئی کام شروع نہیں ہوا لون کی منظوری ہوگی تو اس پر بیڈز جاری کریں گے۔پاکستان میں 137چینی کمپنیاں کام کررہی ہیں۔ان کا اعتماد بحال کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔

سی پیک کیخلاف بھارتی عزائم،مبشر لقمان کے اگست میں کئے گئے تہلکہ خیز انکشافات کی وزیر خارجہ نے کی تصدیق