fbpx

بلوچستان کے42پارلیمنٹرینزنےاپنےاوراہلخانہ کےاثاثوں کی تفصیلات الیکشن کمیشن کوجمع نہیں کروائیں۔

کوئٹہ:بلوچستان سے تعلق رکھنے والے 42پارلیمنٹرینزنےاپنےاوراپنے اہلخانہ کے اثاثوں اورواجبات کی تفصیلات الیکشن کمیشن کو جمع نہیں کروائیں،تفصیلات جمع نہ کروانے والے اراکین کی رکنیت پیر کومعطل کردی جائیگی۔

 الیکشن کمیشن نے بلدیاتی انتخابات ملتوی کرنے کا سندھ حکومت کا فیصلہ مسترد کردیا

تفصیلات کےمطابق لیکشن ایکٹ2017کے سیکشن137کےتحت اراکین پارلیمنٹ کو 31دسمبر 2022تک اپنے اور اہلخانہ کے اثاثوں اور واجبات کی تفصیلات الیکشن کمیشن کو جمع کروانی تھیں تاہم بلوچستان سے تعلق رکھنے والے 9سینیٹر ان احمد خان، انوارالحق کاکڑ، مولوی فیض محمد، محمد عبدالقادر، محمد قاسم، مولانا عبدالغفور حیدری، منظور احمد کاکڑ، سعید احمد ہاشمی اور دنیش کمار 9اراکین قومی اسمبلی مولانا عبدالواسع، اسرار ترین، نوابزادہ شاہ زین بگٹی، مولانا عصمت اللہ،قاسم خان سوری، آغا حسن بلوچ، سید محمود شاہ، سردار اختر مینگل، منورہ بی بی نے مالی سال 2021-22کے اثاثوں و اجبات کی تفصیلات الیکشن کمیشن کے پاس جمع نہیں کروائیں۔

یکم فروری تک پارٹی الیکشن نہ ہوئے تو انتخابی نشان واپس لے لیں گے،الیکشن کمیشن

جبکہ بلوچستان اسمبلی کے24 اراکین مولوی نور اللہ، میر نصیب اللہ مری، نوابزادہ گہرام بگٹی، میر سکندر عمرانی، میر عمر خان جمالی، سردار یار محمد رند، عبدالواحد صدیقی، اصغر علی ترین، انجینئر زمرک خان اچکزئی، ملک نعیم بازئی، قادر علی نائل، مبین خلجی، میر عارف جان محمد حسنی، میر نعمت اللہ زہری، میر یونس عزیز زہری، میر اکبر مینگل، میر زابد علی ریکی، میر اکبر آسکانی، جام کمال خان، میر حمل کلمتی، بانو خلیل، زینت شاہوانی، شاہینہ بی بی، ٹائٹس جانسن نے بھی اپنے اور اہلخانہ کے اثاثوں اور واجبات کی تفصیلات الیکشن کمیشن کو جمع نہیں کروائیں۔الیکشن کمیشن آف پاکستان کے حکام کے مطابق 15جنوری تک تفصیلات جمع نہ کروانیوالے پارلیمنٹرینز کی رکنیت پیر 16جنوری سے معطل کردی جائیگی۔

بلدیاتی انتخابات شیڈول کے مطابق ہوں گے. ترجمان الیکشن کمیشن سندھ