fbpx

امریکا سمیت 5 جوہری طاقتوں کا ایٹمی جنگوں سے گریز کرنے پراتفاق

ماسکو: روس، چین، برطانیہ، امریکا اور فرانس نے جوہری ہتھیاروں اور ایٹمی جنگوں سے گریز کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

باغی ٹی وی :روسی ایوانِ صدر کریملن کے مطابق جوہری ممالک نے مشترکہ بیانات جاری کیے جس میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ ہم پر اولین ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ آپس میں جنگ سے بچا جائے اور مل کر عالمی سطح پر سیکورٹی کی فضا قائم کی جائے۔

بیانات میں یہ بھی کہا گیا کہ اگر جنگ ہوئی تو اس میں جیت کسی کی نہیں ہوگی۔ ایسی جنگ کا کبھی بھی آغاز نہیں ہونا چاہیے اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ جوہری ہتھیاروں کے استعمال کے نتائج تباہ کُن ہیں۔ جب تک یہ موجود ہیں ان کا استعمال دفاع کیلئے، جارحیت اور جنگ کو روکنے کیلئے کیا جانا چاہیے۔

واضح رہے کہ ممالک کے درمیان مذکورہ بالا اتفاق ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب یوکرین سرحد پر نیٹو فوجی تنصیبات میں مصروف ہے جس کی وجہ سے روس اور امریکا کے تعلقات میں انتہائی کشیدگی پائی جاتی ہے۔

دوسری جانب امریکی صدر جوبائیڈن نے صدر ولادیمیر زیلینسکی کو ٹیلی فونک گفتگو میں یقین دلایا ہے کہ اگر روس نے یوکرائن پر حملہ کیا تو روس کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کریں گےعالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی صدر جوبائیڈن نے یوکرائن کے صدر ولادیمیر زیلینسکی سے ٹیلی فونک گفتگو میں روسی جارحیت کیخلاف اپنی بھرپور حمایت کا یقین دلایا۔

یمن کے نزدیک بحری جہاز پر حملے کی اطلاعات ہیں :خطے میں کچھ ہونے جارہا ہے: برطانوی بحریہ

امریکی صدر نے اپنے یوکرائنی ہم منصب سے کہا کہ اگر روس نے یوکرائن پر حملہ کیا تو اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر روس کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کریں گے-

چند روز قبل امریکی صدر جوبائیڈن نے اپنے روسی ہم منصب سے بھی ٹیلی فون پر بات چیت میں خبردار کیا تھا کہ کسی بھی قسم کی جارحیت کی صورت میں امریکا اور نیٹو یوکرائن کی مدد کریں گے۔

قبل ازیں جانب روسی صدر ولادیمیر پوٹن نے بھی دھمکی دی تھی کہ مغربی ممالک ہماری دہلیز پر جارحیت کے بارے میں نہ سوچیں ورنہ نتائج اچھے نہیں ہوں گے –

واضح رہے کہ روس نے سویت یونین کے ٹوٹنے کے بعد یوکرائن کے ایک حصے پر قبضہ کرلیا تھا اور اب یوکرائن کو دفاعی اتحاد نیٹو کی رکنیت دینے پر سیخ پا ہے۔

بغداد میں قاسم سلیمانی کی برسی پرامریکی ڈرونز کا حملہ:دوڈرون مارگرائے گئے

ادھر روس کے رہنما اب بھی سوویت یونین کے خاتمے کے اثرات سے نکلنے میں کامیاب نہیں ہو پائے۔ گذشتہ ماہ روسی صدر ولادیمیر پوتن نے کہا تھا کہ سوویت یونین کے خاتمے کے تین دہائیوں بعد بھی یہ سانحہ روسی عوام کے دلوں میں زندہ ہے ہم جسے سوویت یونین کہتے ہیں وہ تاریخی روس تھا۔‘ پوتن کی جانب سے یہ بیان ایک ایسے موقع پر سامنے آیا جب سوویت یونین کا حصہ یوکرین اب روس کی جانب سے حملے کے خطرے سے دوچار ہے۔

سوویت یونین کے خاتمے کے بعد سرد جنگ کا اختتام ہوا اور کوئی بھی ایسا ملک نہ بچا جو امریکی اجارہ داری کا مقابلہ کر سکے اس وقت یہ کہا گیا تھا کہ دنیا اب ایک ہی ملک میں رائج نظام کے تحت چلے گی۔ تاہم اب ایک نئی سرد جنگ شروع ہونے جا رہی ہے۔ اس مرتبہ امریکہ کا مقابلہ روس نہیں چین کر رہا ہےچین نے اب تک اس ممکنہ یا ‘جاری‘ سرد جنگ کے بارے میں جو بھی کہا ہے یہ صرف امریکہ کے لیے ایک چیلنج نہیں سمجھا جا رہا بلکہ اسے روس کے پرانے زخموں پر نمک چھڑکنے جیسا بھی کہا جا رہا ہے۔

یمن : مارب کے مغرب اور جنوب میں لڑائی کا دوبارہ آغاز، حوثیوں کا حملہ پسپا

امریکہ میں چین کے سفیر چن گانگ نے گذشتہ پیر کو ایک پریس بریفنگ میں کہا تھا کہ اگر نئی سرد جنگ جاری ہے تو چین سوویت یونین نہیں ہے جو ہار جائے گا چن گانگ نے امریکہ کو تنبیہ بھی کی کہ وہ تائیوان کے معاملے میں احتیاط سے کام لے کیونکہ یہ تنازع دونوں ممالک کو آمنے سامنے لا سکتا ہے۔

چن گانگ کا یہ بھی کہنا تھا کہ امریکہ کے ساتھ جوہری مذاکرات ہونا بہت مشکل ہیں کیونکہ چین کے جوہری ہتھیار امریکہ کے مقابلے میں بہت کم ہیں چن گانگ کا بیان 24 جنوری کو چینی سفارت خانے کی جانب سے بھی شائع کیا گیا تھا۔ انھیں گذشتہ سال جولائی میں امریکہ میں چین کا سفیر بنایا گیا تھا۔

گلوان وادی سے چینی فوج کیجانب سے نیو ایئر پر جاری ویڈیو نے بھارتیوں کو آگ بگولہ…

ان کے بیان کی تفصیل کچھ یوں ہے ایسا کیوں لگتا ہے کہ نئی سرد جنگ واپس آ رہی ہے؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ امریکہ میں کچھ لوگ سرد جنگ کی ذہنیت کا شکار ہیں اور چین کے ساتھ سوویت یونین جیسا سلوک کر رہے ہیں۔ لیکن چین سوویت یونین نہیں ہے اور امریکہ وہ نہیں جو 30 سال پہلے تھا لہٰذا دونوں ممالک کا پرامن انداز اپنانا ہی وسیع تر مفاد میں ہے۔

چن گانگ کا مزید کہناتھا کہ ‘چین نے سوویت یونین کے ٹوٹنے کی وجوہات کا بغور جائزہ لیا ہے اور اس سے سبق سیکھا ہے انھوں نے کہا کہ ‘چین کی کمیونسٹ پارٹی سوویت یونین کی طرح ضدی نہیں ہے۔ امریکہ اب چین کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے جبکہ چین میکسیکو اور کینیڈا کے بعد امریکہ کا تیسرا بڑا تجارتی شراکت دار ہے رواں سال دونوں ممالک کی باہمی تجارت 700 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئی ہے-

صیہونی جنگی طیاروں کی غزہ پر بمباری:عالمی برادری خاموش:فلسطینیوں کی عمران خان سے…

Facebook Notice for EU! You need to login to view and post FB Comments!