بھارت:مسلمانوں کا قتل عام 40 شہید کردیئے گئے،مسلمان جانیں بچانے کے لیے گھربارچھوڑرہے ہیں

نئی دہلی :بھارت میں مسلمانوں کا قتل عام 40 شہید کردیئے گئے ، مسلمان جانیں بچانے کے لیے گھربارچھوڑرہے ہیں ،: ہمیں بچالوپاکستان” کی آوازیں ہرطرف سے آرہی ہیں ،اطلاعات کےمطابق بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں متنازع شہریت کے قانون کے خلاف احتجاج کے دوران ہونے والے خلاف مظاہرین پربھارتی فوج ، پولیس اورانتہا پسند ہندووں کے حملے جاری ہیں

ویسے توبہت زیادہ شہادتیں ہوگئیں لیکن بعض سیکورٹی حکام کی طرف سے انکشاف کیا گیا ہےکہ بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں فسادات کے باعث ہلاکتوں کی تعداد 40 ہوگئی ۔پولیس کی جانب سے 150سے زائد مسلمانوں کو گرفتار بھی کیا گیا ہے جبکہ 18 افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی ہے ۔

مقامی حکام کا کہنا ہے کہ زخمیوں میں سے متعدد کی حالت نازک ہے اور ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ ہو سکتا ہے۔نئی دہلی کی سڑکوں پر پولیس کی سرپرستی میں انتہا پسند ہندوؤں کا راج ہے۔ مسلح جتھوں نے مسلمانوں کی دکانیں اور گھر نذر آتش کردیے جبکہ متعدد مساجد کو بھی شہید کردیا گیا ہے۔

شہر میں شدید کشیدگی برقرار ہے جبکہ پولیس اور سیکیورٹی فورسز کی بھاری نفری تعینات ہے اور 4 مسلم اکثریتی علاقوں میں کرفیو نافذ کردیا گیا ہے۔متاثرہ علاقوں میں دکانیں اور دفاتر بند ہیں، امتحانات ملتوی ہوگئے ہیں جبکہ خوف و ہراس کا عالم ہے۔ صورتحال اس قدر خراب ہے کہ زخمیوں کو اسپتال منتقل کرنے والی بین الاقوامی ایمبولینسوں پر بھی حملے ہورہے ہیں۔

بھارتی میڈیا کا کہنا ہے کہ حکومت نے مشیر قومی سلامتی اجیت دوول کو نئی دہلی کی صورتحال کو کنٹرول میں رکھنے کا ٹاسک سونپا ہے جس کے بعد اجیت دوول نے منگل کی رات جعفر آباد، سیلام پور اور دہلی کے متاثرہ شمال مشرقی علاقوں کا دورہ کیا۔

نئی دہلی کی ہائیکورٹ نے شہر میں ہونے والے فسادات پر رات گئے ہنگامی سماعت کی اور پولیس کو شہریوں کا تحفظ یقینی بنانے کی ہدایت کی جبکہ عدالت نے فسادات میں زخمی ہونے والوں کو کسی قسم کی طبی امداد نہیں دی جارہی ، مسلمان سڑکوں پرزخمی پڑے ہیں اوربھارتی میڈیا کومسلمانوں پرتشدد کی ویڈیوزاورخبریں نشرکرنے سے روک دیا گیا ہے

دوسری جانب بھارتی کانگریس کی صدر سونیا گاندھی کا کہنا ہے کہ وزیر داخلہ امیت شاہ کو فرائض میں غفلت برتنے پر برطرف کردینا چاہیے ۔دہلی اور مرکزی حکومت صورتحال پر خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ خوفناک تشدد نے فرقہ وارانہ رخ اختیار کرلیا ہے ۔صدر اپنے اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے صورتحال کنٹرول کریں ۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.