fbpx

کورونا وبا:حکومتی اقدامات نہ ہونےکی وجہ سے متھن چکرورتی مودی سرکار پر برس پڑے

ممبئی: بھارتی اداکار متھن چکرورتی نے کہا ہے کہ کورونا وبا کے دوران حکومتی اقدامات نہ ہونے کی وجہ سے لوگوں کی آمدنی بالکل ختم ہوگئی تھی۔

باغی ٹی وی : بالی ووڈ کے لیجنڈری اور سینئر اداکار متھن چکرورتی نے حال ہی میں ایک ٹی وی شو میں شرکت کی اور کورونا وبا کے دوران پیش آنے والی مشکلات کے حوالے سے کھل کر گفتگو کی کہا کہ کووڈ19 کے سبب ان کا ریسٹورنٹ کا کاروبار متاثر ہوا، ایک وقت ایسا تھا کہ کافی کا ایک کپ بھی فروخت نہیں ہوپاتا تھا، کاروبار ختم ہونے کی وجہ سے پیسے آنا بند ہوگئے تھے، جس کی وجہ سے شدید معاشی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

کورونا کا شکارحرامانی کی سابق مینجر کا اداکارہ پرسنگین الزام

اداکار کا کہنا تھا کہ پوری دنیا میں کورونا بحران تاحال برقرار ہے جبکہ بھارتی شہریوں کو وبا کی تیسری لہر کا سامنا ہے، ہر شعبہ اس سے متاثر ہوا ہے،گزشتہ دو سالوں کے دوران وبا سے کئی افراد کی اموات بھی ہوئیں۔

متھن چکرورتی نے کہا کہ کورونا کی وجہ سے مختلف پیشوں سے وابستہ ملازمین کو نوکریوں سے محرومی کا بھی سامنا کرنا پڑا، معاشی معاملات اس قدرمتاثر ہوئے کہ کئی لوگ امیر سے غربت کی لکیر کے نیچے چلے گئے، یومیہ اجرت کمانے والوں کا سوچ کر ہی روح کانپ جاتی ہے۔

سینئر اداکار نے کہا کہ کاروبار تباہ ہونے کی وجہ وبا کے دوران حکومت کے سیاحت کے لیے اقدامات نہ ہونے کو قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر حکومت کی جانب سے ٹوررازم کے لیے اقدامات کیے جاتے تو اس قدر نقصان نہیں ہوتا۔

ارجیت سنگھ اور ان کی اہلیہ کورونا کا شکار

بھارتی میڈیا کے مطابق ماہرین کا خیال ہے کہ ہندوستان میں اس وقت کورونا کی تیسری لہر چل رہی ہے، حالانکہ یہ درست ہے کہ اتار چڑھاؤ کے باوجود تیسری لہر پہلی اور دوسری لہر سے کم خطرناک ثابت ہوئی ہےلیکن پھربھی ایسا نہیں ہونا چاہیےوبا کو ہلکے میں لیاگیا اس دوران میکس ہیلتھ کیئر کی جانب سےکرائے گئے سروے میں کئی اعداد و شمار سامنے آئے ہیں۔ یہ بتاتا ہے کہ موجودہ کورونا کی لہر پہلی اور دوسری لہر سے کس طرح مختلف ہے۔

گلوکارسونو نگم فیملی سمیت کورونا وائرس کا شکار

دراصل میکس ہیلتھ کیئرنےاپنی تحقیق کی بنیاد پر کہا ہے کہ گزشتہ سال اپریل سے مئی کے دوران کورونا سے متاثرہ چار میں سے تین کو آکسیجن کی ضرورت تھی پہلی لہر کے دوران اسپتال میں داخل ہونے والوں میں سے، 63 فیصد مریضوں کو آکسیجن کی سہولت فراہم کی گئی، جبکہ گزشتہ سال دوسری لہر کے دوران 74 فیصد مریضوں کو آکسیجن کی ضرورت تھی پہلی اور دوسری لہر کے مقابلے اس بار صرف 23.4 فیصد مریضوں کو آکسیجن کی ضرورت ہے۔ موجودہ لہر میں، کورونا سے مرنے والوں میں سے 60 فیصد نے یا تو ایک خوراک لی تھی یا انہیں ویکسین نہیں لگائی گئی تھی مرنے والوں میں سے زیادہ تر کی عمریں 70 سال سے زیادہ تھیں اور ان میں سے اکثر ذیابیطس، کینسر، گردے یا دل کی بیماریوں میں مبتلا تھے۔ میڈیا سے بات کرتے ہوئے-

امتحانی پرچے میں سیف اورکرینہ کے بیٹے کا نام پوچھے جانے پرسکول کو شوکاز

بھارتی میڈیا کے مطابق میکس ہیلتھ کیئر کے گروپ میڈیکل ڈائریکٹر سندیپ بدھیراج نے کہا کہ مطالعہ سے دو اہم نکات دیکھے گئے ہیں ایک یہ کہ اس لہر کے دوران ہسپتال میں داخل ہونے والوں کی تعداد بہت کم رہی ہے۔ ایک اور نکتہ یہ ہے کہ دوسری لہر کے دوران ہسپتال میں داخل ہونے والے کل مریضوں میں سے تقریباً 70 سے 80 فیصد کو آکسیجن کی ضرورت تھی جبکہ اس لہر میں کل بھرتی ہونے والوں میں سے صرف 20 سے 30 فیصد کو آکسیجن کی مدد کی ضرورت تھی۔ یہ الگ بات ہے کہ اس بار بھی متاثرہ افراد کی تعداد اتنی ہی ہے لیکن اسپتال میں داخل ہونے والوں کی تعداد پہلی اور دوسری لہر سے بہت کم ہے۔

بھاری معاوضہ مانگنے والے اداکاروں کو کرن جوہر کا چیلنج

دہلی میں دوسری اور تیسری لہر کے دوران روزانہ تقریباً 28 ہزار کیس سامنے آئے۔ اگر اس نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو دوسری لہر کے دوران یعنی گزشتہ سال ہسپتالوں میں روزانہ 2000 مریض آتے تھے جبکہ اس بار صرف 415 مریض ہسپتالوں میں داخل ہوئے کورونا کی پہلی لہر میں اموات کی شرح 7.2 فیصد تھی جو دوسری لہر میں بڑھ کر 10.5 فیصد ہو گئی۔ جبکہ موجودہ لہر میں یہ تعداد 6 فیصد ریکارڈ کی گئی ہے۔ کورونا ویکسینیشن کی وجہ سے اموات میں کمی آئی ہے۔