fbpx

5 جولائی یومِ سیاہ کا ڈھونگ تحریر: فیصل خالد

ذوالفقار علی بھٹو کی بنائی ہوئیPPP فقط چُوں چُوں کا مربہ پارٹی تھی
اس میں اسلام،سوشلزم،جمہوریت اور لادینیت کے تمام اجزاء شامل تھے
بلاشبہ بھٹو جینئیس تھا لیکن زیادہ تر معاملات میں اِیول جینئیس تھا
وہ جینئیس تھا تو صرف اس حوالے سے کہ وہ لوگوں کو جمع بھی کر سکتا تھا اور انہیں کسی نکتے پر مائل بھی کر سکتا تھا
یہی وجہ ہے کہ اس نے پی پی پی کے بے تُکے منشور پر سیاستدان بھی جمع کر لیے تھے اور اسلام کا تڑکہ لگانے کیلیے مولانا کوثر نیازی جیسے مولوی بھی ساتھ ملا لیے تھے

یہ بھٹو کی منفی لیکن طلسماتی شخصیت اور اس کے جاہلانہ منشور کا کمال ہے کہ پی پی کو ضیاء جیسا اسلام پسند اور الطاف حسین جیسا دہشت گرد بھی ختم نہ کر سکے
بھٹو نے پی پی میں جو مفاد پرست لوگوں کی زیریں غلام قیادت ترتیب دی تھی اس نے بھی ذاتی مفاد پرستی کا حق ادا کر دیا
بھٹو کے دربارِ منافقت میں وڈیرے،تعلیم یافتہ افراد مزدور جب پہنچے تو سبھی ایک ہوئے

سب جونکوں کی طرح اپنی اپنی جگہ کو چاٹنے میں مصروف رہے
کسی کو صف اول کی قیادت اور بھٹو کا متبادل بننے کی فکر نہیں تھی کہ پی پی کے سیاسی عمل کو آگے بڑھایا جاسکے

یہی وجہ ہے کہ بھٹو کی پی پی کا سیاسی عمل اس کی پھانسی کے بعد جمہوریت سے موروثیت کی شکل اختیار کر گیا

جمہوریت کیلیے شعور و قابلیت درکار ہوتی ہے جبکہ موروثیت کیلیے لا شعور اور جاہلیت مطلوب ہوتی ہے
چنانچہ بھٹو کی پیدا کی ہوئی جہالت نے پی پی کو سیاسی سے زیادہ موروثی طور پر مستحکم کیا
پی پی کی موروثیت کو بے نظیر نے خوب استعمال کیا،
بھٹو کے نام کا مکمل فائدہ اٹھایا

پھر بے نظیر کے قتل کے بعد زرداری نے موروثیت کی گاڑی کو جہالت کے دو پہیے بے نظیر کو "شہید” کہہ کر اور بلاول زرداری کو "بھٹو” کہہ کر دیے اور خود جئے بھٹو کا اسٹئرنگ سنبھال کر چلانے لگا

یہی مرحلہ پی پی کی تباہی کا آغاز تھا

پی پی میں جن کو بزرگ سیاستدان کہا جاتا ہے ان کی حیثیت خاندان کے بوڑھے ملازم،مالی یا خانسامے سے زیادہ نہیں۔اور نہ ہی ان میں سیاسی شعور ہے۔
وہ کل وقتی لٹیرے تھے اور لٹیرے ہی رہے۔
کسی کو پی پی کے سیاسی حوالے کی فکر نہ رہی۔
یہی وجہ ہے کہ وہ بزرگ ملازم اور جیالے زرداری سے موہوم اختلاف کے باوجود پی پی کے نام سے لوٹ مار کرتے رہے۔
ورنہ پی پی 50 سال کے بعد سندھ تک محدود نہ ہوتی۔

پی پی کو موروثیت نے تباہ کر دیا

نصرت بھٹو کی رفاقت،بے نظیر کی ذہانت اور زرداری کی شاطرانہ خیانت نے پی پی کو محدود سہی لیکن زندہ ضرور رکھا ہوا ہے۔

اب نصرت کی رفاقت اور بے نظیر کی ذہانت ختم ہو گئیں۔

زرداری کی دلیرانہ اور شاطرانہ قیادت کے ختم ہونے کی صورت میں بلاول کی مخنثانہ اور مضحکہ خیز قیادت پی پی کو مکمل تباہی سے ہمکنار کرنے کو ہمہ وقت تیار ہے۔
کیونکہ بلاول کے پاس اس کی انفرادی حیثیت میں بے نظیر جیسی ذہانت ہے نہ زرداری جیسی خباثت

ابھی بھی پی پی کے برائے نام سیاستدانوں کیلیے موقع ہے کہ وہ "مرد ” بنیں، آگے آئیں۔
پارٹی قیادت پر سوال اٹھائیں اور پارٹی کو موروثیت سے سیاست و جمہوریت کی راہ پر گامزن کریں۔
خود بھی جیالے پن سے نکل کر سیاسی کارکن بنیں۔

یقین جانیے بلاول کی طفلانہ، مخنثانہ اور جاہلانہ "حرکات” وہ آگ ہیں جو زرداری کی موت کے فوراً بعد پارٹی کو جلا کر بھسم کر دیں گی

"اس گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے”