fbpx

لاہور: فضائی آلودگی میں خطرناک حد تک اضافے کی روک تھام کیلئے 5 ’اینٹی سموگ سکواڈز‘ تشکیل

لاہور کی ہوا کو سموگ نے گھیر لیا ہے شہریوں کو زہریلی دھند، آنکھوں میں جلن، اور سانس لینے میں دشواری کا سامنا ہے ائیر کوالٹی انڈیکس میں آلودگی 343 پوائنٹس کی خطرناک حد تک جا پہنچی ہے-

باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق آلودگی کے عالمی انڈیکس میں فضائی آلودگی کے اعتبار سے لاہور ایک بار پھر پہلے نمبر پر آ گیا شہر میں سب سے زیادہ فضائی آلودگی گلبرگ کے علاقہ میں 446 پوائنٹس ریکارڈ کی گئی دوسرے نمبر پر 430اے کیو آئی کے ساتھ ٹاون شپ، جبکہ بحریہ413 پوائنٹس کے ساتھ تیسرے نمبر پر ہے جامعہ پنجاب میں 409، انارکلی بازار میں 404 اے کیو آئی ریکارڈ کی گئی۔

دوسری جانب محکمہ ماحولیات اور ضلعی انتظامیہ نے اسموگ کے باعث کارروائیاں تیز کر دی ہیں تیس دنوں میں48 صنعتی یونٹس اور 13 بھٹے سیل کئے گئے ہیں اور محکمہ ماحولیات نے محکمہ ٹرانسپورٹ کے ساتھ ملکر آلودگی کا سبب بننے والی3 ہزار سے زائد گاڑیوں کے چالان کئے ہیں۔
آلودگی
جبکہ ضلعی انتظامیہ نے شہر میں آلودگی کی سطح کو مانیٹر کرنے اور مضر صحت ہوا کے معیار کے انڈیکس میں اضافے کا باعث بننے والے عناصر کے خلاف کارروائی کے لیے 5 ’اینٹی سموگ سکواڈز‘ تشکیل دے دیئے ہیں-

ذرائع کے مطابق کمشنر کیپٹن (ر) محمد عثمان نے ایک اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے اینٹی اسموگ اسکواڈز کی تشکیل کے احکامات جاری کئے ہیں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کمشنر کیپٹن (ر) محمد عثمان نے کہا کہ انسداد اسموگ اسکواڈز میں محکمہ ماحولیات، میٹروپولیٹن کارپوریشن لاہور، واٹر اینڈ سینی ٹیشن ایجنسی (واسا)، پولیس، ضلعی انتظامیہ اور لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی (لیسکو) کے افسران شامل ہوں گے۔

دوسری جانب ڈی سی چٹھہ نے انسداد اسموگ اسکواڈز کی تشکیل کا نوٹیفکیشن جاری کیا نوٹیفکیشن ڈپٹی ڈائریکٹر (ماحولیات) اسکواڈز کے فوکل پرسن ہوں گے اور انسپکٹر (ماحولیات) ان کی قیادت کریں گے ہر اسکواڈ ایک ہفتے میں 60 صنعتی (فرنس/بوائلر) یونٹس کا دورہ کرے گا اور غیر معیاری ایندھن استعمال کرنے یا دھواں پیدا کرنے والے صنعتی یونٹس کو سیل کرے گا۔

ںوٹیفیکیشن کے مطابق اسکواڈ آلودگی کی نگرانی کرنے والے آلات کی حالت اور جوڈیشل انوائرمنٹل کمیشن کے اقدامات کی تعمیل کی جانچ کریں گے جبکہ ٹھوس/سبز فضلہ کو جلانے والوں کو جرمانہ کیا جائے گا بلڈنگ بائی لاز کی خلاف ورزی، پانی کے کنکشن کے غلط استعمال اور بجلی چوری کا بھی معائنہ کیا جائے گا اور غیر معیاری ایندھن اور نان آپریٹو اسکربرز اور ایمیشن کنٹرول یونٹس استعمال کرنے والوں کو سزا دی جائے گی۔

واضح رہے کہ اس سے قبل پنجاب کے وزیر ماحولیات محمد رضوان کے ایک نجی ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے دعوی کیا تھا کہ صوبے میں گزشتہ 2 برس سے کوئی اسموگ نہیں ہے میں صحافیوں سمیت اپنے تمام دوستوں کو بتانا چاہتا تھا کہ وہ نہیں جانتے کہ ہوا کے معیار کے مانیٹر کو کیسے ٹھیک کرنا ہے حکومت تمام لوگوں کو ہوا کے معیار کے بارے میں آگاہ کرنے کے لیے ایک منصوبہ شروع کر رہی ہےمحکمہ ماحولیات نے لاہور کے فضائی معیار کا انڈیکس 134 پر ریکارڈ کیا جب کہ ٹاؤن ہال کا درجہ 192 اور ماڈل ٹاؤن میں 186 ہے۔

Facebook Notice for EU! You need to login to view and post FB Comments!